شکرگڑھ پولیس کی "کالی بھیڑیں"

شکرگڑھ پولیس کی "کالی بھیڑیں"
شکرگڑھ پولیس کی

  

تحریک انصاف حکومت کو اڑھائی سال گزر گئے...وزیر اعظم جناب عمران خان اور کچھ نہ کرتے، پنجاب پولیس کا" قبلہ" ہی درست کر لیتے تو لوگ انہیں مدتوں یاد رکھتے...اقتدار سے پہلے وہ خیبر پختونخوا کی طرح پنجاب پولیس میں بھی ریفارمز کا "انقلانی نعرہ "لگایا کرتے تھے مگر نا جانے کیا ہوا کہ وہ "پسپائی" پر مجبور ہو گئے...جناب ناصر درانی "اصلاحی مشن "سے کیوں دستبردار ہوئے؟ یہ ابھی تک راز ہے.... چند دن ہوئے کہ صوبائی دارالحکومت میں پولیس سرکل قلعہ گجر سنگھ  کے ایک تھانے کے چند اہلکار وفاق المدارس سے الحاق شدہ قرآن کی تعلیم دینے والے ایک ادارے میں" کورونا ایس او پیز " کے نام پر جا گھسے...ننھے منے حفاظ کرام کی ویڈیوز بناتے رہے اور  4 حافظ قرآن اساتذہ کو تھانے لے گئے...نجی چینل کے سنئیر کورٹ رپورٹر نے ایس ایچ او کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ میں ریسٹ پر ہوں مجھے تو  واقعہ کا علم ہی نہیں ...صاف ظاہر ہے پھر یہ کسی" نکے تھانیدار" کی "واردات "ہوگی...بہر حال حافظ قرآن  پرنسپل کی خوش قسمتی کہ"چائے پانی" پر ہی جان چھوٹ گئی....دلچسپ بات یہ ہے اس سرکل کے ڈی ایس پی خود بھی حافظ قرآن ہیں.....!!

کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ مجھے مشرقی سرحد کے آخری شہر شکرگڑھ سے رکن پنجاب اسمبلی بزرگوارم مولانا غیاث الدین کا رات کے وقت فون آیا..وہ میڈیا پر برس رہے تھے کہ تم لوگ سیاستدانوں کا جھٹ سے گریبان پکڑ لیتے ہو لیکن پولیس کی طرف" منہ" نہیں کرتے..یہ کون سی صحافت ہے؟میں نے کافی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے" جوش خطابت " کی وجہ پوچھی تو "مولوی صاحب "  نے بتایا کہ تھانہ سٹی شکر گڑھ میں موٹر سائیکل چور پولیس اہلکاروں کا انکشاف ہوا ہے جنہوں نے عورتوں کا ایک گینگ بھی پال رکھا ہے جو سادہ لوح شہریوں کو بلیک میل کرکے مال بناتی ہیں... بدنام گروہ کے سرغنہ سے گیارہ مسروقہ موٹر سائیکلز پکڑی گئی ہیں..مرکزی ملزم گرفتار ہے جبکہ پولیس باقی پیٹی بھائیوں کو "محفوظ راستہ" دینے کے جتن کر رہی ہے...تھانے کا ایس ایچ او شہر سے باہر ہے اور کہہ رہا ہے کہ "تحقیقات"کر رہے ہیں ...میں نے جان کی امان پاتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر اور ملزم کی فوٹیج ہوتو لاہور سے خبر چل سکتی ہے...کہنے لگے تھانے میں کسی کو نہیں جانے دیا جا رہا...میں نے کہا قبلہ آپ کا رکن اسمبلی ہوتے یہ حال ہے تو ہمارے میڈیا والے دوست تو "ماڑے موٹے نمائندے" ہیں....ویسے تھانے کچہری کی سیاست نہ کرنے والے سیاستدان کا یہی حال ہوتا ہے ورنہ ہمارے اس سیاسی نظام میں ایس ایچ او کی کیا مجال کہ وہ ایم پی اے کو" بریفنگ "کے بجائے" بھاشن" دے....!

میں نے انہیں مشورہ دیا کہ اپنے ضلع کے نئے ڈی پی او سے ابھی رابطہ کریں ورنہ آپ کے  حلقے کی پولیس یہ کیس "پی "جائے گی...وہ اگلے دن پہلی فرصت میں کیپٹن(ر) واحد محمود سے ملے....نیک نام  پولیس افسر نے واقعہ کا نوٹس لیا لیکن تھانیدار تو تھانیدار ہی ہوتا ہے جو "مزاج یار" میں آئے کرے....وہی ہوا مرکزی ملزم ابھی تک حوالات بند جبکہ ساتھی پولیس اہلکاروں نے ضمانتوں کے پیچھے پناہ لے لی ہے...تھانہ سٹی شکرگڑھ کے پولیس اہلکاروں عادل خان،طاہر نصیب ،محمد عارف اور ان مردوخواتن سہولت کاروں کیخلاف چار ایف آئی آرز درج ہیں...شنید ہے ملک وسیم نامی کانسٹیبل بھی اس گینگ کا اہم رکن ہے ... دلچسپ بات ہے کہ نارووال پولیس کے سربراہ بھی خوش الحان حافظ قرآن ہیں...

مولانا گذشتہ شب ایف آئی آرز ارسال کرتے" جذباتی" ہو رہے تھے کہ میں یہ کیس لیکر آئی جی کے پاس جا رہا ہوں....میرے خیال میں مولانا آئی جی صاحب کے پاس جانے سے پہلے یہ معاملہ آر پی او گوجرانوالہ کے نوٹس میں لاتے تو بھی کافی بہتر نتائج برآمد ہوتے....میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ریجنل پولیس آفیسر جناب ریاض نذیر گاڑا ایک فرض شناس آفیسر ہیں....کچھ عرصہ پہلے شکرگڑھ کے" اسی تھانے" میں " پہلوان ایس ایچ او" نے ایک سید زادی سے بدتمیزی کی...مولانا کی نشاندہی پر ہی میں نے ایک نوٹ لکھا اور نصف شب آر پی او کو بھی واٹس ایپ کر دیا....دس منٹ میں رسپانس آگیا کہ ڈی پی او کو انکوائری کا حکم دیدیا...یہ الگ بات ہے کہ سابق ضلعی پولیس افسر نے اپنے منظور نظر ایس ایچ او کو معطل کرنے کے بجائے نارووال تبادلہ کردیا...موجودہ  ڈی پی او صاحب  کو اب اسی "پہلوان افسر "کو" اوٹ پٹانگ" حرکتوں کے باعث "ضلع بدر" کرنا پڑا ہے...

ایم پی اے ..ڈی پی او میں"وجہ تنازع" تو اللہ ہی جانے مگر سچی بات ہے کہ  جناب ذوالفقار سیان نے مولانا کو" فتح "کرنے کے چکر میں  شکرگڑھ کو ہی "فکس" کر لیا تھا....انہوں نے اپنے من پسند پولیس افسر ان کے حلقے میں لگائے کہ مولانا اور ان کے بیٹوں کو "سیدھا" کرنا ہے...بھلا تن تنہا پیدل ہی پورا شہر گھومنے والے مسجد کے سیدھے سادے  مولوی کو کیا سیدھا کرنا تھا وہ تو پہلے ہی نظریں جھکائے "ناک کی سیدھ  "چل رہے ہیں...کوئی ڈیڑھ سال پہلے مجھے بھی نارووال پولیس سے ہلکا پھلکا واسطہ پڑا مگر پتہ چل گیا کہ یہاں کیا" چل" رہا ہے. .. تھانہ صدر شکرگڑھ کے علاقے میں میرے "فوجی کزن" کے بیٹے کو "استرا گروپ"  نے گردن پر چھریاں مار دیں....موت بچے کو چھو کر گذر گئی.......ایف آئی آر کے بعد وہی پتلی تماشہ شروع ...ایس ایچ او ملزموں کا سہولت کار بن گیا......ملزم تو ملزم سرفراز نامی تفتیشی نے مدعی سے بھی پانچ ہزار لے لئے...میں مولانا کو لیکر تھانے گیا... ایس ایچ او صاحب تشریف فرما نہیں تھے...پتہ چلا عوام کا پہرہ دینے کے لئے گشت پر گئے ہیں...فون پر بات ہوئی تو عرض کی جناب تین دن ہو گئے ابھی تک پولیس صرف دو کلومیٹر دور جائے وقوعہ پرہی نہیں پہنچی...آئیں بائیں شائیں کرتے فرمایا کہ رمضان شروع ہورہا ہے...علاقے میں جرائم بڑھ گئے ہیں.. ساری توجہ ادھر ہی  ہے کل "کارووائی" کرینگے.

پسرور سے استاد گرامی جناب ابن آدم پسروری اور شکرگڑھ کے "صحافی دوست" کے توسط سے پولیس کے تحصیل سربراہ سے رجوع کیا.... پولیٹیکل سائنس کی تو تھوڑی بہت سمجھ تھی مگر موصوف سے کمیونکیشن کے بعد" پولیس سائنس" کا بھی  پتہ چلا...دو ماہ "ڈپلومیسی" چلتی رہی مگر شہر کے بغل میں بیٹھے ملزموں پر ریڈ ہوئی نہ گرفتاری..کیوں؟یہی" پولیس سائنس" ہے .... برادرم سید بدر سعید کے ریفرنس سے آر پی او آفس گئے تو گوجرانوالہ کے سب سے مستند صحافی نے ڈی پی او کا" حلیہ" پوچھ کر ہی کہہ دیاکہ "بندے" کی "ریپوٹیشن"ٹھیک نہیں..... سنئیر کالم نگار برادرم آصف عفان کے ساتھ آئی جی آفس گئے تو ایڈیشنل آئی جی زاہد نواز مروت نے تفتیش تبدیلی کی درخواست پھر اسی ڈی پی او کو ریفر کی تو وہاں سٹاف نے گواہی دی کہ " بندے"کی "ریپوٹیشن" ٹھیک نہیں... وزیر اعظم سٹیزن پورٹل پر شکایت سے تھوڑی ہلچل ہوئی مگر "پولیس سائنس" پھر کام دکھا گئی...لاہور پریس کلب کے سابق سنئیر نائب صدر  ہمارے دوست رائے حسنین طاہر نے دن نیوز کے پروگرام "کرائم واچ ود رائے" میں مولانا کو لائن پر لیا تو انہوں بے بس ہو کر اپنے شہر کی پولیس بارے سچی بات  بتا ہی دی کہ کون کیا "بیچ "رہا ہے..چلیں کسی سے کیا شکوہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں.....!!

ڈی پی او سیان کےدور میں اورتو اور "شکرگڑھ کے سر سید" اور سب سے بڑے ایجوکیشن گروپ کے سربراہ حافظ شبیر کیخلاف من گھڑت مقدمہ  بنا... شہر کے سب سے شریف  صحافی یاسین چودھری کیخلاف جھوٹی ایف آئی ار کاٹی گئی جبکہ مولانا کے صاحبزادوں پر غریب قصاب کا ساتھ دینے پر بھرے بازار میں تشدد اور مقدمہ درج ہوا جسکی انکوائری آئی جی پنجاب کی ٹیم نے شکرگڑھ جا کر کی.. شکرگڑھ "پولیس سٹیٹ"بن چکا تھا اور ضلعی پولیس کے سربراہ نے مولانا کو "زیر" کرتے کرتے پورے شہر کو ہی روند ڈالا...مولانا نے پنجاب اسمبلی میں دو تحاریک استحقاق بھی جمع کرائیں جبکہ اپنے باغی اتحادیوں کو لیکر وزیر اعلی بزدار کو بھی ملے..اسی اثنا میں ڈی پی او نے نارووال کے  وکلا سے بھی لڑائی مول لی اور آخر کار ان کی سرگودھا تبدیلی کا" سندیسہ" آگیا..

سیان صاحب جا چکے ...وہ جانیں اور انکے اقدامات...عہدے اور کرسیاں عارضی چیزیں ہیں...ایک عدالت اللہ کی بھی ہوگی جہاں ایک ایک قدم کا حساب دینا پڑے گا اور کوئی سفارش  نہیں چلے گی... آر پی او ریاض نذیر گاڑا اور نئے ڈی پی او حافظ محمود واحد اچھی شہرت والے پولیس افسر ہیں...شکرگڑھ سٹی تھانے کا سکینڈل عام کیس نہیں... کسی تھانے کے تین چار اہلکاروں کا سنگین جرائم میں ملوث ہونا الارمنگ ہے...اس کیس کی شفاف تحقیقات کا تقاضا تھا کہ متعلقہ ایس ایچ او کو معطل اور گرفتار کرکے شامل تفتیش کیا جاتا ورنہ بلی کو چھیچھڑوں کی رکھوالی پر بٹھانے والی بات ہے...آر پی او اور ڈی پی او صاحب  کو  ذاتی طور پر اس کیس کو ہینڈل کرکے "محافظوں کی وردی میں چھپے مجرموں"کو نشان عبرت بنانا چاہئیے کہ ایسی "کالی بھیڑیں" ہی ایماندار پولیس افسروں اور اہلکاروں کے لئے بدنامی کا باعث ہیں .. 

     نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -