جسٹس وقار سیٹھ کی دماغی حالت درست نہیں،سپریم کورٹ کام سے روک دے،حکومت کاجج کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کااعلان

جسٹس وقار سیٹھ کی دماغی حالت درست نہیں،سپریم کورٹ کام سے روک دے،حکومت کاجج ...
 جسٹس وقار سیٹھ کی دماغی حالت درست نہیں،سپریم کورٹ کام سے روک دے،حکومت کاجج کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کااعلان

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم نےکہاہےکہ خصوصی عدالت کےجسٹس وقارسیٹھ نےیہ ثابت کردیاہےکہ اُن کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے،اس لئےسپریم کورٹ اُن کوکام سے روک دے ،حکومت آرٹیکل 209کےتحت جسٹس وقارسیٹھ کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر رہی ہے ۔

اسلام آباد میں خصوصی عدالت کے تفصیلی فیصلے پر ردِعمل میں ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان اور شہزاداکبر کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہاکہ خصوصی عدالت نے پہلے شارٹ آرڈردیا اوربعد میں تفصیلی فیصلہ آیا ،اس تفصیلی فیصلے کا پیرا گراف 66بڑا اہم ہے جس میں جسٹس سیٹھ وقار نے لکھا ہے کہ ہم قانون نافذ کرنےوالےاداروں کوحکم دیتے ہیں کہ مشرف کو گرفتار کریں اوراگر یہ نہیں ہوتا توپھرمرنے کے بعداُن کی لاش کو تین دن تک ڈی چوک پر لٹکایا جائے،پرویزمشرف کوڈی چوک پرلٹکانےکےحوالےسےعدالت کوفیصلہ دینے کی کیوں ضرورت پیش آئی؟میری سمجھ میں نہیں آیااِس طرح کی ججمنٹ دینے کی کیا ضرورت تھی؟آئین کے مطابق یہ فیصلہ قانون اوراِسلام کےخلاف ہے، آئین میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ کسی بھی جج کو یہ اختیاردیا جائے کہ وہ کہے کہ کسی کی بھی لاش کو نکال کر تین دن تک لٹکا یا جائے،حکومت نےفیصلہ کیاہےکہ جسٹس وقارسیٹھ کی آبزرویشن کودیکھتے ہوئے فیڈرل جوڈیشل کونسل سے  رجوع کیاجائے۔

فروغ نسیم کاکہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ کیاہے کہ جسٹس وقارسیٹھ کی آبزوریشن کو دیکھتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کیاجائے گا، کوئی بھی جج ایسی آپزرویشن دیتا ہے تو یہ آئین و قانون کے خلاف ہے،ایسے کسی جج کو ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کاجج نہیں ہونا چاہئے،خصوصی عدالت کے جج جسٹس وقار سیٹھ اَن فٹ ہیں اور اُنہوں نے ایسی آبزرویشن دے کر ثابت کیا کہ اُن کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے ، اس لئے سپریم کورٹ ان کو کام سے روک دے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت آرٹیکل 209کے تحت جج وقار سیٹھ کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائرکررہی ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں