تھانہ کلچر کی تبدیلی برائے نام، پولیس افسر و اہلکار قانون شکن بن گئے

تھانہ کلچر کی تبدیلی برائے نام، پولیس افسر و اہلکار قانون شکن بن گئے

  



لاہور(رپورٹ: یو نس باٹھ)موجودہ حکومت میں تھانہ کلچر کی تبدیلی برائے نام، قانون کے رکھوالے، افسران و اہلکار خود قانون شکن نکلے۔پنجاب پولیس میں اصلاحات اور ان کے نتائج سے متعلق حکومتی دعوؤں کے برعکس گزشتہ ڈیڑھ سال میں پولیس اہلکاروں نے جرائم پیشہ افراد کے ساتھ ملی بھگت سے 90 ملزمان کوحراست سے فرار کرایا اور 55 افراد کو حراست کے دوران موت کے گھاٹ اتار ا گیا۔ تقریبا 70ہزارپولیس افسران و اہلکار مختلف نوعیت کے جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ایک مبینہ رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ سال کے دوران کانسٹیبل سے ڈی ایس پی سطح کے 42 ہزار 182 پولیس افسران و اہلکار جرائم میں ملوث نکلے ہیں۔ پنجاب پولیس ڈسپلن برانچ کی ڈیڑھ سالہ مبینہ رپورٹ کے مطابق 112 ڈی ایس پی، 2ہزار 110انسپکٹرز اور 5ہزار 313 سب انسپکٹرز مختلف جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ مبینہ رپورٹ کے مطابق 10ہزار 145 اسسٹنٹ سب انسپکٹرزجب کہ32ہزار 150 ہیڈ کانسٹیبلز اور کانسٹبیلز نے مختلف جرائم کیے ہیں۔گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران 36 پولیس افسر اور اہلکار غیرقانونی تشدد میں ملوث پائے گئے جبکہ کانسٹیبل سے ڈی ایس پی تک 812 ملازمین کرپشن میں ملوث نکلے ہیں۔مبینہ رپورٹ کے مطابق 8ہزارملازمین نے نوکری میں غفلت اور لاپرواہی برتی جبکہ 417 نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔2018 سے 2019 کے دوران پولیس اہلکاروں کے خلاف سنگین نوعیت کے 811مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ڈیڑھ سال کے دوران اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پنجاب پولیس نے 88عام شہریوں کوغیرقانونی قید میں رکھا اور دادرسی کے لیے آنے والے 102 سائلین کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔تاہم افسران بالا کا کہنا ہے کہ بہت سے مقد مات کا اندراج معزز عدالتوں کے حکم پر درج کر نا پڑتے ہیں جو بعد ازاں اصل حقائق سامنے آنے پر زیادہ تر خارج ہو جاتے ہیں۔

تھانہ کلچر / تبدیلی

مزید : صفحہ آخر