’اگر مرنے کے بعد گھسیٹنے اور لٹکانے کے فیصلے آئیں گے تو ایک سپاہی کو سوچنا ہوگا کہ اسے پاکستان کیلئے جان دینی ہے کہ نہیں ‘ سابق جرنیل نے سنگین غداری کیس پر سخت رد عمل دے دیا

’اگر مرنے کے بعد گھسیٹنے اور لٹکانے کے فیصلے آئیں گے تو ایک سپاہی کو سوچنا ...
’اگر مرنے کے بعد گھسیٹنے اور لٹکانے کے فیصلے آئیں گے تو ایک سپاہی کو سوچنا ہوگا کہ اسے پاکستان کیلئے جان دینی ہے کہ نہیں ‘ سابق جرنیل نے سنگین غداری کیس پر سخت رد عمل دے دیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے کہا ہے کہ اگر مرنے کے بعد گھسیٹنے اور لٹکانے کے فیصلے آئیں گے تو ایک سپاہی کو سوچنا ہوگا کہ اسے پاکستان کیلئے جان دینی ہے کہ نہیں ۔

خصوصی عدالت کی جانب سے سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ سنائے جانے کے بعد لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے ٹوئٹر پر سخت رد عمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کے خلاف تفصیلی فیصلہ بڑے دفاتر میں بیٹھے چھوٹے اور انا پرست لوگوں کی جانب سے ’ انصاف کی توہین ہے‘۔

انہوں نے ایک سپاہی کے طور پر لکھا ’ دشمن ہمیں جنگ میں مارتا ہے، جوڈیشل سسٹم میری موت کا حکم دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میری لاش کو گھسیٹا اور عوام میں لٹکایا جائے، کیا مجھے اب بھی پاکستان کیلئے لڑنا اور مرنا چاہیے؟‘

خیال رہے کہ خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔ فیصلے میں سابق صدر کو 5 بار سزائے موت کا حکم دیا گیا ہے اور لکھا گیا ہے کہ اگر ان کی سزا پر عملدرآمدسے پہلے موت واقع ہوجائے تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر ڈی چوک لایا جائے اور 3 روز تک لٹکایا جائے۔

مزید : قومی /دفاع وطن