کو الالمپور کانفرنس آج پاکستان کے بغیر شروع ہو گی، ترکی، ایران اور قطر شریک

کو الالمپور کانفرنس آج پاکستان کے بغیر شروع ہو گی، ترکی، ایران اور قطر شریک

  



تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

کوالالمپور سربراہی کانفرنس آج پاکستان کی شرکت کے بغیر شروع ہو رہی ہے جس میں ترکی، ایران اور قطر کے سربراہوں کے  علاوہ 53 ملکوں کے  سینکڑوں مندوبین بھی شرکت کر رہے ہیں جن میں اسلامی سکالر، دانشور اور صاحب الرائے ممتاز شخصیات شامل ہیں۔ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کی میزبانی میں ہونے والی اس کانفرنس  پر ابتدا ہی میں ایک برا شگون سایہ فگن ہوگیا، جب پاکستان کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ وہ کانفرنس میں شریک نہیں ہوسکتا، جس کی وجوہ سے وزیراعظم عمران خان نے مہاتیر محمد کو آگاہ کیا، جنہوں  نے  اس ضمن میں پاکستان کے موقف کو سمجھ کر آئندہ سعودی عرب جانے اور کانفرنس کے ضمن میں اس کے تحفظات کو دور کرنے کا اعلان کیا۔ کانفرنس کا تصور نیویارک میں اقوام متحدہ  کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اجاگر ہوا تھا جب وزیراعظم مہاتیر محمد اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسلامی تعلیمات اجاگر کرنے کے لئے ایک خصوصی ٹی وی چینل کی تجویز بھی پیش کی تھی، سربراہی کانفرنس میں مسلمان ملکوں کو درپیش مسائل زیربحث لائے جائیں گے اور آگے بڑھنے کا راستہ تجویز کیا جائے گا، بظاہر تو کانفرنس کے مقاصد سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا اور بادی النظر میں کسی اسلامی ملک کی طرف سے اس کی مخالفت نہیں ہونی چاہئے، لیکن اس وقت حیرت ہوئی جب پاکستان نے پہلے اعلان کیا کہ وزیراعظم عمران خان اس کانفرنس میں نہیں جائیں گے اور ان کی جگہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نمائندگی کریں گے، لیکن بالآخر پاکستان سرے سے کانفرنس سے دور ہوگیا ہے، حالانکہ جب نیویارک میں اس کی تفصیلات طے ہو رہی تھیں تو وزیراعظم عمران خان اس منصوبے میں ہم مشورہ تھے۔ انہوں نے مہاتیر محمد اور رجب طیب اردوان کے اس منصوبے کی حمایت کی تھی، لیکن دو ڈھائی ماہ کے عرصے میں پاکستانی گرمجوشی سردمہری میں بدل گئی اور یہ نظر آگیا کہ ابتدا میں جو منصوبے جس طرح نظر آتے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی چمک دمک ویسی نہیں رہتی، اس منصوبے کو اقوام متحدہ کی حمایت بھی حاصل تھی۔

سربراہ کانفرنس میں شریک دو ممالک یعنی ایران  اور قطر ایسے ہیں جن کے تعلقات سعودی عرب کے ساتھ اچھے نہیں ہیں، بلکہ اول الذکر کے ساتھ تو سفارتی تعلقات بھی نہیں، قطر بھی سعودی عرب اور یواے ای کی نظروں میں پسندیدہ نہیں ہے، ایسے میں اگر پاکستان شریک کانفرنس ہو جاتا تو سعودی عرب اسے اپنی سبکی محسوس کرتا۔ چنانچہ سعودی حکمرانوں نے کوشش کرکے پاکستان کو کانفرنس کے سائے سے بھی دور رکھا، تو سوال یہ ہے کہ اس موقع پر ایسا کیا خطرناک ہو رہا ہے کہ پاکستان کو اس سے دور رکھنا ضروری ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ملائیشیا اور ترکی مل کر ایک نیا مسلم بلاک تشکیل کرنے میں کوشاں ہیں، جس سے سعودی عرب اور اس کے حامیوں کو باہر رکھا جائے۔ اگرچہ ایسا نیا بلاک بنانا آسان نہیں ہے اور اس کے راستے میں دوچار نہیں، بہت سے سخت مقامات آتے ہیں جن کا اندازہ ابتدا ہی سے ہوگیا ہے، ایسے میں اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لئے چینل کا منصوبہ بھی آگے بڑھتا ہے یا نہیں، اس کا اندازہ کانفرنس کے اختتام پر ہو جائے گا، ترکی کے ساتھ اگرچہ سعودی عرب کے اختلافات کی سنگینی وہ نہیں ہے جو ایران کے ساتھ ہے لیکن ترکی میں صحافی عدنان خشو جی کے قتل کے بعد اور اس میں شہزادہ محمد کے مبینہ کردار کے تذکرے کی وجہ سے اختلافات بہرحال سنگین ہیں۔ کانفرنس کے معاملے میں پاکستان نے سفارتی مہارت کا کوئی اچھا مظاہرہ نہیں کیا اور جس انداز میں معاملے کا ڈراپ سین ہوا اسے بری ڈپلومیسی کی مثال قرار دیا جاتا ہے۔ 

پاکستان نے اس سلسلے میں جو طرز عمل اپنایا ہے وہ ڈپلومیسی کی دنیا میں ایک عجوبہ ہی کہلائے گا۔ یہ کہنا کہ پاکستان نے کوالالمپور کانفرنس میں شریک نہ ہو  کر مسلم امہ کو اختلافات سے بچا لیا ہے۔  اس کی حیرت ناک مثال ہے مسلم امہ میں پہلے کتنا اتحاد ہے اور اس اتحاد کے مظاہرے کی جب کبھی ضرورت پڑی ہے، مسلمان ملکوں کی تنظیم او آئی سی اس پر کس حد تک پوری اتری ہے، یہ کوئی رازکی بات نہیں، سعودی عرب، ایران اختلافات بھی پوری دنیا کے علم میں ہیں یہ بھی اندازہ ہوگیا کہ جو ملک معاشی مصلحتوں کے بندھن میں بند ھے ہوتے ہیں ان کے لئے آزاد خارجہ پالیسی پر کاربند ہونا کتنا مشکل ہوتا ہے اور اگران کا کوئی لیڈر یہ دعوی کرکے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے کیسی  مشکلات درپیش آتی ہیں، اس مسئلے کا بہترین حل یہ ہے کہ کوئی بھی بڑا قدم اٹھانے سے پہلے اس سلسلے میں دفتر خارجہ کی رائے کو اہمیت دی جائے، اور خواہشات پر چلنے سے گریز کیا جائے، کوالالمپور کانفرنس کے سلسلے میں اگر یہ رویہ اپنایا جاتا تو وہ سبکی نہ ہوتی تو پاکستان کے حصے میں آئی۔

کوالالمپور کانفرنس

مزید : تجزیہ /رائے