برآمدات اور مجموعی ملکی پیداوار پر پاک چین فری تجارتی معاہدے پر مبنی تحقیق

    برآمدات اور مجموعی ملکی پیداوار پر پاک چین فری تجارتی معاہدے پر مبنی ...

  

راولپنڈی(پ ر)محقق انور شاہ کی تحقیق کے مطابق پاکستان کی سبسڈی  پالیسی میں تبدیلی سے برآمدات کو ٹیکسٹائل اور چمڑے کی صنعتوں سے مشروبات، چاول، سرجیکل آلات اور کھیلوں کے سامان کی صنعتوں کی طرف منتقل کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔ قائداعظم یونیورسٹی آف پاکستان اور باکو انجینئرنگ یونیورسٹی آف آذر بائیجان سے تعلق رکھنے والے محقق  جنہوں نے وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون (سی ای آر ای سی) انسٹی ٹیوٹ ریسرچ گرانٹ پروگرام کے تحت  پاک چین  تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کا ملکی برآمدات پر اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ یہ تحقیق وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون کے  تھنک ٹینکس نیٹ ورک (CTTN) کے محققین کے لئے مددگار ثابت ہوگی اور علاقائی تعاون سے متعلق جانکاری میں اضافہ کریں گی۔وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون تنظیم کے ڈائریکٹر سید شکیل شاہ نے کہا ہے کہ"یہ ان مصنوعاتی علم علاقائی تعاون کو آگے بڑھانے اور پائیدار ترقیاتی اہداف حاصل کرنے میں  مدد فراہم کرسکتا ہے انور شاہ کے تجزیے میں 83 صنعتوں کا احاطہ کیاگیا ہے۔

 تحقیق میں بتایا گیا کہ ایف ٹی اے کے بعد چین کو   ملکی دس بڑی صنعتوں سے  کل برآمدات 88 بلین تھیں۔ جبکہ پاکستان کے لئے یہ تعداد دس بڑی صنعتوں سے 17 بلین ڈالر رہی۔صنعتوں کی سطح پر گہرائی سے تجزیہ کیا گیا ہے کہ ایف ٹی اے کے معاہدے کے بعد چین کے ساتھ پاکستان کی کل برآمدات 6.1 ملین ڈالر سالانہ ہیں۔ یہ پاکستان کی کل سالانہ اوسط برآمدات کے 0.02 فیصد کے برابر ہے۔ انور شاہ کی تحقیق سے مزید پتہ چلا ہے کہ چین کے ساتھ برآمدات میں کھانے اور مشروبات کے شعبے کا سب سے زیادہ (72 فیصد) حصہ ہے۔ تحقیق کے نتائج نے ثابت کیا کہ ٹیکسٹائل کے شعبے کی نصف صنعتوں نے(ایم ایف این)پسندیدہ ترین اقوام سے برآمدات کو چین کی طرف موڑ دیا۔ یہ اس حقیقت کے باوجود  ٹیکسٹائل کا شعبہ پاکستان میں سبسڈی کی مد میں سب سے زیادہ استفادہ کر رہا یے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -