اپوزیشن،جوڈیشری، میڈیا اور بیورو کریسی ایک صفحے پر؟

اپوزیشن،جوڈیشری، میڈیا اور بیورو کریسی ایک صفحے پر؟
اپوزیشن،جوڈیشری، میڈیا اور بیورو کریسی ایک صفحے پر؟

  



17ذسمبر2019ء کو سابق صدر پاکستان، سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور سابق آرمی چیف کو غداری کے الزام میں موت کی جو سزا سنائی گئی ہے اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ ملک کے تقریباً سارے ادارے (مائنس پی ٹی آئی حکومت) ایک ہی صفحے پر آ گئے ہیں ……اس اجمال کی کچھ تفصیل درجِ ذیل ہے:

اپوزیشن:اپوزیشن کا لغوی معنی برسرِ اقتدار حکومت کی مخالف جماعت ہے لیکن مسلح افواج (آرمی، نیوی اور ائر فورس) جن کو مخفف کرکے ”فوج“ (Military) کہا جاتا ہے وہ حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار دونوں کے لئے برابر ہوتی ہے۔ فوج کے رینک اور فائل سب کے سب سیاسی پارٹیوں سے متعلق افراد سے تشکیل پائے ہوتے ہیں۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کتنی فوج حکومت کے ساتھ ہے اور کتنی اپوزیشن کے ساتھ ہے۔ لیکن جب سے پی ٹی آئی حکومت کو اقتدار ملا ہے، اپوزیشن (جس میں نون لیگ اور پیپلزپارٹی پیش پیش ہیں) یہ سمجھنے لگی ہے کہ فوج صرف برسرِ اقتدار جماعت کے ساتھ ہے۔ زیادہ دن نہیں گزرے، مولانا فضل الرحمن پہلے تو یہ وعظ فرماتے رہے کہ ”مقتدر حلقوں“ کو حکومت کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔ اول اول یہ بھاشن دبی دبی اور نیم اعلانیہ زبان میں تھے جو رفتہ رفتہ واشگاف ہوتے چلے گئے۔ اور جب آزادی مارچ اور دھرنے کا موسم آیا تو مولانا کا باطن، ظاہر ہو گیا اور انہوں نے فوج کا نام لے لے کر یہ کہنا شروع کیا کہ یہ ادارہ حکومت کو سپورٹ کرنا چھوڑ دے۔ پھر جوں جوں حکومت اور فوج نے یہ کہنا شروع کیا کہ ہم دونوں ایک ہی صفحے پر ہیں تو یہ الفاظ اپوزیشن کے کانوں پر ہتھوڑا بن بن کر ضربیں لگانے لگے۔ فضل الرحمن کے ساتھ کنٹینر پرلیگی رہنما، پیپلزپارٹی کے قائدین اور دوسری چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کی قیادت بھی شام ڈھلے دیکھی جانے لگی۔

اور قومی اسمبلی کا اجلاس جب بھی ہوتا رہا اپوزیشن کی دونوں پارٹیاں وزیراعظم کو Selected کا خطاب دے کر یاد کرتی رہیں۔ شہبازشریف کا اپنا اندازِ تخاطب تھا اور بلاول کا اپنا۔ بلاول تو برملا کہنے لگے کہ: ”عمران خان!تم تو صرف کٹھ پتلی ہو، تمہاری ڈوریں تو کوئی اور ہلا رہا ہے…… بلاول کی یہ ”مترنم“ آواز ARY کے اینکر ارشد شریف کے پاور پلے شو میں 10سے 11بجے شب والے پروگرام کے آغاز میں سوموار تا جمعرات آج بھی سنی جا سکتی ہے…… بلاول کی اس کٹھ پتلی وزیراعظم کی ڈوریں کون ہلا رہا تھا، شہباز شریف کا سلیکٹڈ وزیراعظم کس کا لایا ہوا تھا اور مقتدر حلقوں سے مولانا کی مراد کیا تھی اس کو ڈی کوڈ کرنے کی ضرورت نہیں …… یہ سارا ملبہ فوج پر ڈالا گیا اور آج بھی ڈالا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں ملک بھر کے درجنوں ٹی وی چینلوں پر جن مبصروں اور تجزیہ نگاروں کو ”دعوتِ کلام“ دی جاتی ہے ان میں سے پیشتر فوج کو بدنام کرنے کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔ بار بار کہاجاتا ہے کہ عمران خان، اپوزیشن لیڈروں کو دھمکیاں دے رہا ہے کہ ”میں کسی کو بھی نہیں چھوڑوں گا، سب کو اندر کر دوں گا، سب چور ہیں، سب دھوکے باز اور فراڈیئے ہیں ……“ وغیرہ وغیرہ ……بفیضِ میڈیا، عمران خان کے یہ سب وڈیو کلپ بار بار آن ائر کئے جاتے ہیں اور اس طرح اپوزیشن کے بیانئے کو تقویت دی جاتی ہے۔ اپوزیشن کا اصل (Main) ٹارگٹ عمران خان نہیں، فوج ہے۔ جب فوج یہ کہے کہ وہ حکومت کے ساتھ ایک ہی صفحے پر ہے اور حکومت اور فوج کے مابین کوئی اختلاف نہیں تو یہ حقیقت اپوزیشن کو کب ہضم ہوتی ہے؟……دونوں بڑی پارٹیوں کے رہنماؤں کی تقریریں یاد کیجئے…… ”مجھے کیوں نکالا؟…… اور میں اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا…… اور آپ لوگ تو تین سال کے لئے آتے ہیں لیکن ہم ہمیشہ آتے تھے، آتے ہیں اور آتے رہیں گے!“…… کیا آپ یہ بھول سکتے ہیں کہ یہ ”تین سال“ اور ”مجھے کیوں نکالا؟“ والی گردانوں کا ٹارگٹ کون تھا؟

جوڈیشری:جوڈیشری اور بالخصوص عدالتِ عظمیٰ کے بہت گُن گائے جاتے رہے…… پھر وہ وقت آیا جب ہائی کورٹوں کے بارے میں یہ آوازے کَسے جانے لگے کہ وہ ’چھٹی کے ایام“ میں بھی عدالت لگا کر اپوزیشن کو ریلیف دے دیتی ہیں، بلکہ یہ تک دیکھا گیا کہ کسی اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹس نے کسی یومِ تعطیل میں اپنے گھر ہی میں عدالت لگا لی اور ملزم کو ریلیف دے دی…… یہ درست ہے کہ قانون ان عدالتوں کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ جب چاہیں، جہاں چاہیں عدالت لگا کر احکام صادرکر دیں،گویا:

منعم بہ کوہ و دشت و بیاباں غریب نیست

ہر جا کہ رفت خیمہ زد و بارگاہ ساخت

]ثروت مند شخص کسی بھی جنگل، پہاڑ اور صحرا میں پردیسی نہیں ہوتا، وہ جہاں بھی ہو صرف ایک خیمہ گاڑتا ہے اور بارگاہ بن جاتی ہے[

پھر کسی تقریب میں وزیراعظم نے عدالت عظمیٰ کے فاضل جج صاحبان کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ غریب اور امیر کو یکساں انصاف ملنا چاہیے…… بس پھرکیا تھا اگلے ہی روز فاضل چیف جسٹس نے کسی تقریب میں فرمایا: ”ہمیں غریب اور امیر کا طعنہ نہ دیں۔ ہم نے ایک وزیراعظم کو نااہل قرار دیا اور دوسرے کو جیل بھیج دیا“…… اور پھر دونوں بازوؤں کو اٹھا کرمُٹھیاں بھینچ کر سابق صدر اور آرمی چیف، جنرل مشرف کا پوز بناتے ہوئے کہا کہ: ”ان کا فیصلہ بھی جلد آنے والا ہے“…… واقفانِ حال نے اسی روز سمجھ لیا تھا کہ مشرف نشانے پر ہے۔ لیکن یہ تو 17دسمبر سے کئی روز پہلے کا ذکر ہے۔ خصوصی عدالت کے سزائے موت والے فیصلے کو اتنے دن پہلے واشگاف کر دینا اور وزیراعظم کے ”امیر و غریب“ والے ”طعنے“ کو اتنا سنگین تصور کر لینا بعیدازقیاس ہے…… اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت عظمیٰ ہو یا عدالت عالیہ یا عدالتِ خصوصی ان سب کا ٹارگٹ فوج تھی۔ عدالت عظمیٰ نے دو وزرائے اعظم کو تو گھر اور جیل بھیج دیا لیکن موت کی سزا کسی کو نہ دی کہ ان کا جرم اس سنگین سزا کا مستحق نہ سمجھا گیا لیکن جب جنرل مشرف کی باری آئی تو ان کا یہ جرم کہ انہوں نے آئین توڑا قابلِ گردن زدنی ٹھہرا۔ اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہے کہ اعلیٰ عدالتیں فوج کی ”دھونس“ سے تنگ آ گئی ہیں اور اپنے ماضی کے وہ سیاہ داغ اپنی ”سفید انصافی چادر“ سے دھونا چاہتی ہیں جو نظریہ ء ضرورت کی تکرار نے ان پر لگا دیئے ہیں۔

میڈیا:فوج کی ’دھونس‘ کے خلاف میڈیا بھی جوڈیشری اور اپوزیشن کے ساتھ کبھی کا ایک صفحے پر آ چکا ہے۔ اس کا ثبوت دینے کی چنداں ضرورت نہیں۔ آپ الیکٹرانک میڈیا پر ہر شب اور ہر روز جو کچھ ہوتا ہے اس کو دیکھ لیں۔ یوں محسوس ہو گا کہ یہ میڈیا صبح و شام و شب چن چن کر فوج کو نشانہ بنا رہا ہے۔ بعض اینکرز تو اپنے قد سے اتنے اونچے اٹھ گئے ہیں کہ ان پر دیو قامتی کی اصطلاح ناکافی معلوم ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بالخصوص ٹارگٹ کیا جاتا ہے جس کا بالواسطہ (Indirect) نشانہ عمران خان کی ذات ہے کہ عمران خان ہی نے بار بار عثمان بزدار کو اپنا چہیتا قرار دیا۔

…… کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا میڈیا میں فوج کو ”مقدس گائے“ کہہ کر خطاب کیا جاتا تھا، پھر وہ دور آیا کہ اس کو ”خلائی مخلوق“ کا لقب عطا کیا گیا اور پھر رفتہ رفتہ یہ ساری ”جگتیں“ ختم کر دی گئیں اور سارے ”غلاف“ اتار دیئے گئے۔ اب کھل کر جرنیل اور فوج کا نام لیا جانے لگا ہے۔17دسمبر کو جب خصوصی عدالت نے سابق جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت سنائی تو ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور نے اس پر جو ٹویٹ کیا اس میں فوج کا ذکر کیا تھا نہ کہ آرمی کا…… آرمی تو فوج کا ایک حصہ ہوتی ہے اور آئی ایس پی آر ایک ”انٹرسروسز“ ادارہ ہے، صرف آرمی کا نہیں۔ جنرل آصف غفور کے ٹویٹ میں صراحتاً یہ لکھا ہوا تھا کہ ”مسلح افواج توقع رکھتی ہیں کہ آئین کے مطابق انصاف کیا جائے گا“…… لیکن اس کے باوجود روزنامہ ”ڈان“ نے 18دسمبر کو اس خبر کے لئے جو شہ سرخی لگائی وہ یہ تھی:

Army dismayed as Musharraf gets death for high treason.

اسی طرح 18دسمبر ہی کو دی ایکسپریس ٹریبون کی سرخی ملاحظہ کریں:

Army "Pained, anguished" by verdit.

ذرا اندازہ کریں کہ ان شہ سرخیوں سے قاری کیا نتیجہ نکالے گا؟…… وہ یہی سوچے گا ناکہ اگر کسی کو کوئی ”دکھ درد“ ہے اور اگر کوئی ”مایوس“ ہے تو وہ صرف آرمی ہے، نیوی اور ائر فورس نہیں …… ان انگریزی معاصر سے تو ہمارا اردو روزنامہ ”پاکستان‘ ہی لائق تحسین ہے جس کی شہ سرخی ہے: ”پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم۔ فیصلے پر افواجِ پاکستان میں شدید غم اور اضطراب“

بیورو کریسی:کسی بھی حکومت کی کارکردگی میں بیورو کریسی کا ایک مضبوط کردار ہوتا ہے۔ یہ ادارہ (اگر اس کو ادارہ کہا جا سکتا ہو) حکومت کا پانچواں ستون ہے جو باقی چار ستونوں کی مربع شکل عمارت کے عین بیچوں بیچ کھڑا ہر ستون پر ہرطرف نگاہ رکھتا اور ہر ایک کو یکساں سپورٹ دیتا ہے۔ اگر یہ ستون اپنی جگہ سے سرک کر باقی چاروں ستونوں میں سے کسی ایک کے نزدیک ہو جائے تو اس کی طاقت دو چند ہو جاتی ہے اور جس ستون سے پرے ہٹ جائے وہ جلد یا بدیر ڈانواں ڈول ہو جاتا ہے۔

میرے خیال میں آج کل یہ ستون برسرِ حکومت،انتظامیہ کے سوا باقی تین ستونوں (مقننہ، بیورو کریسی، میڈیا) کی جانب باری باری سرک رہا ہے۔……کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ حکومت جن لوگوں کو کسی جرم میں پکڑ کر جیل میں ڈالتی ہے، ان کا کچھ بھی نہیں بگڑتا۔ اپوزیشن کے چند لوگ کبھی زیرِ عتاب آتے بھی ہیں تو یہ بیورو کریسی ان کا سہارا بن جاتی ہے۔ اسے ان تینوں ستونوں میں موجود اپنے پیٹی بھائیوں کے ساتھ یک جہتی کے سارے حربے از بَر ہو چکے ہیں۔ برسرِ اقتدار انتظامیہ کی ناکامی کا ایک بڑا سبب اس ادارے (اگر اسے ادارہ کہا جا سکتا ہو) کی وہ نیم دلانہ کارکردگی ہے جو ناکارکردگی کی ذیل میں شمار ہونے لگی ہے۔

پرویز مشرف کے جانے کے بعد فوج نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ سول حکومت کے کسی کام میں رخنہ اندازی نہیں کرے گی اور اپنے مشاورتی رول سے بھی کنارہ کش رہے گی۔ لیکن گزشتہ ایک ڈیڑھ برس سے جب اس نے یہ کہنا شروع کیا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ ایک ہی صفحے پر ہے تو اپوزیشن نے اس کا غلط مطلب نکال لیا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ حکومت کے ساتھ ہونے کا مطلب، اپوزیشن کی مخالفت ہے۔

میں شائد 180ڈگری غلط سوچ رہا ہوں گا لیکن مجھے ہر گزرتے دن سے خوف آ رہا ہے۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ فوج کی قوتِ برداشت جواب دینے لگی ہے اور گزشتہ دو تین دنوں کے واقعات نے تو اسے اپنی حدِ برداشت کے دوسرے کنارے تک پہنچا دیا ہے۔ شائد کوئی بڑا سانحہ رونما ہونے کو ہے…… ایک ایسا سانحہ جو گزشتہ چار مارشل لائی ادوار سے مختلف ہو گا۔ پہلے مارشل لاء پُرامن ہوا کرتے تھے لیکن اس دفعہ جو کچھ ہونے والا ہے وہ پُرامن نہیں ہوگا۔ فوج اب مزید ”کھسّی پن، ستّو نوشیدنی، دھنیا خورانی اور نامردی“ کے طعنے برداشت نہیں کر سکتی۔ خدا کرے میں غلط ہوں لیکن مجھے فوج کی یہ خاموشی جو ان دوچار دنوں میں دیکھنے کو مل رہی ہے کوئی نیک شگون نہیں لگ رہی۔ شائد وہ کچھ ہونے والا ہے جس کی امیدیں اپوزیشن، میڈیا اور بیورو کریسی کو لگی ہوئی ہیں۔ 2008ء کے بعد جب پرویز مشرف کوچ کر گئے تھے تو ہمارے کئی سیاسی بزرجمہروں نے یہ حکم لگایا تھا کہ اب مارشل لائی دور کا مکمل خاتمہ ہو گیا ہے۔ معلوم ہونے لگا تھا کہ فوج بھی اس بزرجمہرانہ سوچ کے ساتھ ہے۔ لیکن اس کا انجام کیا ہوا؟ کیا فوج کی Restraint نے ملک یا قوم کی بگڑی سنواری؟…… میرا خیال ہے حالات بد سے بدتر ہو رہے ہیں۔ اب کے کوئی ہلچل ہوئی تو وہ پُرامن نہیں رہے گی۔ خدا نہ کرے دشمنوں کی امیدیں برآنے والی ہیں۔ ایک ایسا جھاڑو پھرنے والا ہے جو سب گرد و غبار صاف کر دے گا یا پھر خود ٹوٹ جائے گا!

مزید : رائے /کالم


loading...