شہر سلطان پولیس نے چوری کا ملزم بچانے  کیلئے سردھڑ کی بازی لگادی، مدعی کو دھکے

  شہر سلطان پولیس نے چوری کا ملزم بچانے  کیلئے سردھڑ کی بازی لگادی، مدعی کو ...

  

 علی پور(نمائندہ پاکستان)تھانہ شہرسلطان کے تفتیشی افسر نے بھاری رشوت کے عوض چوری کے نامزد ملزم کی عدالت میں ہتھکڑی کھول دی، اے ایس آئی عبداللطیف نے ہائیکورٹ میں بیان دیا کہ ملزم رفیق گنہگار ہے،ہائی کورٹ نے ضمانت خارج کردی پولیس نے عدالت (بقیہ نمبر43صفحہ6پر)

میں ہتھکڑی لگا کر گرفتار کرلیا، مقامی عدالت سے دو دن کا ریمانڈ لیا اور عدالت پیش کر کے بیان دیا کہ مقدمہ جھوٹا ہے اور ملزم تہجدگزار ہے جو کہ پولیس کو مطلوب ہی نہیں عدالت نے ملزم کو رہا کرنے کا حکم دیاتفصیلات کے مطابق تھانہ شہرسلطان موضع رپڑی کے رہائشی یار محمد نے تھانہ شہرسلطان میں موقف اختیار کیا کہ میرے رقبہ سے میرا پیٹر انجن مالیتی 85000 ہزار چوری ہوگیا ہے جس پر پولیس تھانہ شہرسلطان نے نامعلوم پانچ کس افراد کے خلاف مقدمہ نمبری 37/20 درج کردیا جس میں مدعی مقدمہ نے کچھ روز بعد محمد شفیع۔ رفیق احمد۔ اشفاق احمد۔زوار حسین۔ سیف الرحمان کو نامزد مقدمہ کرایا جس کی رنجش پر ملزمان نے مدعی مقدمہ اور دیگر کو تشدد کا نشانہ بنایا جو کہ شدید زخمی ہوگے لیکن با اثر ملزمان نے کاواء نہ ہونے دی اور سابق تفتیشی اللہ ڈتہ نائچ نے بھاری رشوت کے عوض تین ملزموں کو بے گناہ کردیا جبکہ ملزم رفیق نے ایڈیشنل سیشن جج جتوء کی عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کرلی نئے آنے والے تفتیشی عبداللطیف نے جتوء عدالت میں بیان دیا کہ ملزم رفیق گنہگار ہے جس پر عدالت نے ضمانت خارج کردی اسی اثناء میں ملزم رفیق عدالت سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور لاھور ہاء کورٹ ملتان بنچ سے عبوری ضمانت حاصل کر لی کئی بار تھانہ میں پنچائیت ہوء لیکن ملزمان اپنی صفاء پیش نہ کرسکے جس پر تفتیشی افسر نے مدعی مقدمہ سے کہا کہ ڈی ایس پی کو رقم دینی ہے وہ دستخط نہیں کررہا اسی طرح ایس ایچ او نام پر بھی رقم بٹور لی ہاء کورٹ پیشی پر جانے کیلیے چارہزار گاڑی کا کرایہ مانگ لیا اور ہاء کورٹ میں بیان دیا کہ ملزم قصوروار ہیں جس پر ہاء کورٹ کے جج نے عبوری خارج کرکے ملزم کی گرفتاری کا حکم دیا اور تفتیشی افسر نے ملزم رفیق کو ہتھکڑی لگا کر دوسرے روز مقامی عدالت سے دو روز کا ریمانڈ حاصل کر لیا اور ملزم پارٹی سے بھاری رشوت لے کر دو روز بعد اسی عدالت میں بیان دے دیا کہ مقدمہ بے بنیاد اور جھوٹا ہے ملزم اس مقدمہ میں پولیس کو مطلوب ہی نہیں جس پر فاضل عدالت نے ملزم کورہا کردیا مدعی مقدمہ  یار محمد نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے تفتیشی مختلف اوقات میں مجھ  سے 51000 ہزار لے چکا ہے اب ملزم پارٹی سے رشوت لے کر اسے بے گناہ کردیا ہے مدعی یار محمد نے وزیر اعلی پنجاب۔ چیف جسٹس لاھور ً آئی جی پنجاب۔ آر پی او ٍیرہ۔ ڈی پی او مظفر گڑھ سے استدعا کی ہے کہ اگر ملزم بے گناہ تھا تو تفتیشی عبداللطیف نے ہاء کورٹ میں اسے گنہگار کیوں لکھا اگر ملزم بے گناہ تھا تو اسے کیوں گرفتار کیا تھا تفتیشی افسر نے ملزم سے سازباز کرکے میرا مقدمہ خراب کیا ہے مدعی مقدمہ نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ مجھے انصاف دلایا جائے اور راشی اے ایس آء کے خلاف سخت ترین کاروائی عمل میں لائی جائے۔

دھکے

مزید :

ملتان صفحہ آخر -