مفید سزا 

مفید سزا 

  

سکول میں گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہو گئی تھیں۔اس وقت ہم چاروں بہن بھائی”چھٹیاں کیسے گزاریں“کے موضوع پر مذاکرات کر رہے تھے۔سونیا کی نظر امی پر پڑی جو باورچی خانے میں کھانا بنا رہی تھیں۔اچانک اس کے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا۔وہ جوشیلے انداز سے بولی:”ہم اپنا باورچی خانہ کھولتے ہیں۔“

    ”ارے وہ تو پہلے سے ہی کھلا ہوا ہے اور وہاں امی کھانا بھی بنا رہی ہیں۔“ارمغان عجیب سی نظروں سے سونیا کو دیکھتے ہوئے بولا۔

    ”ارے موٹی عقل والے آدم زاد میرے کہنے کا مطلب ہے کہ ہم اپنا ہوٹل کھو لتے ہیں جہاں ہم کھانا بنائیں گے،لوگوں کو کھلائیں گے،پیسے کمائیں گے۔چھٹیوں سے فائدہ اْٹھائیں گے اور پیسے بھی ہاتھ آجائیں گے۔“ سونیا بالکل بڑے لوگوں کی طرح سمجھاتے ہوئے بولی۔

    ”پہلے پہل تو ارمغان سنتا رہا پھر بولا:”اچھا مجھے یہ تو بتاؤ کہ یہ موٹی عقل کا مطلب کیا ہوتا ہے، میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ یہ عقل ہو تی کیسی ہے۔لمبی،چھوٹی،پتلی یا موٹی،چوکور یا گول،یہ چلتی ہے یا اْڑتی ہے اور تمہیں کیا پتا میری عقل موٹی ہے یا پتلی تم دیکھ کر آئی ہو!“

    بھیانے مداخلت کی:”اچھا،یہ بتاؤ کہ ہم اپنا ہوٹل کھولیں گے کہاں؟کھانا بنائے گا کون؟اور کھانا کھانے آئے گا کون؟“

    صبا نے کہا:”مجھے یہ ٹھیک لگ رہا ہے،ہمارا وہ کمرہ جو مین روڈ پر کھلتا ہے اْسے ہم ہوٹل بنائیں گے،کھانا باورچی خانے میں بنا کر کمرے میں رکھ دیں گے۔ایک بڑا سا بینر بنوالیں گے،جس پر لکھا ہوگا کہ ہم نے ایک شان دار ہوٹل بنایا ہے جہاں نہایت ہی لذیذ کھانا دستیاب ہے۔

    بھیا راضی ہوئے تو سارا کام آسان ہو گیا۔تیسرے دن ہم نے اپنا اپنا کام سنبھال لیا۔سونیا اور صبا نے پچھلا کمرہ پہلے ہی صاف ستھرا کرلیا تھا۔

    بھیا نے کھانا پکانے کا سامان اکٹھا کیا؛ اگر چہ کچن میں سب کچھ بکھیرنے پر انہیں امی سے ڈانٹ بھی پڑی،جو انہوں نے چپ چاپ سن بھی لی۔ارمغان سب کو ہوٹل کے بارے میں بتانے کے لئے چل پڑا،جہاں اسے عجیب عجیب باتیں سننی پڑیں،لیکن اس نے بہترین صبر کا مظاہرہ کیا۔

    جب کھانا بنانے کی باری آئی تو ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا کے مصداق سب نے کھانا خراب کرنے میں پورا پورا حصہ لیا۔سونیا نے دادا ابا کے ہاضمے کے چورن کو بطور گرم مصالحہ ڈالا۔ارمغان نے نمک چیک کیا تو کم ہونے پر نمک ڈھونڈنے کے لئے نظریں دوڑائیں، بیسن کے پاس پڑے نمک کو چاولوں میں ڈالا جو حقیقت میں برتن دھونے والا سفید سفوف تھا۔

    صبا نے جب چاولوں کو پانی کے اندر پھنس پھنس کر تیرتے ہوئے دیکھا تو ان کی آسانی کے لئے تھوڑا سا اور پانی ڈال دیا۔بھیا نے دم پر رکھے چاولوں کو چیک کرنے کے لئے پتیلی کا ڈھکن اْٹھایا تو دھواں ان کے چہرے پر پڑا دھوئیں سے بچنے کے لئے وہ جلدی سے پیچھے ہٹے۔عین اسی وقت ان کا پاؤں پتیلی پر لگا اور پتیلی ان کے پاؤں پر آکر دھم کرکے گری۔باورچی خانے کا ایک ایک کونا چاولوں کے نقش ونگار سے مزین ہو گیا اور ایک بار پھر وہ اپنا پاؤں پکڑ کر کہنے لگے:”ارے۔۔۔ارے جل گیا۔ارے جل گیا۔“جب کہ ارمغان،سونیا اور صباح انھیں ایسے گھور رہے تھے جیسے کہہ رہے ہوں اگر بڑے نہ ہوتے تو بتاتے ہم آپ کو۔تھوڑی دیر بعد کا نظارہ کچھ یوں تھا کہ ابو اپنی آرام دہ کرسی پر بیٹھے شہاب نامہ پڑ رہے تھے جب کہ یہ چاروں بالکل ابو کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔

    سزا کے لئے ابو کے حکمیہ الفاظ سنائی دیے:”میری لائبریری کتابوں سے بھری ہوتی ہے۔تم میں سے ہر ایک کم از کم پانچ کتابیں پڑھے اور اپنی رائے کا اظہار کرے۔تاریخ کی کتابیں تمہیں بتائیں گی کہ ماضی میں کیا ہوتا رہا ہے۔سفر ناموں سے تم ہر ملک اور ہر شہر کی سیر کر سکتے ہو۔سائنس کے موضوع پر کتابوں سے پتا چلے گا کہ انسان کیسے ترقی کرتا ہے اور آئندہ کیا ہونے والا ہے۔مذہبی اور اخلاقی کتابیں پڑھ کر زندی گزارنے کا سلیقہ آجائے گا۔یہ تمہارے لئے ایسی سزا ہے جس سے تم بھر پور فائدہ اْٹھا سکتے ہو اور چھٹیاں بھی اچھی گزریں گی۔“وہ چاروں کچھ سوچتے ہوئے ابا جان کی لائبریری کی طرف چل دیے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -