کرکٹ، کھلاڑی اور کوچ و بورڈ؟

کرکٹ، کھلاڑی اور کوچ و بورڈ؟
کرکٹ، کھلاڑی اور کوچ و بورڈ؟

  

پاکستان کرکٹ کے اہم فاسٹ باؤلر محمد عامر نے ٹیم کی مینجمنٹ اور کرکٹ بورڈ کے رویے پر احتجاج کرتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا عندیہ دیا ہے۔ان کی طرف سے بنیادی طور پر تو باؤلنگ کوچ وقار یونس کے رویے کا شکوہ کیا گیا۔ تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ بورڈ کی طرف سے بھی ان کی حوصلہ شکنی ہوئی اور وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں،جو ان سب کی طرف سے اذیت کے باعث ہے۔ محمد عامر نے یہ اظہار سری لنکا پریمیر لیگ کے ختم ہونے پر سری لنکا میں کیا اور یہ بتایا کہ وہ پاکستان واپس آ کر اعلان کر دیں گے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ کھلاڑیوں نے تو اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کر کے محمد عامر کی واپسی کی بات کی اور عامر سے بھی کہا کہ وہ جذباتی فیصلہ نہ کرے۔ شاہد آفریدی نے تو بیٹھ کر بات کرنے کی تلقین کی اور عامر کو نصیحت کی کہ وہ لیگ کرکٹ کھیلتا رہے اور جواب پرفارمنس سے دے، جبکہ شعیب اختر کا کہنا ہے کہ عامر کو ضائع نہ کیا جائے،بلکہ ان کے سپرد کر دیا جائے،پھر دیکھیں کہ وہ کیا کارنامے دکھاتا ہے، لیکن جس انتظامیہ نے فیصلہ کیا اور کرنا ہے اُس نے بڑی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر عامر نہیں کھیلنا چاہتا تو بخوشی ایسا کرے۔ بورڈ خیر مقدم کرتا ہے، دوسرے معنوں میں بورڈ نے شکر ادا کیا کہ بلَا ٹلی اور جو سلوک انتظامیہ کی طرف سے کیا گیا اس پر تو بات نہیں ہو گی، حالانکہ یہ ان کی بھول ہے، کیونکہ عامر جیسے باؤلر کے لئے آواز تو اٹھے گی اور بورڈ کے علاوہ وقار یونس کا رویہ بھی زیر بحث آئے گا جو آسٹریلین شہریت کا حامل ہے اور اس کے بال بچے وہاں رہتے ہیں، خود وقار صاحب اِدھر اُدھر سے بورڈ میں گھسے آتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی پرچی بلکہ گیدڑ سنگی ہے۔ بے شک اپنے ایک دور میں وقار یونس ایک اچھا باؤلر اور پھر کپتان بھی رہے۔ بہرحال کپتان کی حیثیت سے وہ ناکام تھے جبکہ ریٹائرمنٹ بھی کسی اچھی کارکردگی کے دوران نہیں لی گئی۔ وقار یونس کے حوالے سے شکایات تو بہت اور پرانی ہیں لیکن کھلاڑی بولتے نہیں تھے، کیونکہ بورڈ کے قواعد کی زد میں آ جاتے ہیں جیسے عمر اکمل سے کوچ مکی آرتھر کے بارے میں بات کرنے کی غلطی ہوئی اور اس کی کرکٹ بھی ختم ہو گئی، بلکہ صرف عمر اکمل ہی نہیں، کامران اکمل اور عدنان اکمل بھی زیر عتاب ہی رہے اور اب تینوں بھائیوں کی قومی ٹیم میں واپسی مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔

عمر اکمل تو خود اپنی حرکات کی وجہ سے بھی زد میں آیا کہ اب وہ ”فکسنگ“ کے الزام میں معطلی کی سزا بھگت رہا ہے اس کا تو اصرار ہے کہ اس نے جرم نہیں کیا، بلکہ بورڈ کو آگاہ کیا، اس مرتبہ تو ایسی بات نہیں تھی جو آدمی اس سے ملا اس نے کوئی بات نہ کی اس لئے بتایا نہیں۔ یہ غلطی اس نے تسلیم کر لی، پھر بورڈ نے یہ بھی مان لیا کہ اس کی غلطی ایک مشکوک آدمی سے ملاقات ہے، فکسنگ کی نہیں گئی اس پر اسے وارننگ دے کر چھوڑا جا سکتا تھا لیکن چونکہ مقصد مکی آرتھر اور وقار یونس کی شکایت کو عملی شکل دینا ہے اِس لئے سزا لازم ہو گئی ہے۔

جہاں تک بطور باؤلنگ کوچ یا چیف کوچ وقار یونس کی کارکردگی کا تعلق ہے تو ٹیم کے کسی بھی باؤلر سے دریافت کریں تو ان کے رویے کی شکایت ہو گی اور پھر اب تک وہ کسی اہم باؤلر حتیٰ کہ شاہین آفریدی کو بھی آخری دو تین اوورز کے لئے تیار نہیں کر پائے اور نہ ہی ہمارے باؤلر ان سے سیکھ کر اچھا یارکر کر رہے ہیں، البتہ ان کا مزاج بہت غصیلا ہے اور کھلاڑیوں کو ان کے غصے کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

جہاں تک بورڈ کا تعلق ہے تو اب جو بھی صاحبان کرتا دھرتا ہیں وہ کسی ”میرٹ“ پر نہیں ہمارے کپتان وزیراعظم کی جنبش ابرو سے  لاکھوں  معاوضے لے کر براجمان ہیں،کیونکہ کرکٹ میں اب تک کپتان عمران خان کی سوچ پر ہی عمل ہوا، کسی نے جوابی طور پر یہ کوشش یا جرأت نہیں کی ان سے عرض کریں۔ جناب! ”آپ کا حکم سر آنکھوں پر مگر یہ فیصلہ درست نہیں“ ہم نے یہ گذارش محکمانہ کرکٹ ختم کرنے کے حوالے سے کی ہے اور اب تو محترم وزیراعظم نے ہاکی کی محکمانہ ٹیمیں بھی ختم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ قارئین! اور شائقین کرکٹ جانتے ہیں کہ محکمانہ کرکٹ شروع کرانے کا سہرا مرحوم سکپر عبدالحفیظ کاردار کے سر ہے جو آکسفورڈ میں ہی پڑھے ہوئے اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی بنیاد رکھنے والے کپتان تھے۔ سکپر کاردار نے یہ سب کھلاڑیوں سے تعاون کے لئے کیا کہ محکموں سے ان کو روزی بھی ملنے لگی تھی اور ان محکمانہ ٹیموں نے اچھے اچھے کھلاڑی بھی پیدا کئے، لیکن کپتان عمران کو یہ پسند نہیں، کیونکہ بنیادی طور پر ”کیری پیکر سرکس“ کی وجہ سے ان کے اختلاف ہو گئے تھے۔عمران خان، اپنے کزن ماجد خان کے ساتھ ٹیم کو کسی اطلاع کے بغیر چھوڑ کر اس ”سرکس“ میں چلے گئے کہ معاوضہ اچھا ملا تھا اور جب یہ ”کیری پیکر سرکس“ پیک اپ ہو گئی تو وہ واپس آئے اور آتے ہی ٹیم میں واپس آنا چاہا، کار دار نے انکار کیا تو ان کے خلاف مہم شروع کر دی گئی۔ بہرحال وہ اصول پرست تھے،جب بھٹو صاحب نے واپسی کی ہدایت کی تو وہ بورڈ کی قیادت چھوڑ گئے، اب ریجنل کرکٹ کا ڈول ڈالا گیا کہ آسٹریلیا میں یہی ہے، لیکن محکمانہ ٹیمیں ختم کر دینے سے جو بے روزگاری ہوئی اس کا متبادل کوئی انتظام نہیں۔

ہم تو بورڈ سے زیادہ اس امر کے قائل ہیں کہ اُبھرتے نوجوانوں کو موقع ملنا چاہئے اور ہمارے پاس فاسٹ باؤلر بڑی تعداد میں ہیں،لیکن معیاری ایک دو سے زیادہ نہیں، ان میں سے ایک بھی آخری اوور اعتماد سے نہیں کرا سکتا۔ اگرچہ شاہین آفریدی سے توقعات ہیں لیکن ابھی نہیں، اسے مزید تربیت کی ضرورت ہے، تب تک تو عامر کی جگہ موجود ہے کہ وہ ”میچ ونر“ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -