سنگین غداری کیس میں تین ججوں میں سے دو کا سزائےموت کا فیصلہ لیکن دراصل کس جج نے اختلاف کیا؟نجی ٹی وی چینل نام سامنے لے آیا

سنگین غداری کیس میں تین ججوں میں سے دو کا سزائےموت کا فیصلہ لیکن دراصل کس جج ...
سنگین غداری کیس میں تین ججوں میں سے دو کا سزائےموت کا فیصلہ لیکن دراصل کس جج نے اختلاف کیا؟نجی ٹی وی چینل نام سامنے لے آیا

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سیٹھ وقار کی سربراہی میں خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ نے دو ایک کی اکثریت سے سنگین غداری کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت سزائے موت کی سزا کا فیصلہ سنایا تھا۔

تفصیلات کے مطابق خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس کا فیصلہ 17 دسمبر کو سنایا تھا جس میں ایک جج نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا تاہم اب نجی ٹی وی جیونیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاہے اختلاف کرنے والے جسٹس نذر محمد تھے جبکہ اکثریتی فیصلہ جسٹس وقار سیٹھ اور جسٹس شاہد فضل کریم نے کیا ۔

واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس نذر اکبر 1977-78 میں کراچی یونیورسٹی کے انگریزی ڈپارٹمنٹ کی انگلش لٹریسی سوسائٹی کے جنرل سیکریٹری، 1978-79 میں کراچی یونیورسٹی کے انگریزی ڈپارٹمنٹ کی انگلش لٹریسی سوسائٹی کے نائب صدر اور 1978-79 کے انگریزی ڈپارٹمنٹ کے سالانہ میگزین ’ہارویسٹ‘ کے میگزین سیکریٹری منتخب ہوئے۔ انہوں نے کراچی میں 18 جنوری 1986 سے 14 مئی 1987 تک بطور ایڈوکیٹ پریکٹس کی۔

انہوں نے 15 مئی 1989 تا 10 نومبر 1988 سول جج اور فرسٹ کلاس مجسٹریٹ خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے 23 جولائی 1989 کو ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ کی حیثیت سے اندراج کرایا۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جرنل میں پاکستان میں عدلیہ اور بار کا کردار، کراچی کے پندرہ روزہ ’دی لاء‘جرنل میں ’دی فرسٹ تھنگ وی ڈو، لیٹس کل آل دی لایرز اینڈ اے تارا ماشی‘ شائع ہوئے۔

مزید : قومی