وبال ِ جا ں 

 وبال ِ جا ں 
 وبال ِ جا ں 

  

رات دس بجے میرے موبائل فون بجنے پر فرحان کا نام نظر آیا تو میں نے فوراً فون اُٹھا لیا۔ شاید زندگی میں پہلی بار میں نے اُسے اس قدر پریشان اور سہما ہوا محسوس کیا۔ کہنے لگا یار مجھے ابھی تم سے ملنا ہے، میں نے کہا آجاؤ۔ جب بات چیت شروع ہوئی تو کہنے لگا کہ میری بیوی اور ماں جی کی پھر سے لڑائی ہوئی ہے اور اس دفعہ میں ماں جی کی بات مانتے ہوئے بیوی کو اُس کے گھر چھوڑ آیاہوں۔ جب سے شادی ہوئی ہے کبھی تو ناراضی بہن سے ہوتی ہے کبھی بھائی ناراض ہوجاتا ہے۔ شادی کو ابھی تین سال ہی ہوئے ہیں مگر گھر میں لڑائیاں تقریباََ تین ہزار بار ہوچکی ہیں۔ شادی سے پہلے ہی فرحان کے سر سے باپ کا سایہ اُٹھ گیا تھا اوراب اُس کا ایک بیٹا ہے۔ وہ ایک پڑھا لکھا شخص ہے اور اپنا چھوٹا سا کارخانہ چلاتا ہے، جب میں نے ان لڑائیوں کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا یار!ایک وجہ تو یہ ہے کہ گھروں میں ہماری خواتین کی کوئی بھی تربیت کرنے والا نہیں، دو سر ی اگر کوئی ہمارے معاشرے میں تربیت ہورہی ہے تو وہ صرف ڈراموں اور میڈیا کے سبب، ہمارے گھر میں ہر ایک ڈرامہ بڑے شوق اور انتظام و انصرام کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں ڈراموں میں گھروں کو میدان جنگ دکھایا جاتا ہے۔ کسی ڈرامے میں ساس و بہو کی لڑائی چل رہی ہے تو کہیں بھابھی اور نند کی آپس میں چالیں، کسی ڈرامے میں بیوی کا شادی کے بعد چکر چل رہا ہے تو کہیں شوہر کا اپنی شادی کے بعد پیارومحبت کا قصہ پر وان چڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہنے لگا اب تو میری والدہ کہتی ہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دو اور میں تمھاری دوسری شادی کا بندوبست کرو ں۔ مجھ سے پوچھنے لگا کہ اب مجھے بتاؤ کہ میں کیا کروں، میں نے جواب میں پوچھا کہ کیا تم اپنی بیوی سے خوش ہو، کہنے لگا" بہت خوش ہوں "۔ میں نے پھرپوچھا کیا تم نے اپنی بیوی میں کوئی عذر دیکھا مثلاََ جادو ٹونا کرنا، گھر میں بلاوجہ کا فساد یا لڑائی کا ہر وقت سوچنا اور کرنا یا تمھاری خدمت میں یا تمھارے بیٹے کی تربیت کے بارے میں کبھی کسی کمی کا احساس ہونا وغیرہ۔ فرحان نے ان سب باتوں کا جواب نفی میں دیا، پھر میں نے اُس کو سمجھانے کی کوشش کی تمہیں فوراََ اپنی بیوی کو گھر واپس لانا چاہیے اوراُس کی ضرورتوں کو مناسب طرح سے پورا کرنا چاہئیے۔ فرحان کی کہانی ہمارے معاشرے کے ہردوسرے گھر کی کہانی بن چکی ہے۔ 

 ا نسان جو کچھ دیکھتا ہے وہ سوچنے لگ جاتا ہے اور جو انسان سو چتا ہے وہ بولنے لگ جاتا ہے اور جو بولتا ہے وہ کرنے لگ جاتا ہے۔ پاکستان میں ایک تحقیق کے مطابق ہمارے ہاں کورٹ میرج Court Marriage شادیاں تقریباََ 96% طلاق میں تبدیل ہوجاتی ہیں، کیونکہ ایسی شادیاں لڑکے اور لڑکیاں گھروں سے بھاگ کر کرتے ہیں اور ایسے کم عمر لڑکے اور لڑکیاں ڈراموں یا فلموں سے متاثر ہوکر یہ قدم اُٹھاتے ہیں۔ مولاعلی کرم اللہ وجہہ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ "نو عمروں کے دل خالی زمین کی طرح ہو تے ہیں جو ہر طرح کا بیج بو لیتے ہیں "۔آپ نیوٹرل (Neutral) ہوکر کچھ دن ہمارے نجی ٹی وی چینلیز کے ڈرامے دیکھیں تو آپ کو یہ  احساس ہو گا کہ ان میں کوئی ڈرامہ خاندانی جھگڑوں پر بنا ہے تو کوئی پیارومحبت کی جھوٹی کہانی پر کسی ڈرامے میں لڑکی کا اپنے بہنوئی کے ساتھ چکر ہے تو کوئی گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کی کہا نی پر مشتمل ہے، کسی ڈرامے میں ”طلاق“ کے لفظ کو ہی بہت معمولی سا دکھایا اور سمجھایا گیا ہے یا پھر کسی میں متعدد افیئرز کی کہانیاں چل رہی ہیں۔ کسی ڈرامے میں شادی شدہ خواتین کو کسی امیر غیر محرم کے ساتھ تعلقات استوار کرتے دکھایا جارہا ہے تو کہیں پر Triangle Love نظر آئے گا، ان سب ڈراموں میں ہماری اقدار اور ثقافت کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔

ہماری کسی بھی حکومت  کی طرف سے اس بارے میں آج تک کوئی پالیسی Policy یا رُخDirectionوجودمیں نہیں آئی۔ میں سوچتا ہوں کہ میڈیا کو اتنا بھی آزاد نہیں ہونا چاہیے کہ یہ ہمارے گھروں کے بچوں اور خواتین کو اپنی ہی اقدارs Value اور ثقافت Cultureسے بے نیازکر دے۔ ایک دن آنے والا ہے جب ان ڈراموں کے مصنفوں اور ہدایتکاروں کے قلم کی سیاہی بھی دیکھی جائے گی کہ یہ شہید کے خون سے زیادہ وزن رکھتی ہے یا پھر اُن کے اپنے لیے ہی وبالِ جان کا باعث بنتی ہے۔۔۔!!!

مزید :

رائے -کالم -