غداری ملک سے نہیں،آئین سے کی گئی؟

غداری ملک سے نہیں،آئین سے کی گئی؟
غداری ملک سے نہیں،آئین سے کی گئی؟

  



اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک بڑا فیصلہ ہے اور اس پر ردعمل بھی اسی حوالے سے ہے،سیاسی حضرات نے اپنے حوالے سے اور ماہرین آئین و قانون نے اپنے اپنے فہم اور ادراک کے مطابق تبصرہ کیا ہے،جبکہ ہمارے میڈیا والوں نے تو من پسند تجزیوں اور تبصروں پر گذارا کر لیا ہے،حالانکہ اس مسئلے پر بھی قومی اور ملکی تاریخ کے تناظر میں سوچا جانا چاہئے اور اس کے اثرات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ افسوس یہ ہے کہ یہاں بھی ”میرٹ“ کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اور تبصروں، تجزیوں سے قومی سطح پر تقسیم کا تاثر دیا گیا ہے، مَیں شاید اسے نظر انداز کرتا،لیکن ایم کیو ایم کے رنج نے مجھے بہت رنجیدہ کر دیا ہے۔ہم کہ قیام پاکستان سے اب تک اس ملک کی محبت میں مبتلا مسلسل نقصان برداشت کر رہے ہیں اور قومی سطح پر ”ڈگے“ ہیں کہ پنجابی جو ہوئے، حالانکہ اب تو شرم آتی ہے، پنجابی کہلاتے ہوئے،کیونکہ یہاں تو ”ماں بولی“ بھی ترک کی گئی اور اُردو کو مادری زبان بنا لیا گیا ہے،لیکن یہ ہمارے اُردو بولنے والے بھائی شاید اُردو کو ہی نسل بنا بیٹھے ہیں،حالانکہ نسلی طور پر تو ان میں بھی پٹھان، پنجابی اور عربی النسل بھی ہوں گے، جبکہ سّید بھی ہیں،لیکن ان حضرات نے اپنے بانی کے افکار کی روشنی میں اُردو بولنے اور نہ بولنے والوں کو نسل بنایا اور شاید اسی لئے ایم کیو ایم والوں نے اس فیصلے کو بھی نسلی تعصب سے جوڑ کر اظہارِ مذمت کرنے کی کوشش کی اور یہ کہہ کر ہوا کا رُخ بدلنے کی سعی کر ڈالی کہ ایوب یحییٰ اور ضیاء الحق کے خلاف تو ایسی کارروائی نہیں کی گئی شاید یہ نسلی تعصب ہے۔

وہ یہ کہتے ہوئے بھول گئے کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا نسلی تعصب نظر نہیں آیا ورنہ بھٹو ضیاء الحق اور محمد نواز شریف پرویز مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف نہ بناتے، اور پھر یہ بھی یاد رکھیں کہ ہمارے بڑے محترم جنرل اسلم بیگ مرزا کا تعلق بھی تو اُردو والوں سے ہے۔اگرچہ نسلی طور پر نہیں، زبان کے لحاظ سے ہے اور ان کو انہی کے رویے کی روشنی میں تمغہ جمہوریت دیا گیا اور یہ ایک سندھی وزیراعظم نے دیا تھا۔میری مودبانہ گذارش ہے کہ اس نسلی تعصب کو آپ ختم کریں، بند کریں اس غلط بحث کو کہ اس کا ردعمل ہوا تو بہت بُرا ہو گا۔ محترم نسلی تفاخر کے علمبردار حضرات ذرا غور فرما لیں کہ آپ کے بانی نے ابھی حال ہی میں ایک بھارتی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیا نہ صرف ہمارے پیارے ملک کو بُرا کہا اور ملامت کی، بلکہ اینکر کی فرمائش پر بھارتی ترانہ ”بندے ماترم“ گا کر بھی سنایا۔ آپ حضرات کو آج تک توفیق نہیں ہوئی کہ آپ ان محترم بانی سے لاتعلق ہوں،کیونکہ ابھی تک ایم کیو ایم (پاکستان) نے تو مذمت اور ان کے اعمال سے لاتعلقی اختیار نہیں کی، صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ایم کیو ایم (پاکستان) نے لندن والوں سے رابطہ ختم کر دیا ہے۔آپ اپنی ادا پر غور فرما لیں کہ بانی کو نیلسن منڈیلا کہنے والے آج اس ملک کے وفاقی وزیر قانون ہیں اور مستعفی ہو کر پھر سے حلف اٹھا لیا اور جب ادھر آئے تو خود جنرل پرویز مشرف کی وکالت ترک کر کے آئے تھے اس لئے بات کریں تو قومی نقطہ نظر سے کریں۔نسلی تعصب آپ اپنے پاس ہی رہنے دیں۔

جہاں تک جنرل(ر) پرویز مشرف کے کارناموں کا تعلق ہے تو ان کی وجہ سے 21مئی بھی یاد آ جاتی ہے۔اس بدقسمت تاریخ پر جو ہوا وہ بھی کراچی کی تاریخ کا سیاہ باب ہے، اور یاد کیجئے کہ کس طرح بازو اُٹھا کر مُکہ دکھا کر کہا ”دیکھا میری طاقت“ میرے خیال میں اس فیصلہ پر آئینی اور قانونی رائے کے علاوہ اس کے ملکی اثرات پر بات کی جائے تو بہتر ہے۔ ویسے بھی یاد رہے کہ آئینی ماہرین رائے دے رہے ہیں ابھی تو گزشتہ روز اٹارنی جنرل پاکستان نے وزیراعظم کی معاون خصوصی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اس فیصلے پر سخت تنقید کی ہے اور معاون خصوصی نے بھی جنرل(ر) پرویز مشرف کی حمایت اس حد تک کر دی کہ اسے کچھ اور ہی بنا دیا۔ محترم یہ خاتون پنجابی ہیں اور نسلی اعتبار (بقول آپ کے) سے آپ سے جنرل صاحب سے مختلف نسل کی ہیں۔

یہ میرے ذاتی جذبات ہیں،جن کا اظہار کر دیا کہ میرے تو مراسم ہی نہیں، رشتے داری بھی ہے کہ میری سگی بہن اُردو بولنے والے مہاجر ہی سے بیاہی گئی اور ماشاء اللہ میرے بھانجے، بھانجیاں بھی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ بات کی جائے تو ”میرٹ“ والی ہونا چاہئے۔ میرے ذاتی خیال میں جس فیصلے میں غداری قرار دیا گیا، وہ ملک سے غداری کے معنوں میں نہیں ہے۔واضح کر دیا گیا کہ اس اقدام کا مطلب ملک یا وطن سے نہیں، آئین سے غداری ہے کہ دوسری بار آئین توڑ کر ہنگامی حالات کا نفاذ کیا گیا اور یہ آرٹیکل6کے تحت آئین کی خلاف ورزی اور اس لحاظ سے غداری کے زمرے میں آتی ہے۔مجھے ذاتی طور پر ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے ان جذبات سے اتفاق ہے کہ جنرل یا سربراہ ملکی افواج، ملک کا غدار نہیں ہو سکتا اور فوج میں جذبات پائے جاتے ہیں۔یہ بات بھی طبقاتی سی محسوس ہوئی کہ فوج سے تو ہم بھی محبت کرتے ہیں اور ہم نے دامے، درمے، قلمے بھی بہت خدمت کی ہے۔اس سب کا تعلق تو ملک اور ملک کے دفاع سے ہے۔

یہ نہیں کہ ملک پر قبضہ ہی کر لیا جائے اور ملکی آئین و قانون کو کاغذ کا ٹکڑا کہہ کر توہین بھی کی جائے،ملکی آئین کی پابندی کی بات ہے تو یہ سب کو کرنا چاہئے۔ یکطرفہ ٹریفک بہتر نہیں ہوتی، یہاں جنرل یحییٰ کو بھی تو غاصب قرار دیا گیا۔اگرچہ یہ ان کے اقتدار کے بعد فیصلہ آیا اور پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جنرل ایوب خان کے اقدام کو جسٹس منیر نے نظریہئ ضرورت کے تحت درست قرار دیا تو آج تک کسی نے اسے درست نہیں کہا اور پھر خود جنرل پرویز مشرف کے پہلے قدم کو تو پارلیمینٹ نے بھی سند عطا کر دی تھی،دوسرے اقدام کے حوالے سے وہ خود بھول گئے تھے،اِس لئے بات احتیاط سے کی جائے کہ یہی ملکی حالات کا تقاضہ ہے۔براہِ کرم افواجِ پاکستان اور عوام کے درمیان غلط فہمیاں پیدا نہ کریں۔مسلح افواج ملک کی سرحدوں کی محافظ ہیں اور ہم سب کو ان سے پیار ہے۔ یہ موجودہ حکومت کی نہیں، قومی فوج ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...