سی پیک منصوبوں کی تکمیل کیلئے اتھارٹی

سی پیک منصوبوں کی تکمیل کیلئے اتھارٹی
سی پیک منصوبوں کی تکمیل کیلئے اتھارٹی

  



2008ء کے اقتصادی بحران کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک کی معیشتیں پست ہوگئیں اور وہ ملک ابھی تک اس بحران کے زد میں ہیں۔ اس عالمی اقتصادی بحران نے چین کی معیشت کو بھی متاثر کیا تاہم چینی قیادت نے ون بیلٹ ون روڈ کا ویژن متعارف کروایا۔ اسی ویژن کے ذریعے چین یورپ، ایشیا و افریقہ کے ساتھ کاروبار کرکے نئے سرے سے ترقی کی راہیں تلاش کرنا چاہتا ہے۔ سی پیک بھی نئے مواقع پیدا کرنے کا زبردست ذریعہ ہے۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سی پیک پاکستان اور چین ہی نہی بلکہ پورے خطہ کے لئے گیم چیلنجر ہے۔ سی پیک کے ذریعہ پسماندہ علاقوں کو ترقی کے عمل سے جوڑا جارہا ہے اور مستقبل قریب میں ملک کی معیشت صنعتی انقلاب سے ہمکنار ہوگی۔

سی پیک کوئی فوجی منصوبہ نہیں بلکہ اقتصادی خوشحالی کا منصوبہ ہے۔ اس کو تعصب کی نگاہ سے دیکھنے والے بھارت کو آج وہاں کی تھنک ٹینک کے لوگ یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ ترقی کا بھارتی حکومت تعصب کو بالائے طاق رکھ کر منصوبے میں شامل ہو جائے۔ جلد ہی بھارت کو پتہ لگ جائے گا کہ سی پیک میں شمولیت کے بغیر اس کی ترقی کے لئے کوئی اور چارہ نہیں ہے۔خطے میں نیا ریجنل بلاک بن رہا ہے، جس میں پاکستان کا کردار اہم ہوگا۔

آج کل ایک بات بار بار کی جاتی ہے کہ سڑک اور موٹروے بنائے جا رہے ہیں اس سے کیا قو میں ترقی کرتی ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ سڑک اور موٹروے ملک کی اقتصادی اور معاشی ترقی میں بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس منصوبے سے نہ پاکستان اورچین بلکہ ترکی‘ وسطی ایشیائی ریاستوں اور مشرق وسطیٰ کے درمیان جغرافیائی قربت بڑے گی اورترقی کے نئے مواقع ملیں گے۔آج سے چند سال پہلے چینی مصنوعات کی عالمی منڈی تک بآسانی رسائی کے لئے پاکستان کے راستے گوادر پورٹ اور اس سے آگے سمندری راستے سے دنیا بھر تک رسائی صرف ایک خواب تھا‘ آج اقتصادی راہداری کے ذریعے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ یہ طویل راہداری چین کے صوبے سنکیانگ کو باقی تمام دنیا سے پاکستان کی مدد سے جوڑے گی اور یوں چین مزید ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔سی پیک منصوبہ اہم ہے، جس کے ذریعے ملک بھر میں سڑکوں کا جال بچھایا جائے گا اور عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔

پاکستان میں چین کے نائب سفیر کا کہنا ہے کہ سی پیک اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ گوادر میں ائرپورٹ کی توسیع، ووکیشنل ٹریننگ سینٹر اور ہسپتا ل چینی گرانٹ سے تعمیر کئے جا رہے ہیں اور سی پیک کا دوسرا مرحلہ خصوصی اقتصادی زونز کی تعمیر ہے جبکہ پہلا اقتصادی زون تعمیرکے آخری مرحلے میں ہے۔ اقتصادی زونز میں صوبائی حکومتوں سے اپنی ذمہ داریاں جلد پوری کرنے کی توقع ہے جب کہ سی پیک میں تیسرے فریق کی شمولیت پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ ایران بھی چاہتا ہے کہ اپنی تمام تر صلاحیتوں اور توانائیوں کیساتھ سی پیک میں شامل ہوجائے۔

چین نے یہ واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ مل کر سی پیک منصوبہ میں کام آگے بڑھایا جائے گا اور اس میں توسیع بھی کی جائے گی تاکہ پاکستان کی تعمیر و ترقی کی خودمختارانہ صلاحیت کو بہتر بنایا جاسکے۔ پاکستان غربت اور کرپشن کے خاتمے کیلئے چینی تجربے سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ زراعت کی ترقی کیلئے بھی چین کے تجربے اور ٹیکنالوجی سے استفادہ چاہتے ہیں۔ سی پیک نئے پاکستان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرے گا۔ سی پیک میں بلوچستان کی بنیادی اہمیت ہے لہذا بلوچستان کی ضروریات کے مطابق جاری منصوبوں کی تکمیل کے علاوہ مجوزہ منصوبے پر بھی عملدرآمد کیا جائے گا اور بلوچستان میں چینی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔

سی پیک پاکستان سمیت پورے جنوبی ایشیاء و وسطی ایشیاء کی مسلم ریاستوں کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اسکے ذریعے توانائی‘ انفراسٹرکچر‘ گوادربندگاہ اور سپیشل اکنامک زونز کے قیام اور انہیں ترقی دینے کے نادر مواقع میسر آئیں گے۔ سی پیک وطن عزیز کے روشن مستقبل کا ضامن ہے۔یہ ہماری اکنامک سیکیورٹی اور خوشحالی کی نوید ہے۔ بھارت اور پاکستان مخالف دیگر طاقتیں اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہی ہیں مگر ہمیں اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اسی عزم اور جذبے کا ثبوت دینا ہوگا جس کا مظاہرہ ہم نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی خاطر کیا تھا۔

حکومت پاکستان سی پیک منصوبوں میں تیزی لانے کے لیے آرڈیننس کے ذریعے سی پیک اتھارٹی کا قیام عمل میں لائی ہے۔ سی پیک اتھارٹی چیئرپرسن، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز (آپریشنز)، ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) اور چھ ارکان پر مشتمل ہو گی۔ان تمام عہدوں پر تعیناتیوں کا اختیار وزیر اعظم کو حاصل ہو گا۔ تعیناتی کی مدت چار سال ہو گی جس میں ایک بار توسیع بھی کی جا سکے گی۔ آرڈیننس کے تحت وزیراعظم سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین ہوں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ کو اتھارٹی کا چیئرمین بنایا گیاہے۔ اتھارٹی کو اختیار ہو گا کہ وہ ٹھیکے کر سکے، جائیداد خرید سکے، کسی پر مقدمہ کر سکے یا اپنے خلاف کسی مقدمے کا دفاع اپنے نام سے کر سکے۔ سی پیک اتھارٹی کا ہیڈ آفس اسلام آباد میں ہو گا۔ اتھارٹی سی پیک معاہدوں کے تحت جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے اور چین کے ساتھ نئے منصوبوں کے بارے میں تجاویز دے سکے گی۔

پاکستان چین کے تعاون سے بنائے جانے والے سی پیک ون روڈ ون بیلٹ منصوبے سے ملکی تعمیر و ترقی کی خوشگوار امید رکھتا ہے مگر ہمارے دشمن اس منصوبے کو پروان چڑھتا نہیں دیکھنا چاہتے بلکہ اس کی راہ میں ہر ممکن رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کا سب سے بڑا مخالف تو ظاہر ہے کہ بھارت ہے لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ اب دنیا کا اکلوتا سپر پاور امریکہ بھی ہمارے ازلی دشمن کی زبان بولنے لگا ہے۔ سی پیک پر اعتراض کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ دنیا بھر میں کئی سڑکیں اور گزرگاہیں موجود ہیں، تاہم کسی ملک کو صرف ایک گزرگاہ اور ایک سڑک کے ذریعے اپنی اجارہ داری قائم نہیں کرنی چاہیے لہذا امریکا ون بیلٹ ون روڈ کی مخالفت کرتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے اس منصوبے کی مخالفت کی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان سے گزرنے والے اس منصوبے کا ایک حصہ سی پیک کشمیر سے ہوکر گزرے گا جو کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جو خود کسی تنازع کو جنم دے سکتا ہے اس طرح سے وہ خود ہی اپنی کمزوری کو ظاہر کر رہا ہے۔

امریکہ کی طرف سے اس بیان پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان ستر سال سے واویلا کر رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس پر بھارت نے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ اس ریاست کی نوے فیصد سے زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے جو ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں مگر بھارت نے وہاں سات لاکھ فوج مسلط کر رکھی ہے جو نہتے کشمیریوں پر رات دن ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑتی رہتی ہے اور پیلٹ گن کی فائرنگ سے انھوں نے بے شمار لڑکوں لڑکیوں کی آنکھیں پھوڑ کر انہیں نا بینا کر دیا ہے۔ متنازعہ علاقے سے امریکہ کی مراد آزادکشمیر ہے تو امریکہ کو مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا قبضہ کیوں نظر نہیں آتا، حالانکہ یہ تنازعہ سال ہا سال سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ پاکستان اور چین نے امریکا کا یہ اعتراض مسترد کر دیا ہے۔

چنانچہ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم ماضی کی غلطیاں دہرانے سے گریز کریں اور قدرت کی طرف سے عطا کردہ اس نادر موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔

مزید : رائے /کالم


loading...