جناح ہسپتا لایم ایس کی تعیناتی میں تاخیر، خریداری میں گھپلے، ٹھیکیدار کی موجیں 

  جناح ہسپتا لایم ایس کی تعیناتی میں تاخیر، خریداری میں گھپلے، ٹھیکیدار کی ...

  



لاہور (جاویداقبال) جناح ہسپتال لاہور میں مستقل بنیادوں پر ایم ایس کی تعیناتی عمل میں نہ آسکی، ہسپتال مسائل کی آماجگاہ بن گیا۔سابق ایم ایس کواپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے 6 ماہ ہو چکے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قائم مقام ایم ایس ڈاکٹر افتخار جونیئر ہیں اور انہیں حکومتی سفارش پر تعینات کیا گیا ہے جبکہ3 لوگوں کو اہم سیٹوں پر تعینات کر کے میرٹ کا جنازہ نکال دیا گیا۔ یہ انکشافات وزیراعلی کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کیے گئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مستقل ایم ایس کی تعیناتی کیلئے دو مرتبہ انٹرویو کئے گئے مگر انٹرویو میں نہ تو ڈاکٹر افتخار امیدوار کے طور پر پیش ہوئے اور نہ ہی ان کی جگہ کسی کامیاب امیدوار کو ایم ایس لگایا جا سکا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ وزیر صحت کے پرائیوٹ پی ایس او ہیں جو کہ ڈاکٹر افتخار کے سرپرست اعلیٰ ہیں اور جنا ح ہسپتا ل میں مستقل ایم ایس کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایم ایس کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ مین میڈیکل سٹوروں میں زیادہ تر ادویات ختم ہو چکی ہیں۔ بعض غیر معیاری ادویات مہنگے داموں خریدی گئیں، مین سرجیکل سٹور میں بھی میڈیکل کے سازوسامان نہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ گورکھ دھندا ایم ایس کی طرف سے جونیئر ترین گائی گئی  چیف فارمسسٹ کی ملی بھگت سے ہوا ہے جس نے ایل پی یعنی لوکل پرچیز کے ٹھیکیداروں کو نوازنے کے لیے بلک پرچیز کو دبا کر رکھا یہی وجہ ہے کہ آج ہر وارڈ کے اندر ادویات ختم ہونے کا پوسٹر آویزاں کیا گیا ہے رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صفائی کے ٹھیکیدار نے کاغذوں میں 400 ورکرز ظاہر کر رکھے ہیں اور خزانے سے ماہانہ ایک کروڑ روپے کے قریب تنخواہ  وصول کرتا ہے اور موقع پر صرف سو ورکز کام کر رہے ہیں۔ یہ پیسہ بھی صفائی کے ٹھیکیدار اور مبینہ طور پر ایم ایس اور اس کے کارندوں  کے درمیان تقسیم ہوتا ہے۔

ایم ایس تعیناتی

مزید : صفحہ آخر