پاکستان علماء کونسل نے پرویز مشرف کو لٹکانے کا فیصلہ غیر شرعی قرار دے دیا

پاکستان علماء کونسل نے پرویز مشرف کو لٹکانے کا فیصلہ غیر شرعی قرار دے دیا
پاکستان علماء کونسل نے پرویز مشرف کو لٹکانے کا فیصلہ غیر شرعی قرار دے دیا

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان علما کونسل کے چیئر مین علامہ طاہر محمود اشرفی نےخصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں پانچ مرتبہ سزائے موت دینے کےفیصلے کو مسترد کرتے ہوئےکہاہے کہ یہ فیصلہ ذاتی سطح پرتو ہےعدل پر نہیں ہے،کیا پاکستان میں چنگیز خان یا ہٹلر کا قانون آ گیا ہے جو لاش کی بے حرمتی کا حکم دیا گیا؟فیصلے سے آئین، قانون ، شریعت اور اخلاق کی دھجیاں بکھیری گئیں،پاکستان میں شریعت اسلامیہ ہو تو اِس جج  کو اس فیصلے پر شریعت کے مطابق تعزیر جاری ہو گی اور انہیں کوڑے مارے جائیں گے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئےعلامہ حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ پاکستان علماءکونسل اس فیصلے کی مذمت کرتی ہے،یہ جو کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کی لاش کی بےحرمتی کی جائے،یہ کون ساقانون ہے؟کیاپاکستان میں آج ہٹلرآگیاہے؟کیاپاکستان میں آج چنگیز خان کاکوئی قانون آگیاہے؟آپ خود انصاف اور آئین کی بات کرتےہیں،کہتےہیں کہ چونکہ آئین سےماوراقدم ہواتھااِس لئےپرویزمشرف کوسزادینےجا رہے ہیں تو آج کا فیصلہ توخود ہی آئینی،قانونی اوراخلاقی طورپردرست نہیں ہے۔اُنہوں نےکہاکہ میں سمجھتاہوں کہ چیف جسٹس صاحب کوجاتےجاتےسوموٹونوٹس لیناچاہئےکہ کوئی بھی شخص آئین اور قانون سےماوراءنہیں ہے، جس جج صاحب نےیہ فیصلہ دیاہےاُنہوں نے تو خودآئین،قانون،شریعت اوراخلاق کی دھجیاں بکھیری ہیں،میں وزیراعظم عمران خان ،چیف آف آرمی سٹاف اورڈی جی آئی ایس آئی سےاپیل کرتاہوں کہ وہ اِس جج صاحب کےبارے میں تحقیقات کریں کہ وہ کن کاکھیل کھیل رہےہیں اور پاکستان میں کون سی اَنارکی پھیلانا چاہتے ہیں؟یہ فیصلہ پاکستان کے خلاف بہت بڑی سازش ہے۔

اُنہوں نےکہا کہ وہ شخص جس نے 40 سال اس ملک کی خدمت کی ہےلیکن جب آپ فیصلہ دیتے ہیں تو اپنے اُن ججوں کو بچاتے ہیں ،آپ اُن سیاست دانوں کو بچاتے ہیں جو جنرل مشرف زندہ باد کے نعرے لگانے والے تھے،آپ اپنے فیصلے میں اُن مولویوں اور صحافیوں کو بچاتے ہیں جو پرویز مشرف کے گیت گاتے رہے،ایک فردِ واحد کوسزادیتےہیں جو فوجی ہے،پچھلےدو تین ہفتوں سےہمیں نظرآرہاہےکہ آپ کاٹارگٹ پاکستان کی فوج ہےلیکن پاکستان کی قوم کسی ایسے فیصلے کو قبول نہیں کرے گی اور نہ ہی یہ فیصلہ قبول کیا جا  سکتا ہے ،یہ فیصلہ قانوناً ، شرعاً ، اخلاقاً اور آئین پاکستان کے بھی صریح خلاف ہے،اگر واقعی ملک میں آزاد عدلیہ ہے اور اس فیصلے میں ’’بڑوں ‘‘ کی بد دیانتی شامل نہیں ہے تو اگلے چند گھنٹوں کے اندر ہی چیف جسٹس آف پاکستان سوموٹو لیں گے ،ویسے تو چند ہفتے پہلے ہی پوری قوم نے فیصلہ سن لیا تھا ،کیا ہی عجیب فیصلہ ہے کہ چند دن پہلے قوم کو فیصلہ سنادیا جاتا ہے اور سنانے والے کا کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

علامہ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ نظر آرہا ہے کہ یہ فیصلہ ایک پلاننگ کا نتیجہ ہے،اس سے پہلے بھی ایک چیف جسٹس تھا جس نے آسیہ مسیح کا فیصلہ کیا اور وہ برطانیہ میں جا کر آباد ہونے کی کوشش کر رہا ہے آج لوگ اُسے جوتے مار رہے ہیں،بہت سارے حقائق نظر آ رہے ہیں کہ عالمی قوتیں پاکستان میں اپنا گھناؤنا کھیل کھیلنا چاہتی ہیں ،وزیر اعظم عمران خان ،آرمی چیف اور قومی سلامتی کے اداروں کو  بہت ساری چیزوں کا اِدراک ہے کہ یہ کھیل کہاں سے   کھیلا جا رہا ہے اور کیا ہو  رہا ہے؟اَب اُنہیں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔اُنہوں نے کہا کہ میں پوچھنا  چاہتا ہوں اِس جج صاحب سے کہ کیا وہ چوہدری  افتخار اور  عبد الحمید ڈوگر کو بھی ڈی چوک میں لٹکانے کا فیصلہ کریں گے؟کیا عجیب فیصلہ ہے کہ جس جج نے’’مختارِ کل‘‘بنایاتھاپرویزمشرف کو اُس کےبارے میں توآپ کافیصلہ نہیں بولتااورجس نے ایمر جنسی کی توثیق کی تھی اُس کے بارے میں تو آپ کا فیصلہ نہیں بولتا ۔

انہوں نے کہا کہ کسی لاش کو  چوک میں لٹکانے کا اسلام میں کوئی تصور ہی نہیں،میں سمجھتا ہوں کہ اگر واقعی پاکستان میں شریعت اسلامیہ ہو تو اِس جج صاحب کو اس فیصلے پر شریعت کے مطابق تعزیر جاری ہو گی اور انہیں کوڑے مارے جائیں گے کہ یہ جج فساد فی الارض کا سبب بن رہے ہیں،اس فیصلے کے بعد اگر ملک میں اَنارکی پھیلے اور جنرل مشرف اور فوج سے محبت کرنے والے کروڑوں لوگ باہر نکل آئیں تو پھر ملک میں اَنارکی کا سبب یہ جج ہو گا جو فساد فی الارض کا سبب بنا، شریعت،قانون اورآئین ایسےکسی فیصلے کی اجازت نہیں دیتا،میں امید کرتا ہوں کہ چیف جسٹس اس جج اورفیصلے پرسوموٹو نوٹس لیں اوراس جج کو لٹکایا جائے جو ملک میں اَنارکی پھیلانا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس میں پرویز مشرف کو 5 بار سزائے موت دینے کا حکم دیا گیا ہے۔خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں پرویز مشرف کو بیرون ملک بھگانے والے تمام سہولت کاروں کو بھی قانون کےکٹہرےمیں لا نے کا حکم دیا اور فیصلے میں اپنی رائے دیتے ہوئے جسٹس وقار سیٹھ نے پیرا 66 میں لکھا ہے کہ پھانسی سے قبل پرویز مشرف فوت ہو جائیں تو لاش کو ڈی چوک پر لاکر تین دن تک لٹکایا جائے۔پرویز مشرف کے خلاف دو ایک کی اکثریت سے سنایا گیا، تفصیلی فیصلہ 169 صفحات پر مشتمل ہے۔خیال رہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے اندر قائم کی گئی خصوصی عدالت نے 17 دسمبر کو پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنائی تھی جس کا تفصیلی فیصلہ آج جاری کیا گیا ہے۔

مزید : قومی


loading...