سنگین غداری کیس کے فیصلے پر جج کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس نہیں جاسکتا ، آئینی ماہر سلمان اکرم نے واضح کردیا

سنگین غداری کیس کے فیصلے پر جج کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس نہیں ...
سنگین غداری کیس کے فیصلے پر جج کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس نہیں جاسکتا ، آئینی ماہر سلمان اکرم نے واضح کردیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)آئینی ماہر سلمان اکرم راجہ نے کہاہے کہ کسی جج کے ایک فیصلے سے دماغی حالت کا تعین نہیں کیا جاسکتا، دماغی حالت کاتعین کرنے کیلئے ایک مکمل بورڈ تشکیل دیا جاتا ہے، ایک پیراکی بنیاد پرسپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس نہیں جائیگا ۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ پیرے کو حذف کرادیتی ہے تو فیصلہ ویسے ہی ر ہے گا ۔ معاملات کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی جج کے ایک فیصلے سے دماغی حالت کا تعین نہیں کیا جاسکتا ،دماغی حالت کاتعین کرنے کیلئے ایک مکمل بورڈ تشکیل دیا جاتا ہے، ایک پیراکی بنیاد پرسپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس نہیں جائیگا ۔

سلمان اکرم راجہ کاکہنا تھا کہ جس جج نے مشرف کو بری کیاہے ،ان کی جانب سے بھی تمام فیصلہ مشرف کی دفاعی قانونی ٹیم کیخلاف ایک شکوہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ تاریخ سمجھنے کی ضرورت ہے قانون کے مطابق چلنا ہوگا، ہم مہذب قوم کا حصہ ہیں ، لاش کوچوک پر لٹکانا درست نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ فیصلے پر اپیل کی جاتی ہے تو اعلیٰ عدلیہ غلطی کو درست کرادیتی ہے ،پیرے پر اپیل کی جاتی ہے تو اس حذف کروایا جاسکتا ہے لیکن فیصلہ وہی رہے گا ۔فیصلے میں غلطی ہوسکتی ہے ، اس لئے اعلیٰ عدلیہ رکھی گئی ہے ۔

مزید : قومی