اساتذہ حقوق کیلئے یکم جنوری سے احتجاج کا آغاز کرینگے،مقصو د مہیسر

  اساتذہ حقوق کیلئے یکم جنوری سے احتجاج کا آغاز کرینگے،مقصو د مہیسر

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)گورنمنٹ سکینڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن (گسٹا مہیسر)سندھ کے مرکزی صدر مقصود محمودمہیسرنے کہا ہے کہ یکم جنوری 2021ء سے دمادم مست قلندر ہو گا،اساتذہ کے حقوق کیلئے سندھ بھر کے پریس کلبوں پر احتجاج کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کرنیوالے ہیں اور جنور ی کے پہلے ہفتے میں لانگ مارچ کی تاریخوں کا اعلان بھی کردیا جائے گا۔وہ گذشتہ روز سال2012ء میں بھرتی اساتذہ کی نمائندہ تنظیم ٹیچر ز ایسوسی ایشن سند ھ کے مرکزی چیئرمین ظہیر احمد کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں مرکزی جنرل سیکریٹری گسٹا عبدالحفیظ مہر،آفس سیکریٹری سجاد علی صدیقی،کراچی ڈویژن کے صدر انور دین میمن،شوکت جٹ،اشفاق سوہو،محمد بخش سولنگی،سینئر رہنماؤں محمد علی قریشی،مسعود الحسن،عابد باجوہ، صداقت چنا،علی بخش چنا اور دیگر بھی موجود تھے۔گسٹا کے مرکزی صدر مقصود محمود مہیسر نے کہا کہ اگر اساتذہ تنظیمیں ان کے حقوق کیلئے حقیقی کردار ادا کرتیں تو آج اساتذہ مسائل سے دوچار نہیں ہوتے لیکن افسوس کی بات ہے کہ اساتذہ تنظیموں پر مافیا کا قبضہ ہوچکا ہے جس کے ذریعے وہ اپنا ذاتی مفادحاصل کرنے کے لیے اساتذہ کے مسائل پر سودے بازی کررہی ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ادر کیڈر اساتذہ اور حقیقی گسٹا کے ساتھ نا انصافی کی۔ انہوں نے کہا کہ سال2012ء کے اساتذہ کو تنخواہیں جاری کرنے کیساتھ سند ھ یونیورسٹی،این ٹی ایس،اقراء،آئی بی اے ٹیسٹ پاس اساتذہ کو بھرتی کی تاریخ سے فوری مستقل کیا جائے اور ان کی مراعات بھی دیگر اساتذہ کے برابر کی جائے،اساتذہ کو ریٹائرمنٹ کیساتھ ہی گروپ انشورنس بھی ادا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے مظلوم اساتذہ کے کام میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے جتنی شدت سے بیورکریسی رکاوٹ بنے گی اتنی ہی شدت سے اساتذہ حقوق کیلئے آگے بڑھیں گے اساتذہ اور گسٹا ایک دوسرے کی طاقت ہیں ہم حقوق سمیت ہر استاد کے لیے احتجاج کریں گے ہم بھوک ہڑتال پر ضرور بیٹھیں گے۔

مزید :

صفحہ آخر -