پرویز مشرف کو سزائے موت

پرویز مشرف کو سزائے موت

  



منگل کے روز خصوصی عدالت نے آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی پر قائم سنگین غداری کیس میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو سزائے موت سنادی، عدالت نے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ سابق آمر پر آئین توڑنے کا جرم ثابت ہوگیا، پرویز مشرف نے 3نومبر 2007ء کو آئین پامال کیا، ان پر آرٹیکل 6 کے تحت جرم ثابت ہوتا ہے اور پھانسی دینے کا حکم دیا جاتا ہے۔ 3رکنی بنچ میں سے 2 ججز نے اس فیصلے کی حمایت جبکہ ایک نے مخالفت کی۔ اس سے قبل سماعت کے دوران خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو بیان ریکارڈ کرانے کا ایک اور موقع دینے کی ان کے وکیل کی استدعا مسترد کی۔ جسٹس سیٹھ وقار نے ریمارکس دئیے کہ عدالت نے موقع فراہم کیا، اب وہ وقت گزرگیا، آپ کو سن لیا، آپ کا شکریہ! اشتہاری کا کوئی حق نہیں ہوتا جب تک وہ عدالت کے سامنے سرنڈر نہ کرے۔ منگل کے روز ہی فیصلے سے قبل دوران سماعت پراسیکیوٹر علی ضیاء باجوہ کی جانب سے عدالت میں 3 درخواستیں دائر کی گئیں۔ حکومت کی جانب سے سنگین غداری کیس میں مزید افراد کو ملزم بنانے کی درخواست دی گئی کہ حکومت سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور زاہد حامد کو ملزم بنانا چاہتی تھی۔ جج صاحبان نے درخواست یہ کہہ کر مسترد کردی کہ ساڑھے تین سال بعد ایسی درخواست آنے کا مطلب ہے کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں، مقدمہ حتمی دلائل کیلئے مقرر تھا تو نئی درخواستیں آگئیں۔معزز جج صاحبان نے مشرف کا ساتھ دینے والوں کے خلاف حکومت کو نیا مقدمہ درج کرنے کا مشورہ دیا اور عدالت نے حکومتی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے مقدمے کا فیصلہ سنادیا۔

عدالتی فیصلے کے چند گھنٹے بعد پاک فوج کا اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس بلایا گیا۔ اس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ پرویز مشرف غدار نہیں ہوسکتے، کیس میں آئینی تقاضے پورے نہیں ہوئے، نہ دفاع کا حق دیا گیا، اس فیصلے پر افواج پاکستان میں شدید غم و اضطراب پایا جاتا ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق پرویز مشرف آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور صدر پاکستان رہ چکے ہیں، انہوں نے 40 سال سے زائد پاکستان کی خدمت کی اور ملک کے دفاع کیلئے جنگیں لڑی ہیں، وہ کسی صورت بھی غدار نہیں ہوسکتے۔ پاک فوج کے ترجمان کے مطابق عدالتی کارروائی شخصی بناء پر کی گئی اور کیس کو عجلت میں نمٹایا گیا لہٰذا افواج پاکستان توقع کرتی ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو آئین پاکستان کے تحت انصاف دیا جائے گا۔اس کے بعد رات گئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی، ان کا کہنا تھا پرویز مشرف کا کیس ’اوپن اینڈ شٹ‘ تھا، انہوں نے کہا عدل کریں تو کسی کا خوف نہیں ہوتا، کئی موقعوں پر لالچ دیا گیا، اہم عہدوں کی پیشکش ہوئی، ان کا کہنا تھا دانا ڈالا جاتا ہے لیکن میں نے دانا نہیں چگا۔

جنرل (ر) پرویز مشرف 12 اکتوبر 1999ء کو نواز شریف کی منتخب حکومت کا دھڑن تختہ کر کے اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوئے۔ ان کے ابتدائی دور میں ان کا نعرہ تھا کہ وہ معاشرے کے تمام کرپٹ عناصر خصوصاً سیاستدانوں کا احتساب کریں گے پھر پرویز مشرف کے اقتدار کو طول دینے کیلئے سیاستدانوں کے ساتھ کی ضرورت محسوس کی گئی۔ 2002ء میں الیکشن کروائے گئے، اس دوران 9/11 سانحہ بھی رونما ہوگیا۔ پاکستان امریکی اتحاد کا حصہ بن گیا اور ڈالروں کی ریل پیل شروع ہوگئی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پرویز مشرف کی جانب سے کیے گئے فیصلوں کا پاکستانی قوم کو معاشرتی اعتبار سے آنے والے سالوں میں بہت بھاری خمیازہ بھگتنا پڑا لیکن اس بات سے بھی انکا رنہیں کیا جاسکتا کہ معاشی اعتبار سے مشرف کے دور میں پاکستانیوں نے قدرے سکھ کا سانس لیا۔

تمام فوجی آمروں کی طرح پرویز مشرف کو بھی اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے طرح طرح کے پاپڑ بیلنے پڑے، یہاں تک کہ وہ دو مرتبہ آئین توڑنے والے پہلے ڈکٹیٹر بن گئے۔ 12 اکتوبر 1999ء کے اقدام پر تو پارلیمنٹ نے مہر لگادی تھی لیکن دوسری مرتبہ پرویز مشرف اتنے خوش قسمت ثابت نہ ہوئے۔ 3نومبر 2007ء کو ایمرجنسی لگائی گئی تو پاکستانی جج اور عوام اُن کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک طویل تحریک چلی، جمہوری حکومت وجود میں آئی، نتیجتاً چیف جسٹس افتخار چودھری کو ان کے عہدے پر بحال کیا گیا اور پرویز مشرف کو اقتدار کے ایوانوں سے رخصت کردیا گیا۔ 2013ء میں نواز شریف اقتدار میں آئے تو سول حکومت نے عدالتوں میں مشرف کا تعاقب شروع کردیا۔نومبر 2013ء میں پرویز مشرف پر 2007ء میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر مقدمہ دائر کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت میں سماعت کے لیے 5 ججوں کا انتخاب کیا۔ فروری 2014ء میں پرویز مشرف 22 سماعتوں پر عدم پیشی کے بعد خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ 30 مارچ 2014ء کو پرویز مشرف پر فرد جرم عائد کردی گئی۔ اس کے بعد پرویز مشرف بیمار ہوگئے اور علاج کے لیے باہر جانے کی طویل جدوجہد شروع ہوئی۔ بالآخر 18مارچ 2016ء کو انہیں علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت مل گئی، انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ وہ واپس آکر مقدمے کا سامنا کریں گے۔ متعدد نوٹسز کے بعد بھی وہ پیش نہ ہوئے تو مئی 2016ء میں خصوصی عدالت نے انہیں مفرور قرار دے دیا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی کی سماعت سے معذرت کے بعد اپریل 2018ء میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے دوبارہ بنچ تشکیل دیا۔ کیس چلتا رہا، مشرف عدالت کے سامنے پیش نہ ہوئے۔ تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو اس مقدمے میں حکومت کی دلچسپی ختم ہوگئی۔ بلکہ یہی نہیں، اس مقدمے کو مزید طول دینے کی کوششیں بھی شروع کردی گئیں۔ اکتوبر 2019ء میں تحریک انصاف کی حکومت نے ن لیگ کی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ پوری پراسیکیوشن ٹیم برطرف کردی۔ خصوصی عدالت نے فیصلہ سنانے کے لیے 28 نومبر 2019ء کا دن مقرر کیا لیکن حکومت نے اس فیصلے کو روکنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومتی درخواست قبول کی لیکن خصوصی عدالت کے ججز نے واضح کیا کہ یہ عدالت سپریم کورٹ کے خصوصی احکامات کی روشنی میں قائم کی گئی اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ اس طرح بالآخر 17 دسمبر 2019ء کو اس مقدمے کا فیصلہ سنادیا گیا۔ اس تفصیل سے اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ 6 برس کے دوران عدالت نے پرویز مشرف کو اپنے دفاع کے کئی مواقع فراہم کیے لیکن ان سے فائدہ نہ اُٹھایا گیا۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایک کمانڈر اور ایک فوجی کے طور پر پرویز مشرف کی پاک فوج کے لیے بہت سی خدمات ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کی کئی دہائیاں اس ادارے کے لیے وقف کردیں لیکن دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ دو مرتبہ آئین توڑنے جیسے سنگین ترین جرم کے مرتکب ہوئے۔ عدالتی گرفت میں بھی وہ دوسری دفعہ یہ قدم اُٹھانے کی وجہ سے آئے۔ اب عدالت نے انہیں غدار قرار دیا تو خدانخواستہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے ملکی راز فروخت کیے یا ملک دشمنوں کے ساتھ مل گئے۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ’ٹیکنیکل غداری‘ ہے، کیونکہ آئین کے مطابق ایسا کام کرنے والے کو یہی لقب دیا جاسکتا ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں اداروں کے درمیان محاذ آرائی کی کوئی صورتحال پیدا نہ ہو گی۔ کسی بھی ذات اور شخصیت سے زیادہ ہم سب کے لیے یہ ملک اہم ہے، پرویز مشرف کے خلاف یہ فیصلہ حتمی نہیں ہے۔ ان کے پاس ابھی اپیل کا حق موجود ہے، اسے استعمال کیا جانا چاہیے۔ بہتر ہوتا کہ جو فریقین فیصلہ آنے کے بعد مقدمے پر اعتراضات اُٹھارہے ہیں، یہ اعتراضات مقدمے کے دوران عدالت میں پیش کرتے۔ تاہم اب بھی دیر نہیں ہوئی، اور یہ تمام دلائل اپیل میں عدالت کے سامنے پیش کیے جانا چاہئیں۔ عدالتی فیصلے سے اختلاف یا اتفاق کا اظہار کرنے کا حق ہر کسی کے پاس موجود ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز اس معاملے کا دستور کے تابع حل ہی چاہتے ہیں۔ پاک فوج نے بھی غصے کا اظہار کرتے ہوئے مشرف کے لیے دستور کے تحت ہی انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ 

مزید : رائے /اداریہ