بجلی کے بعد گیس بھی مہنگی!

بجلی کے بعد گیس بھی مہنگی!

  



عوام ابھی بجلی کے نرخوں میں بار بار کے اضافے ہی سے سنبھل نہیں پائے کہ اب اوگرا کی طرف سے قدرتی گیس کے نرخ بھی بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے،بجلی کے مستقل نرخ تو دو مہینوں میں دو بار بڑھے اور مجموعی طور پر قریباً پونے تین روپے کا اضافہ ہوا،اس پر اکتفا نہیں،ہر ماہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پربھی بوجھ ڈالا جاتا ہے، جو اس ماہ کے لئے1.68 روپے ہو گا۔ یوں بجلی مہنگی ہوتی رہی ہے،لیکن اب اوگرا میدان میں ہے اور یکم جنوری سے30 جون تک کے لئے گیس کے نرخوں میں 141فیصد سے214فیصد تک اضافے کا فیصلہ کر لیا، یہ بوجھ گھریلو اور صنعتی صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے،گھریلو صارفین کے لئے پہلی سلیب میں سب سے زیادہ اضافہ ہو گا اور کم گیس استعمال کرنے والے بھی متاثر ہوں گے،جبکہ تنوروں والے گیس کنکشنوں کو بھی اضافے میں شامل کیا گیا ہے۔بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ براہِ راست اشیاء ضرورت کے نرخوں کو متاثر کرتا ہے، اب بجلی اور گیس کے نرخ مسلسل بڑھانے سے مہنگائی تو بڑھتی رہے گی اور حکومتی بیانیہ کہ صبر کرو، گھبراؤ نہ اگلے سال مہنگائی کم ہو گی بُری طرح متاثر ہو گا،جب سے یہ حکومت آئی معیشت سنبھالنے کے نام پر عوامی بوجھ میں اضافہ ہی کرتی چلی جا رہی ہے،جن عوام کا نام لیا جاتا ہے وہ تو اب آدھی کھانے پر مجبور ہیں اور قیمتوں کے حالیہ اقدامات سے اتنی بھی نہ کھا سکیں گے۔ وزیراعظم اور ان کے رفقاء کو سوچنا ہو گا کہ ملکی حالات کس نہج پر ہیں، اور اس سے کیا ہو گا۔ بہتر عمل یہ ہے کہ عوام کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کی جائے۔اا

مزید : رائے /اداریہ