گھڑی گھڑی،گھڑی نہ دیکھو ۔۔.

گھڑی گھڑی،گھڑی نہ دیکھو ۔۔.
گھڑی گھڑی،گھڑی نہ دیکھو ۔۔.

  



جینٹن والز نامور امریکی مصنفہ اور صحافی جن کی وجہ شہرت ’’ گلاس والز ‘‘ جیسی مشہور تصنیف ہے نے کہا تھا ’’ ہیروں کی نسبت مجھے گھڑیاں زیادہ پسند ہیں کیونکہ ان کا استعمال عملی طور پر ہوتا ہے ، یہ ہیروں کی طرح محض سجاوٹ نہیں بلکہ وقت انسان کی زندگیوں کو منظم کرتا ، لوگوں کو متحرک کرتا اور انھیں سماجی طور پر قریب لاتا ہے ‘‘

لیکن فی زمانہ موبائل نے جہاں ہمارے خوبصورت پل اور دلفریب رشتوں کی رعنائی کو چرا لیا وہیں گھڑی سازی بھی تقریبا ختم ہی ہو گئی ۔ اب وقت دیکھنے کے لئے گھڑی نہیں بلکہ موبائل کو دیکھا جاتا ہے ۔

سونی کلائیاں اب رنگ برنگے بریسلیٹس سے سجی نظر آتی ہیں ، اب سب کے پاس وقت موبائل کی صورت میں تو ہے لیکن کسی کو دینے کے لئے کوئی وقت نہیں ۔

اب تو وہ شادیوں کی تقریبات بھی قصہ پارینہ ہوئیں جہاں دولہا میاں کو گھڑی تحفے میں دی جاتی تھی اور وہ لیجاتے شرماتے ہوئے گھڑی پہن کر اتراتے پھرتے تھے ۔ پہلے پہل تو جو گھڑی باندھتا تھا اسے بابو جی سمجھا جاتا تھا کہ جناب بابو صاحب سے ٹائم پوچھ لیتے ہیں یا یہ تاثر عام تھا کہ اس نے گھڑی پہنی ہوئی ہے ضرور پڑھا لکھا بندہ ہو گا ۔

لیکن جیسے جیسے زمانہ بدلا ، طرز زندگی نے ایک نئی کروٹ لی ، پیسہ کی بہتات ہوئی تو گھڑی سازی کی صعنت بھی زوال پذیر ہو گئی ، اب اگر آپ دیکھیں تو خال خال ہی آپ کو لوگ گھڑیاں خریدتے پہنتے اور پھر مرمت کرواتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔

اب صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ موبائل کون سے ماڈل کا ہے ، کتنے ہزار کا ہے ، کیسا ڈسپلے ہے اور کیا کیا فیچرز ہیں ۔ اکثر لوگوں کی تنخواہ ۱۵ ہزار تک ہو گی او رموبائل ان کے ہاتھ میں ۵۰ ہزار کا ہو گا جو یقینا حماقت کا اعلی ثبوت ہے ۔

لیکن دنیا میں ابھی بھی باذوق افراد کی کمی نہیں اگر ایسا نہ ہو سوئزرلینڈ کی کمپنی دنیا بھر میں سب سے زیادہ گھڑیاں نہ بناتی ہو، رولیکس کمپنی ۲۰۰۰ گھڑیاں روزانہ کی بنیادوں پر تیار نہ کرے ۔پھر تو لوگ رولیکس گھڑیاں نہ پسند کریں جنہیں مارٹن لوتھر کنگ نے بھی پہنا ، دلائی لامہ اور جمیز بانڈ نے بھی اپنی کلائی کی زینت بنایا ۔

اگرچہ یہ ہے کہ ایسی مہنگی ترین گھڑیاں جن کی قیمت فراری گاڑیوں سے بھی تجاوز کر جاتی ہے صرف امرا یا اشرافیہ جیسا طبقہ ہی افورڈ کر سکتا ہے ۔

لیکن یہ انسان کی انفرادیت ، وقت سے محبت اور وقار و تمکنت کی نشانی بھی سمجھی جاتی ہیں ۔ دنیا بھر کی گھڑیوں میں سب سے مہنگی گھڑی پاٹیک فلیپی ہے Patek Philippe جو ۱۸۵۱ میں بنائی گئی اور اسے ملکہ وکٹوریا اور پرنس البرٹ نے بھی استعمال کیا ۔یہ گھڑی بریڈ پٹ ، البرٹ آئن سٹائن اور پکاسو نے بھی پہنی ۔ اس گھڑی میں تقریبا ۱۸ قیراط سونا لگا ہوا ہوتا ہے ۔

رولیکس گھڑیاں لندن میں تیار ہوئیں لیکن بعد ازاں سوئزرلینڈ میں ان کی تیاری ہونے لگی ۔ کئی گھڑیاں ایسی ہیں جن کے ڈائل قیمتی ہیروں ، پتھروں ، نگینوں اور مختلف دھاتوں سے تیار کئے جاتے ہیں ۔ تاہم یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ رولیکس کی گھڑیاں آج کل مارکیٹ میں نقلی بھی فروخت ہو رہی ہیں ۔

گھڑی آپ خواہ کسی دکان سے لیں یا کسی مال سے ، وہ ایک ہزار کی ہو یا ایک لاکھ کی ، کام اس کا وقت بتانا ہی ہے لیکن آپ کے ذوق کی تسکین کے لئے اچھی چیز کا انتخاب شرط ہے ۔

 گھڑی باربار نہ دکھئیے اور نہ ہی موبائل ، کیونکہ باربار دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں اور یہ کچھ اچھا تاثر بھی نہیں ڈالتا ۔ اصل چیز اسی وقت کو بہتر انداز سے اپنی فیملی کے لئے وقف کر کے زندگی کو انجوائے کرنا ہے ۔

کیونکہ مشہور انڈین فلم کا یہ گانا تو آپ سب نے سن رکھا ہو گا ’’ ہر گھڑی بدل رہی ہے روپ زندگی ، چھائوں ہے کبھی کبھی ہے دھوپ زندگی ، ہر پل جی بھر جئیو ۔۔تو سب وقت کی گذرتی ساعتیں اور گھڑیاں ہمیں یہی پیام دیتی ہیں کہ لمحہ موجود میں جیا جائے ۔۔۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...