پرویز مشرف کی لاش کو سر عام پھانسی دینے کا ہنگامہ، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان میں 2 بار مجرموں کو سر عام پھانسی دی جاچکی ہے؟

پرویز مشرف کی لاش کو سر عام پھانسی دینے کا ہنگامہ، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ...
پرویز مشرف کی لاش کو سر عام پھانسی دینے کا ہنگامہ، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان میں 2 بار مجرموں کو سر عام پھانسی دی جاچکی ہے؟

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق صدر پرویز مشرف کو سر عام پھانسی دینے کے عدالتی فیصلے کے حوالے سے ہنگامہ جاری ہے لیکن پاکستان میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب مجرموں کو سر عام پھانسی دینے کے 2 واقعات پیش آئے۔

پہلا واقعہ فیصل آباد کے دھوبی گھاٹ میں پیش آیا جب ایک مجرم کو لاکھوں لوگوں کے مجمعے کے سامنے پھانسی دی گئی۔ روزنامہ پاکستان کے میگزین صفحے پر 17 اگست 2017 کو چھپنے والے ایک مضمون کے مطابق ” 1971ءسے1977ءکا زمانہ پاکستان کی تاریخ کا انتہائی پرآشوب دور تھا۔ پورے ملک میں افراتفری پھیل چکی تھی۔ حالات حد سے گزرے، لاءاینڈ آرڈر مشکل ہو گیاتو فوج نے مارشل لاءنافذ کر دیا اور ملک میں امن و امان بحال کیا اسی دوران ایک روز فیصل آباد کے دھوبی گھاٹ کا وسیع پنڈال جو جلسہ جلوس کے لئے بڑی مخصوص جگہ تھی۔ دھوبی گھاٹ کی حیثیت فیصل آباد میں وہی ہے جو تحریک پاکستان کے زمانے میں لاہور کے موچی گیٹ کو حاصل تھی۔ایک روز اعلان ہوا کہ اس میدان میں ایک شخص کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔ مقررہ تاریخ سے ایک روز قبل دھوبی گھاٹ کے میدان میں پھانسی گھاٹ بنایا گیا۔ پھانسی کے لئے لوہے کی ٹکٹکی آویزاں کر دی گئی۔پھانسی کے لئے سہہ پہر کا وقت مقرر تھا۔ لوگوں کے غول در غول دھوبی گھاٹ میں جمع ہو گئے۔

عین وقت مقررہ پر ڈسٹرکٹ جیل کی نیلے رنگ کی وین آئی اور دھوبی گھاٹ کے آہنی دروازے پر آ کر رکی۔ ایک ملزم کو پولیس کے پہرے میں وین کے دروازے سے نیچے اتارا گیا اور پھانسی کے چبوترے پر لایا گیا۔ منظر دیکھ کر تمام حاضرین پر سناٹا طاری ہو گیا۔ عین وقت مقررہ پر پھانسی پانے والے شخص کو تختوں پر کھڑا کیا گیااور حکم ملتے ہی جلاد نے لبلبہ دبا دیا۔ تختے نیچے سے کھل گئے اور لاش پھانسی کے پھندے پر جھول گئی۔ چند منٹ بعد ڈاکٹر نے معائنہ کیا اور موت کی تصدیق کر دی۔لوگوں میں تجسس تھا۔ اس انسان کا کیا قصور تھا؟ پتہ چلا کہ اس نے ایک نوخیز بچے کو اغواءکیا، پھر بداخلاقی کے بعد اس کو قتل کردیا تھا۔“

پاکستان میں سر عام پھانسی کا دوسرا واقعہ سنہ 1981 میں لاہور میں پیش آیا جسے پپو قتل کیس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سنگھ پورہ لاہور میں پپو نام کے ایک بچے کو کچھ بدقماشوں نے اغوا کرکے بد فعلی کا نشانہ بنایا اور قتل کردیا۔ اس دور میں گاﺅں دیہات میں ایسے واقعات تواتر کے ساتھ ہورہے تھے لیکن شہری علاقے میں یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے لوگوں کو مشتعل کردیا۔

عدالت نے مجرموں کا ٹرائل کرنے کے بعد انہیں پھانسی کی سزا سنائی اور اس وقت کے صدر ضیاءالحق نے حکم دیا کہ مجرموں کو سر عام پھانسی دی جائے۔ کہا جاتا ہے کہ مجرموں کو کیمپ جیل لاہور میں اونچی کرینوں پر لٹکا کر پھانسی دی گئی اور ان کی لاشیں شام تک لٹکتی رہیں، یہ نظارہ 2 لاکھ سے زائد لوگوں نے براہ راست دیکھا۔ مجرموں کو ملنے والی اس سزا کے بعد پورے ملک میں کافی عرصے تک ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ گزشتہ برس جنوری میں زینب قتل کیس کا واقعہ پیش آیا تھا تو اس وقت چوہدری شجاعت حسین نے بھی مجرم کو پپو قتل کیس کی طرح سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

مزید : قومی /جرم و انصاف /علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...