سیاسی، عسکری اور عدالتی قیادت میں فوری طورپر مذاکرات ضروری 

سیاسی، عسکری اور عدالتی قیادت میں فوری طورپر مذاکرات ضروری 

  



اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)فوری طور پر ملکی سیاسی و عسکری اور عدالتی قیادت کے درمیان مذاکرات ہونے چائیں۔ملک کے استحکام اور ترقی کیلئے ضروری ہے کہ تمام قومی ادارے اپنی اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کریں اور ان سے تجاوز نہ کریں مقررّین نے یہ بات آج معروف دانشور اور سابق آئی جی ذوالفقار احمد چیمہ کی کتاب ”Straight Talk“کی تقریب رونمائی کے موقع پر کہی، انکا کہنا تھا کہ یہ کتاب ہر فرداور ہر ادارے کیلئے راہنمائی فراہم کرتی ہے، اسمیں نہ صرف اہم ملکی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے بلکہ انکا حل بھی بتایا گیاہے، یہ ہر پڑھے لکھے شخص خصوصاًاساتذہ، سیاستدانوں،اور سرکاری افسروں کو ضرور پڑھنی چائیے بلکہ اسے نصاب میں شامل کیا جانا چایئے۔مقر رّین نے کہا کہ تحریرمیں روانی اور شگفتگی ہے اور کئی مضامین میں اعلیٰ پائے کا طنزو مزاح بھی ملتاہے،تقریب کی صدارت سابق چیئرمین سینٹ بیرسٹر وسیم سجاد نے کی اور سابق سپیکر سردار ایاز صادق اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس سردارمحمد اسلم مہمانانِ خصوصی تھے اور اس سے سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس، سابق سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر)نعیم خالد لودھی، سابق سفیر عبد الباسط اور سابق چئیرمین پیمرا کمال الدین ٹیپو نے خطاب کیا۔ تقریب میں بڑی تعداد میں خواتین و حضرات نے شرکت کی۔سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد نے کہا کہ ذوالفقار چیمہ اپنی ایمانداری اور اصول پسندی برقرار رکھتے ہوئے اعلیٰ عہدوں تک پہنچے جو نوجوان افسروں کیلئے ایک امید افزاپیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب ہر طبقہ فکر کیلئے رہنمائی فراہم کرتے ہے۔ سابق سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ ذوالفقار چیمہ ملک کے انتہائی قابل اور با کردار سول سرونسٹس میں شامل ہیں، انہیں ملک کے مختلف طبقوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس سردارمحمد اسلم نے کہاکہ مصنف کے باقی دو بھائی بھی انتہائی پاکیزہ کردار لوگ ہیں۔ انہیں یہ تربیّت، روشنی اور طاقت انکی والدہ محترمہ سے ملی ہے۔ سابق سیکرٹری خارجہ اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جلیل عباّس جیلانی نے کہا کہ کتاب میں مصنّف کے کردار کی سچائی نظر آئی ہے۔ سابق سیکرٹری دفاع (ر) لیفٹیننٹ جنرل نعیم خالد لودھی نے کہاکہ یہ کتاب ایک با کردار سول سرونٹ نے لکھی ہے اسلئے یہ اندھیروں میں روشنی کی کرن کی مانند ہے جس سے راہنمائی لی جاسکتی ہے۔بھارت میں پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے کہا مصنف نے درست لکھا ہے کہ ملک سے باہر سیاسی پارٹیوں کے دفتر اور تنظیمیں نہیں ہونی چاہیں اسوقت ملک کو ایک گرینڈ ڈائیلاگ کی سخت ضرورت ہے۔سابق آئی جی اور چیئرمین پیمرا کمال الّدین ٹیپو نے کہا ذوالفقار چیمہ شروع سے ہی ایک دیانتدار بہادر پولیس افسر رہے ہیں۔ اس موقع پر مصنف نے کہا کہ نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر کو حکومتی کنٹرول سے باہر ہونا چاہیے۔ بیرون ملک کوئی سیاست بازی نہیں ہونی چاہیے۔ اعلی عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی ایک شخص کی صوابدید نہیں بلکہ سرچ کمیٹی یا جوڈیشل سروس آف پاکستان کے ذریعے ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا سویلین بالادستی قائم کرنے کے لئے جس کردار، قابلیت اور جرات کی ضرورت ہے اسکا  ہماری سیاسی قیادت میں فقدان ہے۔

مذاکرات ضروری

مزید : صفحہ آخر