’آپ اپنے اور دوسرے ادارے کے اوپر خود کش حملہ ہیں‘ شہزاد اکبر نے جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف بڑا اعلان کردیا

’آپ اپنے اور دوسرے ادارے کے اوپر خود کش حملہ ہیں‘ شہزاد اکبر نے جسٹس وقار ...
’آپ اپنے اور دوسرے ادارے کے اوپر خود کش حملہ ہیں‘ شہزاد اکبر نے جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف بڑا اعلان کردیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبرنے کہا ہے کہ وفاقی حکومت جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف نہ صرف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرے گی بلکہ سنگین غداری کیس کے خلاف اپیل میں بھی جائے گی ، فیصلہ دینے والے جج کو کام سے فی الفور روکا جائے، یہ جج صاحب اپنے اور دوسرے ادارے پر خود کش حملہ ہیں۔

پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد حکومتی رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ پڑھنے کے بعد بحیثیت قانون کے طالبعلم کے ، میرا سر صحیح معنوں میں شرم سے جھک گیا ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ آپ نے بھی آئین کی وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے لیکن یہ کس قانون کے تحت ایسی چیز لکھ دی گئی کہ جس کے باعث پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ صرف ایک 4 سطری پیرا گراف سے عدالتی وقار کو کمپرومائز کردیا گیا، تفصیلی فیصلے کے پیرا 66 میں قانون اور آئین کو بالکل بالائے طاق رکھ دیا گیا، کسی قانون کے تحت اس طرح کی بات کرنا ممکن نہیں ہے، اس کے اوپر ہمیں سخت تحفظات ہیں اور ہم معزز سپریم کورٹ کے سامنے یہ رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے قانون کو لاگو کرنا ہوتا ہے ، آپ قانون بناتے نہیں ہیں، اتنے اعلیٰ عہدے پر بیٹھے ہوئے شخص کی جانب سے یہ فیصلہ بہت ہی تشویشناک ہے، جس جج نے یہ فیصلہ دیا ہے اسے فی الفور انہیں کام سے روکنا چاہیے کیونکہ ان کے ہاتھوں میں بہت سے دوسرے بے گناہ لوگوں کی بھی زندگی ہے۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو اس ٹرائل کے آخری مراحل پر تحفظات ہیں، اس کیس کے تمام محرکات دیکھنے کی ضرورت ہے اور ہم انہیں دیکھ رہے ہیں، جتنی جلد بازی میں اس کیس کو نمٹایا گیا اس نے تمام فوجداری قوانین کی دھجیاں اڑا دی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی کہا کہ اس کیس میں بہت سی چیزیں دیکھنے والی ہیں لیکن انہیں نظر انداز کردیا گیا، ہم بہت سے لوگوں کو ملزم بنانا چاہتے تھے لیکن ان لوگوں کو کیس کو خراب کرکے فائدہ دے دیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں جانے کے علاوہ وفاقی حکومت اس فیصلے کے خلاف اپیل میں بھی جائے گی، قانون کے رکھوالوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ ہم آہنگی پیدا کریں ، لیکن آپ اپنے ادارے اور دوسرے ادارے کے اوپر خود کش حملہ ہیں، ہم اپنی ذاتی انا کی تسکین کیلئے کس قسم کے کاموں میں پڑ گئے ہیں؟

مزید : قومی


loading...