سانحہ پی آئی سی کے بعد معروف قانون دان علی احمد کرد کا دفاع لیکن اب انہیں سینئر کالم نویس نے آئینہ دکھادیا، کھری کھری سنادیں

سانحہ پی آئی سی کے بعد معروف قانون دان علی احمد کرد کا دفاع لیکن اب انہیں ...
سانحہ پی آئی سی کے بعد معروف قانون دان علی احمد کرد کا دفاع لیکن اب انہیں سینئر کالم نویس نے آئینہ دکھادیا، کھری کھری سنادیں

  



لاہور (ویب ڈیسک) سانحہ پی آئی سی کو کئی دن گزر چکے ہیں، کئی وکلا گرفتار اور جیلوں میں ہیں جبکہ اس  ہنگامے کے بارے میں ابھی کوئی واضح بات سامنے نہیں آسکی تاہم کئی سینئر وکلا بھی وہاں جانیوالے وکلا کے دفاع میں میدان میں آئے تھے جن میں علی احمد کرد بھی شامل تھے، اب سینئر کالم نویس نے روزنامہ پاکستان میں چھپنے والے اپنے کالم میں روشنی ڈالی ہے جس کے مندرجات یہ ہیں۔

زیڈ بی پسروری نے لکھا کہ ’’کرد صاحب اور ان جیسے چند جوشیلے وکلاء کو سن کر بہت رنج ہوا۔جہاں وکلاء قانون توڑنے پر فخر کریں اور ان کے لیڈر اس کا جوا زپیش کرتے ہوئے دھمکیاں دیں،وہ کیسے ہمیں کہہ سکتے ہیں کہ یہاں جمہوریت اور آزاد عدلیہ ہونی چاہئے، جبکہ ان کا اپنا کردار سراسر آمرانہ ہے۔انسانیت کی دھجیاں اڑا دی گئیں،کالے کوٹ والوں نے انسانی تاریخ کا بدترین فعل کر ڈالا،زندہ ضمیر انسان یہ دلخراش منظر دیکھ کر خون کے آنسو رورہے ہیں او ر یہ ہمیں دھمکیاں دے رہے کہ ظلم کو جائز مانو، وحشت کو قبول کرو،ہمارے سورماؤں کے ہسپتا ل فتح کرنے پر چہرے چھپانے کی بجائے ان کے گلے میں ہار ڈالو،ہسپتال اجڑنے کا نوحہ پڑھنے کی بجائے خوشی کے نغمے گاؤ، اخلاقی زوال کی اس سے پست سطح مَیں نے تو تاریخ کی کسی کتاب میں نہیں پڑھی۔اب گالیاں پڑ رہی ہیں تو رنج کیسا؟ہر قانون توڑنے والے کا مقدر ہوتی ہیں۔،منہ پر کپڑا ڈالنے کا ملال کیوں، دہشت برپا کرنے والوں کے ساتھ مہذب معاشروں میں یہی سلوک ہوتا ہے……کرد صاحب! آپ شاید بنیادی انسانی فلسفہ بھول رہے ہیں کہ ہمیں لوگ کس نظر سے دیکھ رہے ہیں اور ہمیں کیا مقام دے رہے ہیں؟اس کا فیصلہ دوسرے نہیں کرتے خود ہمارا کردار کرتا ہے جو ہم دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

نفرت،اشتعال،فساد،خون ریزی اور ظلم و جبر کو انسانی معاشرے میں قابل نفرت ہی سمجھا جاتا ہے، انسانی ضمیر کا اس کے علاوہ قدرت نے کوئی نظریہ رکھا ہی نہیں تو پھر لوگ کیسے قبول کرلیں؟ایک دھونس نے اس سطح پر لا کھڑا کیا ہے، مزید دھونس مزید ذلت ہی دے گی، اب دھونس چھوڑیں اور اس ظالمانہ فعل کی سب سنیئر وکلاء مذمت کریں اور اپنے کردار سے نوجوانوں کی ایسی تربیت کریں کہ آپ کو آئندہ اس قدر شرمندہ نہ ہونا پڑے۔کرد صاحب! آپ جنرل پرویز مشرف کی آمریت پر حق پر تھے تو قوم آپ کے ساتھ تھی، آج آپ وکلاء آمریت کے ساتھ ہیں تو قوم آپ کے ساتھ کیسے کھڑی ہو۔اگر آپ حق پر کھڑے ہیں تو پھر جواز کیسا، اگر آپ غلط ہیں اور غلط فعل کا جواز پیش کر رہے ہیں تو پھر آپ بھی شریک جرم ٹھہرے،آپ لوگوں کے غم و غصے کو خود دعوت دے رہے ہیں۔

جناب کرد صاحب، اگر سندھ کی ایک خاتون ایم پی اے کسی خاتون ٹیچر کو تھپڑ مارتی ہے تو قانون حرکت میں آجاتا ہے کہ طاقتور نے کمزور سے زیادتی کی،ایک وفاقی وزیر اعظم سواتی کے کھیت میں کسی کے جانور چلے جائیں، وہ اس غریب آدمی پر تشدد کرے تو جرم مانا جائے اور اسے استعفا دینے کا حکم ملے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار، خاور مانیکا کے کہنے پر ایس پی بدل دے تو یہ اختیار کا ناجائز استعمال ہے تو پھر دن دیہاڑے ہسپتال پر وحشت و ظلم برپا کرنے والے کالے کوٹ والوں کے کیا ہاتھ چومیں کہ انہوں نے بڑا عظیم کام کیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنا گناہ ٹھہرا……قانون تو سب کے لئے برابر ہے اور یہی ریاست کا اصول ہونا چاہئے۔

کارڈیالوجی سنٹر فتح کرنے کا سانحہ ہو یا اس سے پہلے کے واقعات پر غور کیا جائے تو بہت بڑے معاشرتی اخلاقی زوال کی نشاندہی ہوتی ہے۔مذہبی جماعت کے احتجاج کے دوران مزدور بچے کی کیلے کی ریڑھی پر دھاوا بول دیا گیا اور بہادروں نے کیلے کی ریڑھی پر اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ یہ مذہبی جماعت اپنے کارکنوں کو بنیادی انسانی فلسفہ ہی نہ سکھا سکی، سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے دوران اکثر نیوز چینلوں کو ان کے نظریے سے اختلافی پروگرام دکھانے پر ان کے رپورٹرز پر تشدد کیا جاتا ہے۔ یہ سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو جمہوریت کا بنیادی نکتہ اختلاف رائے بتانے سے محروم ہیں۔

وکیل کالا کوٹ پہن کر لاقانونیت کر ڈالتے ہیں، حالانکہ یہ قانون پر عملدرامد کرنے والے مثالی کردار کے قابل ہونے چاہئیں،ڈاکٹر مسیحا ئی کی ڈگری لے کر مریضوں کو تڑپتا چھوڑ کر ہڑتال پر چلے جاتے ہیں۔علماء دل آزاری پر مبنی واعظ کرتے ہیں اور لوگوں کی ذاتی زندگیوں پر الزام تراشی تک سے گریز نہیں کرتے اور اساتذہ جو باپ کا درجہ رکھتے ہیں، انہیں اخلاقی ماڈل ہونا چاہئے۔ وہ یونیورسٹیوں میں اخلاقی تربیت دینے کی بجائے خواتین شاگردوں کو ہراساں کرتے ہیں۔ یہ سب اخلاقی زوال کی نشانی ہے۔ ہمارے ہاں دانشور طبقے کو آگے آنا چاہئے اور تعلیم کے ساتھ تربیت میں اپنا حق ادا کرنا چاہئے۔

والدین کا بھی بہت اہم رول ہے۔ہم اگر بطور والدین، اساتذہ، علماء،لیڈر اور لکھاری اپنا حق ادا نہیں کریں گے تو معاشرہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی جیسے اخلاقی زوال کے دلخراش مناظر دیکھنے پر مجبور ہوتا رہے گا۔یہ ڈاکٹر، وکلاء اور سیاسی کارکن ہمارے ہی معاشرے کا حصہ ہیں اور وہی تصویر پیش کر رہے ہیں جو ہم بڑوں نے ان کی تربیت میں کوتاہی برت کر انہیں پیش کرنے پر مجبور کیا ہے اور اس پر یہ پشیمان ہونے کی بجائے مزید ڈھٹائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو بہت بڑا المیہ ہے۔ہمیں کسی صورت کسی جتھے کو قبول نہیں کرنا چاہئے۔

ریاست تب ہی فعال کردار ادا کر سکتی، جب وہ جتھوں کو قانون کے اندر رہنے پر مجبور کرے۔ریاست سے طاقتور کوئی جتھہ نہیں ہوتا۔وکلاء کو، ڈاکٹروں کو اور خود سیاسی جماعتوں کو سمجھنا ہوگا کہ ان کی جتھوں کی صورت میں دھونس ریاست کو کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہے اور یہ ملک سے ہمدردی نہیں اور نہ ہی ایسے واقعات سے بیرونی دنیا میں ہمارا تشخص اچھا بن رہا ہے‘‘۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...