گرمئی عشق سلامت رہنا

گرمئی عشق سلامت رہنا
گرمئی عشق سلامت رہنا

  

روشنی کی تو ایک کرن بھی مہیب اندھیروں کا جگر چاک کر دیتی ہے اور اگر روشنی کا دھارا ہی ہو تو اسکا نور کائنات میں چھپے اندھیروں کو ڈھونڈ کر مٹاتا ہے ایک دئیے کی لو ہو کہ کسی بڑے چراغ کی روشنی وہ جہاں تک پھیلتی ہے تاریکیاں اتنی ہی دور بھاگتی ہیں اور سورج کے سامنے توکالی راتوں کی مجال ہی بھلا کیا ہے تاریکیاں مقدر کی ہوں کہ زیست کی انہیں دن کے اجالوں میں ڈھالنے کے لئے کوئی اجلی صبح درکار ہوتی ہے اور صبح کا نور تب ہی پھیلتا ہے جب کوئی سورج مسلسل سفر کرکے کسی کی زندگی میں سویرا کر تا ہے ایسے ہی حضرت پروفیسر محمد حسین آسیؒ ؒکی حیات کے چمکتے دمکتے لمحات تھے جنہیں عشق رسول کریم حضرت محمد ﷺ نے جگمگا رکھا تھا اسی عشق کا فیض پاکر پروفیسر صاحب عزتوں کی جن رفعتوں پر فائز تھے وہ سب کا نصیبا نہیں ہوتا آپؒ کا وجود نعمت غیر مترقبہ کا حامل تھاپروفیسر صاحب کی زندگی کے کسی بھی لمحے کو کسی بھی زاوئیے سے دیکھیں اس میں ہر سمت سے عشق سرکار کریم ﷺ کی بہار دکھائی دیتی ہے انکے تخیل میں ہمہ وقت سرکار کریم ﷺ کی محبت کی کلیاں چٹکتی ہیں جو عشق کی تمازت پا کر پھول بنتی جاتی ہیں پروفیسر صاحب کی ہررات، رات کی رانیوں کی طرح مہکتی ہے جس میں چاہتوں کے ہزار جگنو ہیں۔الفتوں کے ستارے ہیں۔محبتوں کا چاند ہے جس سے انکی زندگی کی راتیں بھی دن کے اجالوں کی طرح روشن ہیں۔

 پرو فیسر صاحب ایسی طلسماتی شخصیت تھے  جہاں بھی جلوہ افروز ہوئے ان کی جانب عشاق کے کارواں کھنچتے چلے آئے وہ کیا شے تھی کہ سب کے دل کا دامن ان کی طرف ہی کھنچتا؟وہ عشق سرکار دوجہاں ﷺ کی دور تک پھیلتی خوشبو تھی جو دیوانوں کو پروفیسر صاحب کے آستانے پر لے آتی جہاں ایک جمگھٹا سا رہتا جو بھی آتا بیٹھے بیٹھے فیض پاتااور خواشگوار حیرت لئے رخصت ہوتا کہ اس نے تو اپنی بات کہی بھی نہیں اور سن بھی لی گئی حتیٰ کہ بات پوری بھی ہو گئی۔ پروفیسر صاحب انسانی خدمت کے حوالے سے بھی اعلی مقام رکھتے تھے انہوں نے انسانی اقدار کی سرفرازی و پاسداری کے لئے بھی خود کو وقف کئے رکھا۔  

ان کی زندگی اللہ کی وحدانیت اور عشق رسول ﷺ سے عبارت تھی انہوں نے دین اسلام کی اشاعت کے لئے بہت کام کیا حمد اور نعت کہ جس میں خالق کائنات اور وجہ تخلیق کائنات کی شان اقدس میں شاعر لفظ نگینے پیش کرتا ہے ان دونوں میں آپ اپنا الگ ہی اسلوب رکھتے۔حمد ایسی کہتے کہ سبحان اللہ اور نعت ایسی کہ ماشاء اللہ اور لہجہ اایسا کہ من بھاتا ہوا۔حمد ہے کہ نعت ہر شعر پروفیسر صاحب کی قلبی کیفیت کا عکاس ہے کہ آپ ؒ دنیا و مافیہا سے بے نیازخدا اور محبوب خداﷺ کے عشق میں ڈوبے ہوئے ہیں اور عشق کا تو بحرِ بے کراں ہے جس کی اتھاہ گہرائیوں میں جا کر آپ مرادوں کے موتی ڈھونڈ لاتے ہیں ہمارے شاعر دوست نعت کے بارے اکثر فرماتے ہیں کہ یہ توفیق ہے عطا ہے درست ہے کہ جز توفیق ربی نعت گوئی کا ہنر آہی نہیں سکتا تاہم اس کے ساتھ یہ عرض بھی کرتا چلوں کہ باقاعدہ نعت کہنے والے اللہ رب العزت کے چنے ہوئے نصیبوں کے ایسے دھنی ہوتے ہیں جنہیں خالق کائنات اپنے پیارے محبوب نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توصیف کے لئے منتخب کر لیتا ہے اور جنہیں اللہ کریم اپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت کے لئے چن لے اس کے مرتبوں کا تعین پھر کیسے کیا جاسکتا ہے

پروفیسر صاحب بھی ایسے ہی ایک اللہ کے منتخب عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے جو عشقِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے ولئی کامل ہوئے جو تسلیم و رضا کی مجسم تصویر تھے انہوں نے زندگی کی ہر شکل دیکھی اور ہر حالت کو خوش دلی سے قبول کیا اور محبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بلند سے بلند تر ہوئے ہیں ان کا نام ہمیشہ ہی احترام سے لیا جاتا رہے گا آپ کے مخالفین بھی آپکو عزت و احترام سے پکارتے رہیں گے کہ جو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن سے جس قدر وابستہ ہوگا اس قدر ہی معتبر ہوگا باوقار ہوگا اور پروفیسر صاحب جس قدر معتبر ٹھہرے انکی سرکار کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جس قدر نسبت ہے اس کا اندازہ یوں بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ ؒ کو ملکِ عدم سدھارے برسوں بیت گئے لیکن آج بھی آپکے حلقہ اطاعت میں شامل ہونے والے لاتعداد ہیں جنہوں نے آپ ؒکی تعلیمات سے رہنمائی پا کر عشق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لو لگا رکھی ہے آخرمیں  ایک شعر رقم کرتا ہوں جو ان کی تمام تر کامیابیوں کو آشکار کرتا ہے   ؎

  گرمئی عشق سلامت رہنا. اے محافظ بحفاظت رہنا۔

سچ ہی تو ہے کہ دلوں میں محبتوں کی حرارت تب ہی باقی رہتی ہے  جب عشق کا شعلہ دلوں کو لپکتا ہو

   

مزید :

رائے -کالم -