افغانستان کی صورتحال پر پاکستان کی میزبانی میں او آئی سی کا اہم ترین اجلاس جاری

افغانستان کی صورتحال پر پاکستان کی میزبانی میں او آئی سی کا اہم ترین اجلاس ...
افغانستان کی صورتحال پر پاکستان کی میزبانی میں او آئی سی کا اہم ترین اجلاس جاری

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )افغانستان کی صورتحال پر سعودی عرب کی تجویز اور پاکستان کی میزبانی میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے وزرا خارجہ کی کونسل کا 17واں غیر معمولی اجلاس آج اسلام آباد میں جاری ہے ۔ 

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ  افغانستان میں  4 کروڑ عوام کو بحران کا سامنا ہے  ، افغانستان کی مدد کرنا ہماری مذہبی ذمہ داری ہے اور دنیا کو افغان ثقافت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کا بینکنگ نظام جمود کا شکار ہے اور اگر اس وقت دنیا نے افغانستان کی مدد نہ کی تو یہ انسانوں کا پیدا کردہ بہت بڑا بحران ہو گا۔

 چیئرمین اسلامی ترقیاتی بینک  ( آئی ڈی بی ) سلمان الجاسم نے افغانستان میں اب تک انسانی بنیادوں پر اٹھائے جانے والے اقدامات کو ناکافی قرار دے دیا۔سلمان الجاسم نے  اجلاس سے خطاب  کرتے ہوئے کہا کہ  ماضی سے سبق سیکھ کر افغانستان کے عوام کی مدد کی ضرورت ہے ، افغانستان کو تعمیر نو سے دوبارہ مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔

سیکرٹری جنرل او آئی سی ابراہیم حسین طٰحہ نے خطاب میں کہا کہ  افغانستان کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، افغانستان کے عوام ہماری مدد کے منتظر ہیں۔اس موقع پر  سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان السعود نے شدید مشکلات کے شکار ملک افغانستان کیلئے ایک ارب ریال کی امداد کا اعلان کر دیا،  پرنس فیصل بن فرحان نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال انتہائی نازک ہے ، افغان عوام مدد کیلئے ہماری طرف دیکھ رہے ہیں ، سعودی عرب نے افغانستان کی مدد کیلئے  ایک ارب ریال  مختص کیےہیں۔

او آئی سی کے وزرا خارجہ اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نمائندے مائیکل گریفن نے اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر افغانستان سے متعلق بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو اس سے پوری دنیا متاثر ہو گئی ۔ افغانستان کا بحران خطرناک ہے ، 80 فیصد افغانی روز مرہ کے اخراجات اٹھانے کی سکت بھی نہیں رکھتے ، 29 فیصد بیروزگاری بڑھ چکی ہے ۔لاکھوں بچے تعلیم  جبکہ  70 فیصد اساتذہ تنخواہوں سے  محروم ہیں ۔

ادرن کے وزیر خارجہ نے افغانستان کے مسائل پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  افغانستان اس وقت انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے ، افغان عوام خوراک کی قلت کا شکار ہیں۔ افغان عوام کی سلامتی کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری اجلاس میں  سعودی عرب ،  انڈونیشیا، بوسنیا، ملائیشیا،  ترکمانستان اور کرغزستان کے حکام موجود ہیں ۔  او آئی سی کے سیکرٹری جنرل اور اسسٹنٹ سیکرٹری جنرلز بھی اجلاس میں شریک ہیں ۔ 

او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس  پارلیمنٹ ہاﺅس کے قومی اسمبلی ہال میں ہورہا ہے ، ہال کو  مسلم ممالک کے پرچموں سے سجایا گیا ہے۔ شام ساڑھے 6 بجے اجلاس کے اختتام پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور او آئی سی کے سیکرٹری جنرل مشترکہ پریس کانفرنس کریں گے۔وزارت داخلہ کی جانب سے اس غیر معمولی اجلاس کی وجہ سے ہفتہ اور پیر کو اسلام آباد کی سطح پر مقامی تعطیل کی گئی ہے ۔

او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں، اس اجلاس کے موقع پر ریڈ زون میں عام شہریوں کا داخلہ بند ہے ،  اس دوران میٹرو بس سروس کے اسلام آباد میں ابتدائی تین سٹیشن اور تمام ہائیکنگ ٹریکس بند  ہیں  ۔ اجلاس کے دوران شاہراہ دستور ٹریفک کیلئے بند  ہے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -