" ملک میں سیاسی جمہوری نظام شاید نہیں یقینی طور پر حسب سابق چلتا رہے گا،البتہ فیصلے سے جو بات . . . " پرویزمشرف کیس کے بارے میں سینئر صحافی نے دل کی بات کہہ دی

" ملک میں سیاسی جمہوری نظام شاید نہیں یقینی طور پر حسب سابق چلتا رہے گا،البتہ ...

  



لاہور (کالم :محسن گورایہ) سابق صدر اور مسلح افواج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کو غدار قرار دینا اور سزائے موت کا حکم، ملکی ہی نہیں عالمی میڈیا پر بھی زیربحث ہے، سوشل میڈیا پر اس حوالے سے منفی اور مثبت رائے زنی بھی جاری ہے۔ خصوصی عدالت کا فیصلہ منصفانہ ہے؟ اس بارے میں رائے دینا بھی عجیب ہو گا، مگر اس فیصلہ سے جو لوگ کسی سیاسی تبدیلی کی آس لگائے بیٹھے ہیں ان کو شاید مایوسی کا سامنا کرنا پڑے، ملک میں سیاسی جمہوری نظام شاید نہیں یقینی طور پر حسب سابق چلتا رہے گا،البتہ فیصلے سے جو بات نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے وہ خوفناک ہے، محسوس یہ ہو رہا ہے کہ سیاسی زور آزمائی میں ادارے بھی کود پڑے ہیں اگر یہ گمان سچ ثابت ہو گیا تو اس کے نہایت خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں، ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی سابق آرمی چیف کو غدار قرار دیکر سزائے موت سنائی گئی ہو، اگر چہ اس سے قبل جنرل (ر) یحٰیی خان کے خلاف بھی مقدمہ قائم ہوا تھا مگر سزا نہیں دی گئی تھی، متعدد فوجی افسروں کیخلاف ماضی میں مقدمات بنے سزا بھی ہوئی مگر کسی کو غدار کہا گیا نہ موت کی سزا دی گئی۔

خصوصی عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ پرویز مشرف کیخلاف آئین شکنی کا مقدمہ ثابت ہوتا ہے، آئین کے آرٹیکل 6کے تحت انہیں سزائے موت دی جاتی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ آ ئین کے تحت غداری کیا ہے؟ اور غدار کیخلاف آئین کارروائی کا اختیار کس کو دیتا ہے،”آئین پاکستان کا آرٹیکل 6کہتا ہے کہ ہر وہ شخص غدار ہے جو طاقت کے استعمال سے آئین کو منسوخ، تحلیل، معطل یا عارضی طور پر معطل کرتا ہے، یا ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے، یا ایسا کرنے کی سازش میں شریک ہوتا ہے“یہ آئینی تعریف کی وہ شکل ہے جو 18ویں ترمیم کے بعد سامنے آئی ہے، اس جرم کی سزا موت یا عمر قید تجویز کی گئی ہے، یہ پہلا موقع ہے جب کسی فوجی حکمران کیخلاف آئین شکنی کے الزام میں غداری کا مقدمہ چلا ہو، اس فیصلہ کے ملکی سیاست اور نظام پر کیا اثرات مرتب ہونگے اس بارے سابق اٹارنی جنرل منیر اے ملک کہتے ہیں کہ وہ نہیں سمجھتے یہ ملکی سیاست کا اہم کیس ہے، اس مقدمے سے ملکی سیاسی نظام پر کوئی واضح فرق آئے گا نہ جمہوری نظام کی بالادستی اور غیر منتخب اداروں کی طاقت میں کوئی کمی آئیگی۔

عدالتی آئینی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے وکیل حامد خان مشرف کیس کوملک کا اہم ترین کیس نہیں کہہ سکے، مگر وہ یہ کہتے ہیں کہ اس اس فیصلہ سے ایک نئی مثال قائم ہوئی۔ سابق فوجی افسر پر غداری کا مقدمہ چلانا ایک بڑی بات ہے اور سزا دینا اس سے بھی بڑی بات ہے، لیکن اس کی اہمیت اس لئے ماند پڑ جائے گی کہ یہ مقدمہ مشرف کی طرف سے 1999ء میں منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے خلاف نہیں بلکہ نومبر 2007ء میں لگائی گئی، ایمر جنسی لگانے سے متعلق ہے، مشرف خود بھی کئی سال سے ملک میں موجود نہیں ہیں، ملکی تاریخ کے اہم ترین مقدمات پر بات کی جائے تو دو مقدمات اہم ترین ہیں ان میں سے مولوی تمیزالدین اور دو سو کیس ہیں، دونوں فیصلے جسٹس منیر نے دئیے،1958ء میں قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے گورنر جنرل غلام محمد کے فیصلہ کیخلاف سپیکر مولوی تمیزالدین کی درخواست پر جسٹس منیر نے ”نظریہ ضرورت“ کے تحت گورنر جنرل کے فیصلہ کو درست قرار دیا تھا، جس کی وجہ سے جمہوریت اپنے راستے سے ہٹ گئی تھی، دوسو کیس کا فیصلہ بھی اسی سال آیا اور جنرل منیر ہی نے دیا،اس فیصلہ نے بھی منتخب اور جمہوری اداروں بارے کافی مضر اثرات چھوڑے، اس فیصلہ میں جسٹس منیر نے سکندر مرزا اور جنرل ایوب خان کی طرف سے حکومت کا تختہ الٹنے کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دیا، جسٹس منیر نے اپنی سوانح عمری میں بعد ازاں لکھا کہ ”ان کے فیصلے ملک کی بد قسمتی کا باعث بنے“، عاصمہ جیلانی کی طرف سے یحیٰی خان پر دائر کیس کو بھی قانون دانوں نے اہم قرار دیا، جس کے فیصلے میں عدالت نے سابق فوجی سربراہ کو غاصب قرار دیا تھا، یحیٰی خان کیخلاف عدالت فیصلہ کر چکی تھی، مگر فیصلہ تب سنایا گیا جب وہ طاقت میں نہ تھے، ان فیصلوں نے پاکستانی سیاسی تاریخ کی اہم راہ متعین کر دی، ملک آج بھی ان فیصلوں کے چنگل میں جکڑا ہوا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو پر قتل کے الزام میں چلنے والا مقدمہ بھی ملکی تاریخ میں اہم تھا، جس کے اثرات اب بھی ملکی سیاست پر حاوی ہیں، منیر اے ملک کے مطابق بھٹو کی سزائے موت کیخلاف اپیل جس کا فیصلہ چار تین سے ان کیخلاف آیا، اہم ترین کیس ہے جسے آج بھی عدالتی قتل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، عدلیہ کی خود مختاری کے حوالے سے جب بھی بات ہو اس مقدمہ کا ذکر ضرور آتا ہے، ایک اور اہم کیس اصغر خان کا بھی ہے جس میں عدالت نے ریاستی معاملات میں ایک مخصوص ادارے کی مداخلت کو تنقید کا نشانہ بنایا، خاص طور پر انتخابات کے معاملے پر ان کے مینڈیٹ پر سوال اٹھایا، ایک اہم ترین مقدمہ بینظیر بھٹو بمقابلہ ریاست ہے جو 1988ء میں دائر کیا گیا، اس مقدمہ میں سپریم کورٹ نے آئین کی شق 184 (3)کی تشریح میں، مستقبل میں از خود اختیار کا استعمال اور عوامی بہبود کیلئے اٹھائے گئے عدالتی اقدامات کیلئے راستہ ہموار کیا،جس کے اثرات دہایؤں بعد سامنے آئے، سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے ان اختیارات کو خوب استعمال کیا۔عدالتی تاریخ پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ 1955ء اور1958ء میں دیئے جانے والے فیصلوں نے آئین کو زبردست نقصان پہنچایا، جس کی وجہ سے جمہوریت ملک میں صحیح معنوں میں پنپ نہیں سکی۔

جنرل مشرف کیخلاف آنے والے فیصلہ پر پاک فوج اور عوامی حلقوں کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے،سوشل میڈیا پر ہونے والے تبصرے تو نقل کے بھی قابل نہیں مگر پاک فوج کی تشویش کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اگر چہ مشرف کے پاس فیصلہ کیخلاف اپیل کا حق موجود ہے،سوال مگر یہ ہے کہ کیا پاکستانی ریاستی ادارے اتنے بے وقعت ہو گئے ہیں کہ 40سال تک فوج میں رہ کر ملک کی حفاظت کرنے والا، پاک فوج کا سربراہ اور مسلح افواج کا چیف، منتخب صدر غدار قرار دے دیا جائے،آئین کے مطابق آئین شکنی میں معاون بھی ذمہ د ار ہیں، مگر سزا وار صرف ایک جنرل مشرف کو قرار دینا انصاف نہیں۔

کارگل کے بعد جنرل جہانگیر سے استعفیٰ لیکر جنرل مشرف کو آرمی چیف بنانے والا، مودی کو بغیر ویزا ملک میں آنے کی اجازت دینے اور تحفے تحائف کا تبادلہ کرنے والاتو 50روپے کے اشٹامپ پیپر پر یقین دہانی کرا کے علاج کے بہانے بیرون ملک چلا گیا، مگر دشمن کے سامنے سینہ سپر رہنے والا غدار قرار پایا،کیا یہ جمہوریت اور منتخب حکومت کیخلاف کسی غیر سیاسی قوت کو اقدام کی دعوت ہے یا حساس اور اہم ترین ریاستی ادرارے سے قوم کا اعتماد متزلزل کر نے کی کوئی کوشش، اس کا جواب شاید مستقبل میں ہی مل پائے گا فوری ممکن نہیں، اس وقت اعلیٰ عدلیہ کے جج جنہوں نے ایمر جنسی کے بعد مشرف کو حلف دیا کیا، مشرف کے حلیف اور معاون نہ تھے ان کو کیوں کرذمہ دار قرار نہیں دیا گیا، جنہوں نے مشرف کے اقدام کو آئینی جواز فراہم کیا، ان کو معاف کیوں کیا گیا،کیا گڑے مردے اکھاڑنا ملک و قوم سے دوستی ہے یا دشمنی،اس کا جواب ایک دن قوم ضرور مانگے گی تب جسٹس منیر کی طرح معذرت خواہانہ رویئے سے کام نہیں چلے گا۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور