” برطانیہ میں ڈکٹیٹر کے ڈھانچے کو پھانسی دینے کی مثال موجود ہے“ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے یہ کب کہا؟

” برطانیہ میں ڈکٹیٹر کے ڈھانچے کو پھانسی دینے کی مثال موجود ہے“ چیف جسٹس آصف ...
” برطانیہ میں ڈکٹیٹر کے ڈھانچے کو پھانسی دینے کی مثال موجود ہے“ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے یہ کب کہا؟

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں 5 بار سزائے موت سنائی گئی ہے۔ تفصیلی فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اگر فیصلے پر عملدرآمد سے پہلے پرویز مشرف انتقال کرجائیں تو ان کی میت کو اسلام آباد کے ڈی چوک لایا جائے اور تین روز تک لٹکایا جائے۔ خصوصی عدالت کے تفصیلی فیصلے کے اس حصے پر پاکستان میں زورو شور کے ساتھ بحث جاری ہے، پاک فوج کی جانب سے بھی اس فیصلے پر رد عمل دیا گیا ہے جبکہ حکومت نے بھی جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا ہے، ایسے میں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی اسی کیس کی سماعت کے دوران ایک بار برطانیہ میں ایک ڈکٹیٹر کے ڈھانچے کو لٹکانے کی مثال پیش کرچکے ہیں۔

25 مارچ 2019 کو سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کی خصوصی عدالت سے غیر حاضری اور بیرون ملک جانے کے خلاف توفیق آصف کی درخواست کی سماعت کی۔ اسی سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے برطانوی ڈکٹیٹر کے ڈھانچے کو پھانسی دینے کی مثال دی۔

دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ” برطانیہ میں ڈکٹیٹر اولیور کرامویل نے ایک پارلیمنٹیرین کو باہر پھینک دیا تھا اور انتہائی سخت زبان استعمال کی، جب وہ اقتدار میں نہ رہا تو پارلیمنٹ نے غداری کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا، اسی دوران کرامویل مرگیا تو فیصلہ کیا گیا کہ اس کا ڈھانچہ عدالت میں پیش کیا جائے۔“

چیف جسٹس نے کہا ’سوال پیدا ہوا ڈھانچے سے یہ کیسے پوچھا جائے کہ جرم قبول کرتا ہے یا نہیں، فیصلہ ہوا ڈھانچے کی خاموشی سے یہ تاثر لیا جائے کہ ملزم گلٹی کہہ رہا ہے، عدالت نے ڈھانجے کو پھانسی پر لٹکا دیا، اب میں اور کچھ نہیں کہہ رہا، جس طرح اس ملزم کے ساتھ ڈیل کیا گیا ہماری تاریخ کا الگ ہی باب ہے۔‘ آپ یہاں کلک کرکے 25 مارچ کو سپریم کورٹ میں سنگین غداری کیس کے حوالے سے ہونے والی سماعت کا مکمل احوال پڑھ سکتے ہیں۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...