راوی کے بجائے چناب کنارے تھل سٹی آباد کیاجائے، سرائیکی رہنما

راوی کے بجائے چناب کنارے تھل سٹی آباد کیاجائے، سرائیکی رہنما

  

 مظفرگڑھ (بیورو رپورٹ ،تحصیل رپورٹر ) سرائیکی قوم پرست جماعتوں نے حکومت سے راوی سٹی کی بجائے دریائے چناب کے کنارے تھل سٹی کے نام سے نیا شہر آباد کرنیکا مطالبہ کردیا۔پاکستان سرائیکی پارٹی کے صدر اللہ نواز وینس اور سرائیکستان قومی اتحاد کے مرکزی صدر ظہور احمد دھریجہ نے ملک جاوید چنڑ،ملک اکرم گھلو،سردار محسن خان ڈاھڑ اوردیگرعہدیداروں کے(بقیہ نمبر36صفحہ6پر)

 ہمراہ مظفرگڑھ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت پی ٹی آئی نے عام انتخابات کی مہم کے دوران سرائیکی وسیب سے نشستیں حاصل کرنے کیلئے اپنے اقتدار کے پہلے ایک سودن کے اندر الگ صوبہ بنانے کا تحریری معاہدہ کیا تھا جس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں کیا گیا، سرائیکی وسیب کو اپنا الگ صوبہ دینے کیلئے اسمبلی میں الگ صوبے کا بل تک پیش نہیں کیاگیا۔صوبہ دینے کی بجائے لولہا لنگڑا سیکرٹریٹ دینے کاسیاسی ناٹک رچایا گیا جوکہ ہمیں قبول نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ الگ صوبہ کے نام پر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف دونوں جماعتیں مصلحت کا شکار ہیں جبکہ مسلم لیگ ن بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے نام سے دو نئے صوبوں کا ڈھونگ رچاتی آرہی ہے جس کاواحد مقصد سرائیکی خطہ کے عوام کوآپس میں لڑا کر پنجاب کی تقسیم کو روکنا ہے۔ سرائیکستان قومی اتحاد کے مرکزی صدر ظہوردھریجہ نے کہا کہ مظفرگڑھ جیسے بڑے ضلع کا حق ہے کہ یہاں میڈیکل کالج،یونیورسٹی اور انڈسٹریل اسٹیٹ بنائی جائے مگرحکمرانوں کی ساری توجہ تحت لاہور پر ہے، لاہور کے اطراف میں راوی سٹی کی طرز پر دریائے چناب کے مغربی کنارے پر ہیڈمحمد والہ کے قریب تھل سٹی کے نام پر نیا شہر بسایا جائے جوکہ نئے صوبے کا مرکز بن سکتا ہے اور نیا شہر آباد ہونے سے یہاں کے لوگوں کی محرومیوں کابھی کچھ ازالہ ہوسکے گا۔سرائیکی رہنما?ں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اپنے معاہدے اور پارٹی منشور کے مطابق الگ صوبے کا وعدہ وفا کریں، اگر پی ٹی آئی مطلوبہ اکثریت کی حمایت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے نیا صوبہ منظور کرانے میں مشکلات محسوس کررہی ہے تو انہیں پھر بھی اسمبلی میں الگ صوبہ کے بل کو لانا چاہیے تاکہ سرائیکی وسیب کو علم ہوسکے کہ کونسی جماعت اسمبلی میں ہمارے صوبے کی تشکیل کی حمایت کرتی ہے اور کون ہمارے صوبے کی تشکیل میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرائیکی وسیب کو صوبہ نہ دیکر اجتماعی عوامی حقوق سلب کیے جارہے ہیں، سرائیکی وسیب کو ضرورت کے مطابق وسائل دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے سرائیکی وسیب کے 40لاکھ سے زائد مزدور کراچی میں کام کررہے ہیں جبکہ اتنی ہی تعداد میں سرائیکی وسیب کے لوگ لاہور، فیصل آباد اور اپر پنجاب کے دوسرے شہروں میں مزدوری تلاش کرتے پھرتے ہیں جبکہ بلوچستان میں ملازمت کیلئے جانیوالے سرائیکی مزدوروں کو ٹارگٹ کلنگ سے ڈرایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرائیکی وسیب کو اپنا الگ صوبہ دینے کیلئے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف مصلحتوں کی شکار ہوکر سرائیکی عوام سے بدعہدی اور بیوفائی کررہی ہیں۔

سرائیکی رہنما

مزید :

ملتان صفحہ آخر -