خرم شیر زمان نے سندھ میں کورونا وباءپھیلنے کا ذمہ دار پیپلز پارٹی کو قرار دیتے ہوئے مراد علی شاہ کو کھری کھری سنا دیں  

خرم شیر زمان نے سندھ میں کورونا وباءپھیلنے کا ذمہ دار پیپلز پارٹی کو قرار ...
خرم شیر زمان نے سندھ میں کورونا وباءپھیلنے کا ذمہ دار پیپلز پارٹی کو قرار دیتے ہوئے مراد علی شاہ کو کھری کھری سنا دیں  

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر اور  رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ ایک طرف کورونا صورتحال پر وزیر اعظم کو خط لکھتے ہیں اور دوسری طرف لاڑکا نہ میں جلسے کی میزبانی کررہے ہیں, یہ نالائق اعلیٰ کچھ دنوں بعد پھر فنڈز لینے کی خاطر ہاتھ جوڑ کر بیٹھیں گے اور کہیں گے کہ صوبے میں کورونا بے قابو ہوگیا ہے, پیپلز پارٹی کے قول و فعل میں تضاد ہے ، کراچی میں پی ڈی ایم کا جلسہ کورونا پھیلانے کی بڑی وجہ بنا ،کورونا کی وجہ سےشہر میں روزانہ کی بنیاد پر متعدد اموات ہورہی ہیں جس کی ذمہ داری پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم قیادت پر عائد ہوتی ہے۔

 انصاف ہاؤس میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےخرم شیر زمان نےکہا کہ ملک بھر میں کورونا کی دوسری لہر کے سبب کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے،کورونا کی پہلی لہر کے دوران وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی حکومت کی مثبت پالیسیوں اور کارکردگی کی وجہ سے ہم نے کورونا وائرس پر کسی حد تک قابو پا لیا تھا،اس وقت شہر کراچی میں کورونا کیسز کی شرح سب سے زیادہ ہے،گزشتہ ماہ پی ڈی ایم کے جلسے جس کی میزبانی پیپلز پارٹی کر رہی تھی، اس کے بعد کراچی میں کورونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، کورونا وائرس کے باعث شہر میں روزانہ کی بنیاد پر متعدد اموات ہورہی ہیں جس کی ذمہ داری پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم قیادت پر عائد ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے گزشتہ روز وزیر اعظم کوخط لکھا جس میں وہ کہتے ہیں کہ کورونا کے کیسز بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں، 32افراد ایک دن میں کورونا کے باعث انتقال کر چکے ہیں، صوبے میں ہسپتال بھر چکے ہیں اور اموات کی شرح 1.6فیصد بتایا ہے, پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ ایک طرف کورونا صورتحال پر وزیر اعظم کو خط لکھتے ہیں اور دوسری طرف لاڑکا نہ میں جلسے کی میزبانی کررہے ہیں, یہ نالائق اعلیٰ کچھ دنوں بعد پھر فنڈز لینے کی خاطر ہاتھ جوڑ کر بیٹھیں گے اور کہیں گے کہ صوبے میں کورونا بے قابو ہوگیا ہے, پیپلز پارٹی کے قول و فعل میں تضاد ہے۔

خرم شیر زمان  نے کہا کہ بلاول زرداری نے مولانا اور مریم کو جلسے میں شرکت کی دعوت دی ہے,یہ وہی مریم صفدر ہیں جن کے والد زرداری کو کہتے تھے کہ زرداری کا پیٹ پھاڑ کر لوٹا ہوا پیسہ نکالیں گے، زرداری کو لاڑکانہ اور لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹیں گےاور یہ وہی بلاول زرداری ہیں جن کے والد کہتے تھے کہ نواز شریف ایک قومی چور ہیں،مولانا فضل الرحمان جو اپنے حلیہ سے اسلام کے سفیر نظر آتے ہیں، در اصل دین اور سیاست کی آڑ میں اپنی جائیدادیں بنا رہے ہیں،حال ہی میں مولانا کی اربوں روپے کی جائیدادیں نکل آئی ہیں، ان تمام مفاد پرست جماعتوں کو ملکی مفاد سے کوئی سروکار نہیں، یہ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر سیاست کرتے ہیں، پی ڈی ایم قیادت وزیر اعظم پر دباؤ  ڈالنے اور افواج پاکستان کی توہین کر کے این آر او لینے کی ناکام کوشش کررہی ہے۔

خرم شیر زمان کا مزید کہنا تھاکہ پی ڈی ایم قیادت عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ملکی ترقی سے خوفزدہ ہے,وفاقی حکومت کی پالیسیوں کی بدولت آج ملک کی کنسٹرکشن انڈسٹری ترقی کررہی ہے،سٹاک ایکسچینج اوپر جارہا ہے، ہماری خارجہ پالیسی کامیاب ہو رہی ہے,پاکستان میں بیروزگاری کا خاتمہ ہورہا ہے، وزیراعظم نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ہم روزگار فراہم کریں گے, پی ٹی آئی حکومت نے زرعی شعبے میں انقلابی اقدامات کئے ہیں, پیپلز پارٹی کے جیالے بی بی شہید کی برسی پر بلاول زرداری سے سوال کریں کہ جو لوگ ہمیشہ بی بی کے مخالف رہے اور کردار کشی کرتے رہے وہ آج کیسے بلاول کےبغل میں کھڑے ہیں?سندھ میں کورونا پھیلانے والوں نے سندھ کے ہر شعبے کو تباہ کردیا ہے, سندھ حکومت پورے صوبے کو موہنجو دڑو میں تبدیل کرنا چاہتی ہے،لاڑکانہ میں کتے کے کاٹے کی ویکسین دستیاب نہیں،تعلیم کا نظام تباہ ہو چکا،سکول وڈیروں کے اوطاق بنے ہوئے ہیں۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -