سرکاری اداروں کی کارکردگی جانچنے کیلئے پنجاب پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ،وزیراعلیٰ لائیو مانیٹرنگ کریں گی
لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں کھلے مین ہول،مہنگائی، آوارہ کتے،وال چاکنگ،ابلتے نالے،قبرستان، ریڑھی بازار اور تمام اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین سی ایم کمپلینٹ سیل شعیب مرزا نے تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں صوبے کی تاریخ میں پہلی بار سرکاری اداروں کی کارکردگی ناپنے کے لیے پنجاب پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز پنجاب پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ کے ڈیش بورڈ کے ذریعے صوبے بھر کی لائیو مانیٹرنگ خود کریں گی۔اجلاس میں پنجاب میں پہلی بار ورچوئل ٹور وال قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز ورچوئل ٹور کے ذریعے پنجاب کے ہر افسر اور اہلکار کی حاضری اور کارکردگی چیک کرسکیں گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کھلے مین ہول، تجاوزات اور شہری خطرات اب پنجاب حکومت کی نظر سے اوجھل نہیں رہیں گے۔ پنجاب پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ 22 اہم پرفارمنس انڈیکٹرز کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی۔ اجلاس میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کی کارکردگی جانچنے کے لیے پہلا کے پی آئی ڈیش بورڈ فعال کرنے کافیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ کے قیام سے آٹا، روٹی اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں اب لاپروائی کا شکار نہیں ہوں گی۔ پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ آوارہ کتوں سے بچوں کے تحفظ کے لیے مہم کی براہ راست مانیٹرنگ کرے گا۔ پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ سے شہروں میں وال چاکنگ پر پابندی پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ پنجاب پروفارمنس مینجمنٹ یونٹ صوبے میں صفائی اور ویسٹ کولیکشن کے لئے ستھرا پنجاب پروگرام کی مسلسل نگرانی کرے گا۔ پنجاب کے ہر شہرمیں ڈرینج اور سیوریج سسٹم کو مابھی نیٹرنگ کیا جائے گا۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ چھوٹے بڑے شہروں میں پارکوں اور قبرستانوں کی صورتحال بھی کے پی آئی میں شامل کر دی گئی۔ ریڑھی بازار کی صورتحال اشیاء خورد نوش کی فراہمی اور نرخ کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر ڈویژن اور اضلاع میں بھی سی ایم آئی ٹی کے یونٹس قائم ہوں گے۔
