سنگین غداری کیس کا فیصلہ لکھنے والے جج کادماغی معائنہ ہونا چاہئے ، دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل(ر) اعجاز اعوان کی رائے

سنگین غداری کیس کا فیصلہ لکھنے والے جج کادماغی معائنہ ہونا چاہئے ، دفاعی ...
سنگین غداری کیس کا فیصلہ لکھنے والے جج کادماغی معائنہ ہونا چاہئے ، دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل(ر) اعجاز اعوان کی رائے

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل(ر) اعجاز اعوان نے کہا ہے کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کو فوری طورپر کالعدم قرار دیا جاناچاہئے اور جس جج نے یہ فیصلہ دیاہے اس پر سپریم جوڈیشل کونسل میں مقدمہ چلنا چاہئے ،ساتھ اس کادماغی معائنہ بھی ہوناچاہئے ۔

اے آروائی نیوز سے گفتگوکرتے ہوئے اعجاز اعوان نے کہا کہ اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالت یہ فیصلہ لکھے کہ لاش کوگھسیٹا جائے توہم دنیا کو کیامنہ دکھائیں گے ؟انہوں نے کہا کہ خصوصی عدالت کا مقدمہ ایک خاص مائنڈ سیٹ کے ساتھ سنا گیا ہے اورفیصلہ لکھا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ فیصلہ آنے سے کچھ دن قبل چیف جسٹس کا مکے لہرا کرکہنا کہ فیصلہ آرہاہے تو مجھ لگتا تھا کہ کوئی عجیب فیصلہ آرہا ہے ۔

اعجازاعوان کاکہناتھاکہ جس شخص نے یہ مقدمہ لکھنے کا کہا وہ پرویز مشرف کے بارے میں ایک خاص ذہن رکھتا تھااورجس شخص نے اس فیصلہ کاٹرائل کرنے کا کہا تھا وہ بھی پرویز مشرف کے بارے میں ایک خاص انتقامی ذہن رکھتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ جس مائنڈ سیٹ کے ساتھ لکھا گیا ہے ، اس لئے اس فیصلے کو فوری طورپر کالعدم قرار دیا جاناچاہئے اور جس جج نے یہ فیصلہ دیاہے اس پر سپریم جوڈیشل کونسل میں مقدمہ چلنا چاہئے ،ساتھ اس کادماغی معائنہ بھی ہوناچاہئے ۔

مزید : قومی