جتھے اور ریاست

جتھے اور ریاست

  



طاقت ملنے کے بعد انسان کے پاس اپنی حیثیت کو دو طرح سے منوانے کا یقینی موقع ہوتا ہے…… راہبر یا جابر……کم ظرف غرور کا شکار ہو کر ہمیشہ دوسرا راستہ چنتے ہیں، جبر کا راستہ طاقت، دھونس اور ہٹ دھرمی سے اپنا تسلط قائم کرنے کے لئے نفرت و خون ریزی کا بازار گرم کرکے فساد برپا کرتے ہیں اور تاریخ انہیں نفرت انگیز کردار سے ہی یاد رکھتی ہے،جبکہ راہبر امن کا راستہ چنتے ہیں ……معاف کرنے اور در گزر کرنے کا درس دیتے ہیں اور یہیں سے محبت و عقیدت کا ایسا چشمہ پھوٹتا ہے کہ بدترین دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں۔تاریخ میں فتح مکہ کی داستا ن بھی ہے اور بغداد کی بھی ……راہبراور جابرکا فرق خود دیکھ لیں۔معاف کرنے والے فاتح ٹھہرے۔،جان بخشی کا درس دینا انسانیت کا درس بن گیا اور خون ریزی والوں کو تاریخ معاف کرنے پر کسی طور تیار نہیں، ظلم ان کی ذات کے ساتھ چپک گیا……ایک ڈاکٹر نے شر انگیز تقریر کردی تھی، مان لیا ا س نے غلط کیا، تو اے قانون دانو! کیا مقدمہ درج کرنے کا سلسلہ ختم ہوگیا تھا،تھانے ہمیشہ کے لئے بند ہوچکے تھے،

عدالتوں کے دروازے مقفل کر دئیے گئے تھے، انتظامی افسروں کے دفاتر کو تالے لگ چکے تھے کہ آپ لوگ قانون کے وارث ہوکر قانونی راستہ اختیار کرنے کی بجائے فیصلے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے کر طالبان کے راستے پر چل پڑے اور ہسپتال کی اینٹ سے اینٹ بجاکر انسانیت کا بنیادی فلسفہ ہی فراموش کر دیا ……پھر ہمیں بتاتے ہیں قائد اعظمؒ بھی تو وکیل تھے۔کہاں وہ عظیم لیڈر کہ جس کی جدوجہد آزادی میں ہمیں ایک بھی غیرقانونی کام یا غیر انسانی فعل نہیں ملتا کہ جسے دیکھ کر شرمندگی ہو اور کہاں یہ کارڈیالوجی سنٹر فتح کرنے والے سورماؤں کا کارنامہ کہ دنیا کے سامنے ساری قوم کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔اپنے ساتھ قائداعظمؒ کو ملا کر ہمارے جذبات سے مزید تو نہ کھیلو کہ راہبراور جابر ایک جیسے کیسے ہو سکتے ہیں؟یہ دو متضاد راہیں ہیں؟ ایک امن کی دوسری وحشت کی…… ایک طرف قانونی راستہ ہے، دوسری طرف لاقانونیت، دونوں کو کوئی اندھا بھی ایک جیسا نہیں مان سکتا۔تم لوگوں نے تو اپنی قانون کی ڈگری کی توہین کی ہے۔

کہاں گیا وہ درس جو دہشت گردوں کے حملوں کے بعد دیا جاتا تھا: ” ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے“۔ یہاں تو انسان ہی نہیں مرے انسانیت کو بھی روند ڈالا گیا ہے۔ ایسا روندا گیا ہے کہ تاریخ انسانی میں اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی کہ قانون دانوں نے طاقت کے نشے میں چور ہو کر کسی ہسپتال کو تاراج کر دیا اور شائد جب تک دنیا موجود ہے انسانوں کی آنکھ میں شرم کا پانی اتنا کبھی نہیں مرے گاکہ پھر کبھی اس قدر گھٹیا واقعہ دوباہ دہراسکیں۔کیا غیرت اسے کہتے ہیں کہ ایک ڈاکٹر کی تقریر پر مشتعل ہو کر راہ چلتے شہریوں پر تشدد کیا جائے، مریضوں کو اذیت دی جائے اور سرکاری املاک کو توڑ کر ناکارہ بنا دیا جائے ؟ صاحب!اگر غیرت اس کا نام ہے تو پھر ایسی غیرت پر ساری قوم شرمندہ و پشیمان ہے۔اپنی غیرت کی ڈکشنری کی کسی سینئر قانون دان سے تصیح کرا لیجئے۔وکلا ء نے قانون توڑا، یہ انتہائی افسوسناک حادثہ تھا، ہسپتال پر حملہ کیا یہ بدترین سانحہ تھا، اب اس کا جواز دے رہے ہیں تو سب سے بڑا المیہ…… اس کا کوئی جواز بنتا ہی نہیں، کم از کم کوئی مہذب انسانی معاشرہ تو اسے قبول کر ہی نہیں سکتا۔

اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ تھانے بند کردیں،عدالتیں لپیٹ دیں،اے سی و ڈی سی آفسوں کو تالے لگا دیئے جائیں ا ور ملک کے اندر جتھے بن جائیں، ہاتھ میں ڈنڈے اٹھائیں،پسٹل لہرائیں، گندی گالیاں بکتے ہوئے چڑھ دوڑیں اور سب کچھ تہس نہس کرکے زمانہ جاہلیت والی شیطنت برپا کر دیں۔جناب! اگر یہی نظام چلانا تھا تو طالبان کو کیوں دہشت گرد کہتے تھے؟ صوفی محمد کی خود ساختہ شریعت کی مخالفت کیوں کی گئی،سکولوں پر حملے کرنے والے اور لوگوں کو جان سے مارنے والے کیوں درندے کہلائے؟ جناب ریاست کے اندر جتھے فیصلے نہیں کرتے، ریاستی نظام فیصلے کرتا ہے۔ یہ عدلیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے، اگر وکلاء بھی اس بات کو نہیں سمجھتے تو پھران کی ڈگریاں کینسل ہونی چاہئیں، ان کے نصاب کا جائزہ لیا جانا چاہئے،یہ بات تو شائد دنیا کا سب سے گنوار شخص بھی سمجھتا ہے، آمروں کے مارشل لاء کے خلاف پھر احتجاج کیسا اور اس کی نفی کیوں؟ وہ بھی تو یہی کرتے تھے، جو آپ لوگوں نے کر دکھایا۔

کرد صاحب اور ان جیسے چند جوشیلے وکلاء کو سن کر بہت رنج ہوا۔جہاں وکلاء قانون توڑنے پر فخر کریں اور ان کے لیڈر اس کا جوا زپیش کرتے ہوئے دھمکیاں دیں،وہ کیسے ہمیں کہہ سکتے ہیں کہ یہاں جمہوریت اور آزاد عدلیہ ہونی چاہئے، جبکہ ان کا اپنا کردار سراسر آمرانہ ہے۔انسانیت کی دھجیاں اڑا دی گئیں،کالے کوٹ والوں نے انسانی تاریخ کا بدترین فعل کر ڈالا،زندہ ضمیر انسان یہ دلخراش منظر دیکھ کر خون کے آنسو رورہے ہیں او ر یہ ہمیں دھمکیاں دے رہے کہ ظلم کو جائز مانو، وحشت کو قبول کرو،ہمارے سورماؤں کے ہسپتا ل فتح کرنے پر چہرے چھپانے کی بجائے ان کے گلے میں ہار ڈالو،ہسپتال اجڑنے کا نوحہ پڑھنے کی بجائے خوشی کے نغمے گاؤ، اخلاقی زوال کی اس سے پست سطح مَیں نے تو تاریخ کی کسی کتاب میں نہیں پڑھی۔اب گالیاں پڑ رہی ہیں تو رنج کیسا؟ہر قانون توڑنے والے کا مقدر ہوتی ہیں۔،منہ پر کپڑا ڈالنے کا ملال کیوں، دہشت برپا کرنے والوں کے ساتھ مہذب معاشروں میں یہی سلوک ہوتا ہے……کرد صاحب! آپ شاید بنیادی انسانی فلسفہ بھول رہے ہیں کہ ہمیں لوگ کس نظر سے دیکھ رہے ہیں اور ہمیں کیا مقام دے رہے ہیں؟اس کا فیصلہ دوسرے نہیں کرتے خود ہمارا کردار کرتا ہے جو ہم دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

نفرت،اشتعال،فساد،خون ریزی اور ظلم و جبر کو انسانی معاشرے میں قابل نفرت ہی سمجھا جاتا ہے، انسانی ضمیر کا اس کے علاوہ قدرت نے کوئی نظریہ رکھا ہی نہیں تو پھر لوگ کیسے قبول کرلیں؟ایک دھونس نے اس سطح پر لا کھڑا کیا ہے، مزید دھونس مزید ذلت ہی دے گی، اب دھونس چھوڑیں اور اس ظالمانہ فعل کی سب سنیئر وکلاء مذمت کریں اور اپنے کردار سے نوجوانوں کی ایسی تربیت کریں کہ آپ کو آئندہ اس قدر شرمندہ نہ ہونا پڑے۔کرد صاحب! آپ جنرل پرویز مشرف کی آمریت پر حق پر تھے تو قوم آپ کے ساتھ تھی، آج آپ وکلاء آمریت کے ساتھ ہیں تو قوم آپ کے ساتھ کیسے کھڑی ہو۔اگر آپ حق پر کھڑے ہیں تو پھر جواز کیسا، اگر آپ غلط ہیں اور غلط فعل کا جواز پیش کر رہے ہیں تو پھر آپ بھی شریک جرم ٹھہرے،آپ لوگوں کے غم و غصے کو خود دعوت دے رہے ہیں۔جناب کرد صاحب، اگر سندھ کی ایک خاتون ایم پی اے کسی خاتون ٹیچر کو تھپڑ مارتی ہے تو قانون حرکت میں آجاتا ہے کہ طاقتور نے کمزور سے زیادتی کی،ایک وفاقی وزیر اعظم سواتی کے کھیت میں کسی کے جانور چلے جائیں، وہ اس غریب آدمی پر تشدد کرے تو جرم مانا جائے اور اسے استعفا دینے کا حکم ملے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار، خاور مانیکا کے کہنے پر ایس پی بدل دے تو یہ اختیار کا ناجائز استعمال ہے تو پھر دن دیہاڑے ہسپتال پر وحشت و ظلم برپا کرنے والے کالے کوٹ والوں کے کیا ہاتھ چومیں کہ انہوں نے بڑا عظیم کام کیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنا گناہ ٹھہرا……قانون تو سب کے لئے برابر ہے اور یہی ریاست کا اصول ہونا چاہئے۔

کارڈیالوجی سنٹر فتح کرنے کا سانحہ ہو یا اس سے پہلے کے واقعات پر غور کیا جائے تو بہت بڑے معاشرتی اخلاقی زوال کی نشاندہی ہوتی ہے۔مذہبی جماعت کے احتجاج کے دوران مزدور بچے کی کیلے کی ریڑھی پر دھاوا بول دیا گیا اور بہادروں نے کیلے کی ریڑھی پر اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ یہ مذہبی جماعت اپنے کارکنوں کو بنیادی انسانی فلسفہ ہی نہ سکھا سکی، سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے دوران اکثر نیوز چینلوں کو ان کے نظریے سے اختلافی پروگرام دکھانے پر ان کے رپورٹرز پر تشدد کیا جاتا ہے۔ یہ سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو جمہوریت کا بنیادی نکتہ اختلاف رائے بتانے سے محروم ہیں۔ وکیل کالا کوٹ پہن کر لاقانونیت کر ڈالتے ہیں، حالانکہ یہ قانون پر عملدرامد کرنے والے مثالی کردار کے قابل ہونے چاہئیں،ڈاکٹر مسیحا ئی کی ڈگری لے کر مریضوں کو تڑپتا چھوڑ کر ہڑتال پر چلے جاتے ہیں۔علماء دل آزاری پر مبنی واعظ کرتے ہیں اور لوگوں کی ذاتی زندگیوں پر الزام تراشی تک سے گریز نہیں کرتے اور اساتذہ جو باپ کا درجہ رکھتے ہیں، انہیں اخلاقی ماڈل ہونا چاہئے۔ وہ یونیورسٹیوں میں اخلاقی تربیت دینے کی بجائے خواتین شاگردوں کو ہراساں کرتے ہیں۔ یہ سب اخلاقی زوال کی نشانی ہے۔ ہمارے ہاں دانشور طبقے کو آگے آنا چاہئے اور تعلیم کے ساتھ تربیت میں اپنا حق ادا کرنا چاہئے۔

والدین کا بھی بہت اہم رول ہے۔ہم اگر بطور والدین، اساتذہ، علماء،لیڈر اور لکھاری اپنا حق ادا نہیں کریں گے تو معاشرہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی جیسے اخلاقی زوال کے دلخراش مناظر دیکھنے پر مجبور ہوتا رہے گا۔یہ ڈاکٹر، وکلاء اور سیاسی کارکن ہمارے ہی معاشرے کا حصہ ہیں اور وہی تصویر پیش کر رہے ہیں جو ہم بڑوں نے ان کی تربیت میں کوتاہی برت کر انہیں پیش کرنے پر مجبور کیا ہے اور اس پر یہ پشیمان ہونے کی بجائے مزید ڈھٹائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو بہت بڑا المیہ ہے۔ہمیں کسی صورت کسی جتھے کو قبول نہیں کرنا چاہئے۔ریاست تب ہی فعال کردار ادا کر سکتی، جب وہ جتھوں کو قانون کے اندر رہنے پر مجبور کرے۔ریاست سے طاقتور کوئی جتھہ نہیں ہوتا۔وکلاء کو، ڈاکٹروں کو اور خود سیاسی جماعتوں کو سمجھنا ہوگا کہ ان کی جتھوں کی صورت میں دھونس ریاست کو کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہے اور یہ ملک سے ہمدردی نہیں اور نہ ہی ایسے واقعات سے بیرونی دنیا میں ہمارا تشخص اچھا بن رہا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...