” پاکستانی قانون کے تحت ایسا ممکن نہیں، اور مجھے بتایا گیا ہے کہ ۔ ۔ ۔“پرویزمشرف کیخلاف تفصیلی فیصلہ جاری ہونے کے بعد بیرسٹرا عتزازاحسن نے قانونی نقطہ واضح کردیا

” پاکستانی قانون کے تحت ایسا ممکن نہیں، اور مجھے بتایا گیا ہے کہ ۔ ۔ ...
” پاکستانی قانون کے تحت ایسا ممکن نہیں، اور مجھے بتایا گیا ہے کہ ۔ ۔ ۔“پرویزمشرف کیخلاف تفصیلی فیصلہ جاری ہونے کے بعد بیرسٹرا عتزازاحسن نے قانونی نقطہ واضح کردیا

  



راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کا تفصیلی فیصلہ جاری کیاجاچکا ہے جس میں موت کی صورت میں لاش کو بھی ڈی چوک لٹکانے کا ذکر کیاگیا اور اب اس سلسلے میں بیرسٹر اعتزازاحسن نے کہا ہے کہ ”یہ پاکستانی قانون کے تحت ممکن نہیں،قانون میں انسان کو پھانسی جاسکتی ہے ،لاش کو نہیں، قانون کی تشریح ہوتی ہے اور اس فیصلے میں تو خود لکھ دیا گیا کہ ، اس کی نظیر ہی کوئی نہیں یعنی عدالتی فیصلہ بھی کہتا ہے ، یہ غلط لکھا ہے ۔

اے آروائے نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزازاحسن کا کہناتھاکہ طالبان نے نجیب اللہ کی لاش کیساتھ ایسا سلوک کیا تھا ، پاکستان میں ایسا ممکن نہیں کہ ڈی چوک تک لاﺅ اور تین دن تک وہاں لٹکائے رکھیں، مجھے بتایاگیاہے کہ دونوں ججوں نے اس پیرے سے اختلاف کیا، یہ ایک ہی جج کا تھا، اس کی انکوائری ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی ایسے جج صاحب کیخلاف کاررروائی ہونی چاہیے کیونکہ قانونی صلاحیت یا دماغی صلاحیت کوبھی دیکھنا پڑے گا ، اس طرح کے جج پاکستانی سسٹم میں موزوں نہیں۔

اپیل کے بارے میں سوال کے جواب میں اعتزازاحسن کاکہناتھاکہ اپیل تو دور کی بات، ججوں کو اس پر سوموٹو لے لیناچاہیے ، یہ فیصلہ موثر ہوچکا ہے لیکن اپیل میں شاید اسے برقرار نہیں رکھ سکیں گے ۔

مزید : قومی


loading...