’عدلیہ کو تیزی کا اتنا ہی شوق تھا تو نواز شریف دور میں دکھاتی ، یوں لگتا ہے کہ ۔۔۔‘ سینئر تجزیہ کار نے حیران کن مطالبہ کردیا

’عدلیہ کو تیزی کا اتنا ہی شوق تھا تو نواز شریف دور میں دکھاتی ، یوں لگتا ہے کہ ...
’عدلیہ کو تیزی کا اتنا ہی شوق تھا تو نواز شریف دور میں دکھاتی ، یوں لگتا ہے کہ ۔۔۔‘ سینئر تجزیہ کار نے حیران کن مطالبہ کردیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر تجزیہ کار امتیاز گل کا کہنا ہے کہ اگر عدلیہ کو تیزی دکھانے کا اتنا ہی شوق تھا تو نواز شریف کے دور میں دکھاتی، ہر روز حکومت اور فوج کیلئے ایک نیا معاملہ کھڑا کردیا جاتا ہے، جس کے باعث پاکستان کے سیاسی و معاشی استحکام پر اثر پڑتا ہے، جس جج نے فیصلہ لکھا ہے ان کا معائنہ ضروری ہے کہ انہوں نے کس حالت میں فیصلہ لکھا ہے ۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے امتیاز گل نے کہا کہ جس طرح گزشتہ حکومت نے آنے والی حکومت کیلئے دیگر مشکلات چھوڑیں اسی طرح یہ بھی ایک بڑی مشکل پیدا کرگئے، اگر ہماری عدلیہ کو جلدی کا اتنا ہی شوق تھا تو پچھلی حکومت میں بھی تیزی دکھا تی، یوں لگتا ہے کہ ہر روز حکومت اور فوج کیلئے ایک نیا معاملہ کھڑا کردیا جاتا ہے، جس کے باعث پاکستان کے سیاسی و معاشی استحکام پر اثر پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک ہی نہیں ہے کہ پاک فوج سرحدوں کی نگران ہے، جولائی 2007 سے 2011-12 تک ہم نے دیکھا کہ جس طرح کی دہشتگردی ہوئی ، اس پر قابو پانا کسی اور ادارے کے بس کی بات نہیں تھی۔ اس فیصلے کے باعث نہ صرف فوج کے اندر بلکہ عام لوگوں میں بھی کافی غم و غصہ پایا جانے لگا ہے اور انہیں ان ججوں پر شک ہونے لگا ہے جنہوں نے اس کو موت کی سزا کے قابل سمجھا ہے، کم ازکم ایک جج کے خلاف ریفرنس دائر کیا جارہا ہے لیکن ساتھ ہی ان کا معائنہ ضروری ہے کہ انہوں نے کس حالت میں فیصلہ لکھا ہے ۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...