پاکستان کی سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی سے مسلم ممالک استفادہ کریں: فواد چودھری 

پاکستان کی سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی سے مسلم ممالک استفادہ کریں: ...

  



جدہ (محمد اکرم اسد) وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد حسین چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان نے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کی ہے اور ہم چاہیں گے کہ ہمارے تجربات سے مسلم ممالک استفادہ کریں، اسلام آبا د میں ایک اعلی سائنس و ٹیکنالوجی یونیورسٹی بنا رہے ہیں جس میں روبوٹکس،ڈرون اور مصنوعی ذہانت جیسے موضوعات میں تعلیم کیساتھ ساتھ ریسرچ کی سہولیات دی جائیں گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جدہ میں اسلامی ترقیاتی بینک اور ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز فورم کے زیر اہتمام سائنس ڈپلومیسی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مسلم ممالک کے سائنسدان اور سائنسی منتظمین شرکت کررہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلامی ترقیاتی بینک کی جانب سے سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے500 ملین ڈالر کا فنڈ کا قیام ایک مثبت قدم ہے اور اس سے اسلامی ممالک کے مابین سائنس و ٹیکنالوجی اور سائنسی تعاون کو فروغ ملے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان نئی ٹیکنالوجی میں اپنی دریافتوں کے حوالے دنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں۔انھوں نے کہاکہ پاکستان کونسل فار سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کو دوبارہ ایک فعال ادارہ بنایا جارہا ہے تاکہ وہ تحقیق وترقی میں فعال کردار ادا کرسکے۔ انھوں نے معیشت کے ڈیجیٹلا ئزیشن کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی ترقیاتی بینک اس حوالے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی سہولیات کو مسلم ممالک میں پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ باہمی روابط کو بڑھایا جاسکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ او آئی سی کے ممبر ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی کے روابط بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انھوں نے تجویز دی کہ سائنس مینیجرز، سائنسدان اور خارجہ پالیسی کے ماہرین پر مشتمل بین الحکومتی ٹیمیں بنائی جائیں، جوسائنس و ٹیکنالوجی تعاون کے معاہدوں کو فعال کرنے کیلئے تجاویز دیں اور اہداف کے حصول میں پیشرفت کی نگرانی کریں۔بعد ازاں وفاقی وزیر نے سوال و جواب کے سیشن میں حصہ لیا۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ وزیر اعظم پاکستان کی ہدایات کے تحت ایک ٹیکنالوجی پارک بنایا جارہا ہے جو کہ سائنس و ٹیکنالوجی اور ریسرچ کو فروغ دے گا۔

فواد چودھری

مزید : صفحہ آخر


loading...