کالے کوٹ میں کالے دل والوں کا کیا کام……؟

کالے کوٹ میں کالے دل والوں کا کیا کام……؟
کالے کوٹ میں کالے دل والوں کا کیا کام……؟

  



چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی عدلیہ بحالی تحریک میں راقم السطور بطور صحافی اور شاعر وکلاء کے ساتھ تھا، پرویز مشرف کی طاقتور حکومت تھی، مَیں نے ایک قطعہ لکھا،جسے اس وقت نوائے وقت نے ادارتی صفحے پر نمایاں جگہ دی:

کب آئے گا جھونکا یہاں اک تازہ ہوا کا پابند سلاسل میرا منصف ہے اگرچہ

کب آس کی ڈالی پہ کوئی پھول کھلے گا سنتے ہیں کہ ہر شخص کوانصاف ملے گا

مَیں جن وکلاء صاحبان کو جانتا ہوں وہ تو بڑی نفیس اور شفیق شخصیات ہیں۔ عدلیہ میں بھی اپنے دلدار ہیں جو علم و ادب کی دولت سے مالامال ہیں، وکلاء حضرات تو عدل و قانون کے توازن کو کبھی بگڑنے نہیں دیتے۔ پھر یہ کون سے وکیل تھے، جنہوں نے دل کی علاج گاہ پر یلغار ہی کردی تھی۔ دلوں کے معاملات تو بڑے نازک ہوتے ہیں اور نازک معاملات میں ایسا بگاڑ جان کے جانے کا سبب بنتا ہے اور بنا بھی۔ مَیں تو وکلاء کو بڑے دل والا سمجھتا ہوں اور دل والے دل کے مریضوں سے ایسا نارووا سلوک نہیں کرتے، لاہور پنجاب کا دل ہے اور لاہور دل کے ہسپتال میں وکلاء صاحبان نے دل والے ہونے کا ثبوت نہیں دیا۔ یہ تویوں تھا، جیسے دشمن ملک نے خدزنخواستہ حملہ کردیا ہو۔ جنگ کے دوران بھی تعلیمی ادارے اور علاج گاہیں، محفوظ پناہ گاہیں سمجھی جاتی ہیں۔ اب جس بیٹے کے سامنے اس کی ماں نے دم توڑا ہو، وہ عمر بھر وکلاء کے بارے میں کیا جذبات رکھے گا؟ ٹھیک ہے، ڈاکٹر صاحبان سے کوئی خطا ہوئی تو اس کی سزا ایسے تو نہیں دی جانی چاہئے تھی۔ دل کے ہسپتالوں میں بڑی نزاکت اور نفاست ہوتی ہے۔ مَیں نے ایک بار پی آئی سی کے ایم ایس کو ہسپتال میں دورہ کرتے دیکھا تھا۔ وہ بھی دل وارڈ سے اس خامشی اور آرام سے گزرے کہ خبر تک نہ ہوئی۔ انہیں اس بات کا احتمال تھا کہ کہیں کوئی آہٹ کسی مریض پر گراں نہ گزرے، اس احتیاط کے مقابل اگر وکلاء بھائیوں کے رویوں کو رکھیں تو بغداد کی گلیوں میں ہلاکو خان کی یاد تازہ ہوجائے ایک بار ایک مالک مکان وکیل صاحب کو اپنا مکان کرائے پرنہیں دے رہا تھا، جس پر مَیں نے مکان مالک سے بڑا احتجاج کیا۔

آج وہ صاحب نظر آئے اور مجھے گھورتے ہوئے گویا ہوئے”پتہ چلا مَیں وکلاء کو مکان کرایہ پر کیوں نہیں دیتا؟ مَیں سمجھتا ہوں، تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ میں بڑافرق ہوتاہے۔ بندہ تعلیم یافتہ نہ بھی ہو تو تہذیب یافتہ تو ہونا چاہئے اور تعلیم یافتہ کے لئے تہذیب کا ہونا تو بہت ضروری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرب کے شتربانوں کو ایسی تعلیم اور تہذیب سے نوازا کہ دنیا نے ان سے رہن سہن کے طریقے سیکھے…… اسلام نے جس غیرت سے آشنا کیا، ہم غربت میں بھی کسی کے آگے دست طلب دراز نہیں کرتے۔ اسلام نے ہمیں نئے اصولوں اور قوانین سے روشناس کرایا کیا۔ ہمارے وکیل بھائی ان اصولوں اور قوانین سے واقف نہیں ہیں۔ یہ کہاں کی دلداری ہے جو بے بیگناہوں کی جانیں لے جائے؟ وکلاء صاحبان تو بے گناہوں کے مقدمات لڑتے ہیں۔ ججوں پر چڑھ دوڑنا، خواتین پرتشدد کرکے اپنی مردانگی دکھانا، راہ چلتے لوگوں کو زدوکوب کرنا، یہ کہاں کا انصاف ہے؟ پھریہ خبر بھی آئی کہ میڈیکل کالج کی بس میں گھس کر بس کو یرغمال بنا لیا۔ وکلاء لیڈی ڈاکٹروں کو ہراساں کرتے رہے۔ بھئی ایسا تو بھارتی سورما کشمیری خواتین اور بھارتی غنڈے مسلمان بہنوں سے کرتے ہیں۔ یہاں تو ایسا نہیں ہوتا، اب دنیا میں ہمارے قانون کے رکھوالوں اور انصاف کا پرچم بلند کرنے والوں کا کیا تصور ابھرا ہوگا۔

یہ لاقانونیت کی حد ہے۔ پرویزمشرف دور میں وکلاء پولیس تشدد پر چھپتے پھرتے تھے۔ افتخار محمد چودھری کی عدلیہ بحالی کی تحریک میں وکلاء کی جدوجہد کے نتیجے میں عدلیہ تو بحال ہوئی، لیکن عدلیہ کا ادارہ وکلاء کے ہاتھوں یرغمال ہوگیا۔ مجھے اندیشہ ہے، اب یہ جن بوتل میں واپس نہیں جائے گا،لیکن مَیں یہ بھی سوچتا ہوں، جن وکلاء نے پی آئی سی پر حملہ کیا یہ ’حقیقی وکیل نہ ہوں‘ یہ وکیل غیر پیشہ ورانہ ہوں، ورنہ آج بھی سنجیدہ وکیلوں کو عدلیہ عزت دیتی ہے۔ کورٹ انہیں ناراض نہیں کرتی، عدلیہ ان کی دیانتداری کو سراہتی ہے، ایسے باوقار اور قابل احترام وکیل موجود ہیں،ایسے ہی باوقار وکلاء کو چاہئے کو وہ ان وکلاء کی مذمت کریں، انہیں اپنے مقدس پیشے سے نکال باہر کریں، یہ جعلی وکیل ہوں گے۔ مجھے یا دپڑتا ہے، خواجہ محمد شریف لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ وہ ایک بار ایسوسی ایشن کی تقریب میں شریک ہوئے: بندہ بھی وہاں موجود تھا۔ اس تقریب کے سٹیج کی نظامت کے فرائض جو وکیل صاحب ادا کررہے تھے۔

وہ اپنی بار کے جنرل سیکرٹری بھی تھے۔بعد میں معلوم ہوا کہ ان صاحب کی ڈگری ہی جعلی نکل آئی ہے۔ اب ایسے جعلی وکلاء ہی اپنے پیشے کو تقدس پامال کرتے ہیں ……مرید نے اپنے پیر سے کہا کہ کیا وقت آگیا ہے کہ مولوی حضرات نے بھی چوریاں شروع کردی ہیں۔ پیر صاحب نے ٹوکتے ہوئے اس کی درستی کی کہ ایسا ہرگز نہیں، بلکہ یہ ہے کہ چوروں نے داڑھیاں رکھ لی ہیں۔ بالکل ایسے ہی وکلاء میں نہایت ایماندار لوگ ہیں، دانشور ہیں، لیکن جعلی وکلاء نے ان کی نیک نامی کو داغدار کیا ہے۔ وکلاء عدالتی نظام کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں، کالے کورٹ میں اُجلے لوگ ہونے چاہئیں، کالے کورٹ میں کالے دل والوں کا کیا کام؟ لہٰذا وکلاء صاحبان اپنے پیشے کی عظمت کو بچانے کے لئے منفی سوچ کے حامل وکلاء کی حوصلہ شکنی کریں۔

مزید : رائے /کالم


loading...