توانائی میں خود کفالت کی طرف وزیر اعلیٰ پنجاب کا عملی اقدام

توانائی میں خود کفالت کی طرف وزیر اعلیٰ پنجاب کا عملی اقدام

  

اکیسویں صدی میں توانائی کی صورتِ حال بہت نازک ہوچکی ہے۔ دنیاکی معیشت میں توانائی کا مصرف بڑھتا جارہاہے ۔ طلب و رسد میں عدم توازن کے باعث توانائی کا بحران شدت اختیار کرچکاہے۔ برسوں سے تیل کے کوئی بڑے ذخائر بھی دریافت نہیں ہورہے۔ وطن عزیز بھی اس وقت توانائی کے سنگین بحران سے دوچار ہے ‘ بجلی کے متبادل ذرائع کے حصول میں ناکامی کی وجہ سے ہمارا70فیصد انحصار تیل اور گیس پر رہ گیا ہے جس کے ذخائر وطن عزیز میں بھی دن بدن کم ہو رہے ہیں اور گزشتہ دس برس میں تیل اور گیس کا کوئی بڑا ذخیرہ کوششوں کے باوجود دریافت نہیں کیا جا سکاجبکہ ہمارے ملک میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے سب سے زیادہ انحصار قدرتی ایندھن پر کیا جاتا ہے ۔ قوم ہر سال پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر 11بلین ڈالر سے زائد رقم خرچ کر رہی ہے اور ایک تخمینے کے مطابق2015ءمیں یہ رقم 38بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ اتنا زیادہ مالیاتی بوجھ اٹھانے کے ساتھ ساتھ پاکستان دفاعی خدشات کا بھی شکار ہے۔ توانائی کے متبادل وسائل پاکستان میں توانائی کے حالیہ بحران میں فوری طور پر کوئی حل نہیں نکال سکے تاہم اگر اس پہلو سے منصوبہ بندی کی جاتی تو نہ حالیہ بحران جنم لیتابلکہ مستقبل میں بھی توانائی کے یہ خودکفالتی منصوبے ملکی بقاءکی ضمانت ہوتے۔ قومی سطح پر تمام تر خواہشات کے باوجود ٹھوس منصوبہ بندی کے تحت نہ ہی کوئی نیاڈیم تاحال تعمیر کیا جاسکا اور نہ ہی توانائی کے متبادل ذرائع کے حصول میں کوئی عملی پیش رفت دکھائی دیتی ہے ۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بحران سے قوم کو نجات دلانے کے لیے جواں عزم اور مکمل دیانت داری کے ساتھ ایسے عملی اقدامات کیے جائیںجس سے ہمارا وطن عزیز توانائی میں خود کفیل ہو سکے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ذاتی مفاد سے بلند ہوکر قومی مفادات کو اولیت دیتے ہوئے اور اغیار کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے مسائل کو خود حل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی اور یہاںجواب دہی وخود احتسابی کے نظام کابھی فقدان ہے۔

مایوسیوں کے اس اندھیرے میںامید کی ایک کرن بن کر ابھرنے والے بلند نظر، مخلص اورباصلاحیت وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف ہمیں توانائی کے متبادل ذرائع کے حصول میں سرگرم عمل دکھائی دیتے ہیں۔جو اپنے وسائل کو بہترین انداز سے استعمال کر کے پنجاب کوخود انحصاری کی منزل کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، جس کا عملی مظاہرہ انہوں نے گزشتہ دنوں یونیورسٹی آف انجینئر نگ اینڈٹیکنالوجی‘ کالا شاہ کاکوکیمپس میں سنٹر فار انرجی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ قائم کرکے کیا ہے ، جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ،اگر اسی طرح کے سنٹر دیگر صوبوں میں بھی قائم ہو جائیں تو ملک کو حقیقی معنوں میں اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جایا جاسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے سنٹر کے افتتاح کے موقع پر تختی کی نقاب کشائی کرتے ہوئے اسکی کامیابی کے لےے دعا کی اور اسکے مختلف شعبوں اور لیبارٹریوں کا معائنہ کیا اور توانائی کے حصول کیلئے کی جانے والی ان کاوشوں کو سراہا۔ کالا شاہ کاکو کیمپس کے وسیع وعریض لان میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں جب وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف پہنچے تو طلبہ وطالبات نے بڑی گرم جوشی سے انکا خیر مقدم کیا۔

پنجاب حکومت کے مالی تعاون سے قائم ہونے والے اس سنٹر کی افتتاحی تقریب سے یوای ٹی کے وائس چانسلرلیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد اکرم خان نے خطاب کرتے ہوئے سنٹر کے قیام اور اس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ سنٹر پنجاب میں توانائی کے علوم کے لیے تدریس کا ایک مثالی ادارہ ثابت ہو گا اورتوانائی کے حصول کے جدید ذرائع پر تحقیق کرے گا۔ توانائی کے متباد ل ذرائع کے حصول کیلئے قائم اس سنٹر کا مقصد پنجاب کے توانائی کے مسائل کو ہنرمندی کے جدید طریقوں سے حل کرنا ہے۔یہاں توانائی کے ماہرین جدید توانائی کی مختلف اقسام پر تحقیق کریں گے۔ اس سنٹر میں سات شعبے ہوں گے ۔فوٹو وولٹک(پی وی)انرجی ڈویژن(Photovoltaic (PV) Energy Division) ۲۔ سولر تھرمل انرجی ڈویژن۳۔ ونڈ انرجی ڈویژن۔ ۴۔ بائیو انرج ڈویژن۔۵۔ کول انرجی ڈویژن۔۶۔ ہائیڈل انرجی ڈویژن۔۷۔مختلف انرجی ٹیکنالوجیز ڈویژن۔ اس کے علاوہ یہاں انرجی کے مضمون میں ایم ایس سی ‘ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی کلاسز کا اجراءبھی کیا جا چکا ہے ۔ یہ سنٹر نسٹ ‘ غلام اسحق خاں انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘ یو ای ٹی ٹیکسلا‘ اورپی سی ایس آئی آر ا سے باہمی تحقیقی تعاون کو بروئے کار لا ئے گا جوصنعتی شعبے کیلئے بھی ممدومعاون ثابت ہوگا۔انہوںنے اس عظیم الشان سنٹر کے قیام پر وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے اس عظیم الشان منصوبہ کی بنیاد رکھی۔ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ہمارے پروفیسرز اور ڈاکٹر ز توانائی کے بحران کے حل میں ان کی امیدوں پر پورا اتریں گے۔

  وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی منزل طے کرنا اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونا ہے تو ہمیں اپنی تمام تر توانائیاں انرجی کی ضروریات پوری کرنے

 او رمتبادل ذرائع توانائی کے حصول پر صرف کرنا ہوں گی۔ جس طرح دہشت گردی ایک اہم چیلنج ہے اسی طرح توانائی کا بحران بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ توانائی کے مسئلے کو اجتماعی سوچ اپنا کر اور عزم و ہمت کے ساتھ حل کیا جا سکتا ہے۔ اگر آج توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے گئے تو پاکستان اقوام عالم میں ہمیشہ پیچھے رہے گا اور ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔صورت حال مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔65برس گزر گئے ، بہت باتیں ہوئیں لیکن توانائی کے بحران کے حل کے لئے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو توانائی کے متبادل ذرائع پر فوری کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ توانائی کے بدترین بحران سے عوام کو نجات دلائی جاسکے۔ بدقسمتی سے اسلام آباد میںبیٹھے حکمرانوں نے قوم کے پانچ قیمتی سال ضائع کئے اور ملک میں آج اندھیروں کا راج ہے۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر اس وقت ہونی چاہئیے جب چاروں صوبوں کا اس پر اتفاق رائے ہو کیونکہ اب یہ ایک سیاسی مسئلہ بن چکاہے لہٰذا ہمیں ان منصوبوں پر کام کرنے کی اشدضرورت ہے جو معاشی طور پر مفید اور فوری طورپر قابل عمل ہوں۔بھاشا اوردیگر ڈیم لانگ ٹرم کے لئے اچھے منصوبے ہیں اور اس کے ساتھ بلاتاخیر تمام ہائیڈل آپشنز پر کام کرناچاہیئے کیونکہ توانائی کے بحران سے جہاں بیروزگاری، غربت اور افلاس جنم لیتے ہیں وہاں پر انتہاپسندی اور دہشت گردی کا بھی تعلق بنتاہے۔انہوںنے کہاکہ توانائی بحران سے نمٹنے کے لئے شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم حل پر فوری توجہ دی جانی چاہئیے اور یہی راستہ ہے جس پر چل کر ملک و قوم کو توانائی بحران سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔عوام میں توانائی کی بچت کے حوالے سے شعور بیدار کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قدرتی وسائل سے مالا مال کیاہے۔ گنے کی پھوگ اورچاول کے چھلکے سے بھی توانائی کا حصول ممکن بنایاجاسکتاہے۔سورج کی روشنی سولر انرجی کے لئے انتہائی ضروری ہے اور چولستان سمیت جنوبی پنجاب کے اضلاع میں سولر سے توانائی کے حصول کے بہت مواقع ہیں۔ لیکن شومئی قسمت پنجاب حکومت کو "اجالا پروگرام"کے تحت چین سے سولر پینل منگوانے پڑے اور پاکستان میں کوئی کمپنی سولر پینل نہیں بناتی۔جرمنی جہاں پر سورج انتہائی کم نکلتا ہے وہ 22ہزار میگا واٹ بجلی سولر انرجی سے پیداکررہاہے جبکہ پاکستان جہاں سورج ہروقت موجود ہے اس میدان میں بہت پیچھے ہے۔ہوا سے بجلی کی پیداوار بھی ممکن بنائی جاسکتی ہے جبکہ متبادل ایندھن کو زیراستعمال لاکر توانائی کا حصول ممکن بنایاجاسکتاہے۔تھرمیںدنیا کے سب سے زیادہ کوئلے کے ذخائر موجود ہیں جبکہ چاغی اور پنجاب میں بھی کوئلہ موجود ہے۔جس سے توانائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ وہ آپشنز ہیں جس پر پاکستان کو چلنے کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ نندی پور اور چیچوکی ملیاں میں پاور پلانٹس لگانے کے لئے 60ارب روپے خرچ کئے گئے جس سے 950میگا واٹ بجلی پیدا ہونی تھی لیکن اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کی نااہلی کے باعث پلانٹس کراچی پورٹ پر پڑے پڑے زنگ آلود ہوگئے اور چینی انجینئرز مایوس ہوکر واپس چلے گئے۔ ملک کا قیمتی سرمایہ برباد کیاگیا،اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود ایک کلو واٹ بجلی نہ مل سکی۔ اگر یہ خطیر رقم انجینئرنگ یونیورسٹی جیسے اداروں کو ملتی تو توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لئے ٹھوس کام ہوتا۔ انہوںنے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ بجلی کا سرکلر ڈیٹ 500ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے جس میں 200ارب روپے کی بجلی چوری، لائن لاسز اور کرپشن و نااہلی بھی شامل ہے۔ بااثر افراد بجلی کے بل ادا نہیں کرتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بجلی کا بل ادا نہ کرنے والوں سے ڈنڈے کے زور پر پیسہ نکلوانا چاہئیے۔ لیکن اس کے لئے سیاسی عزم اور حوصلے کی ضرورت ہے۔رینٹل پاور پراجیکٹ میں اربوں روپے ڈوب چکے ہیں۔ عدلیہ نے بھی ان منصوبوں کو غیر قانونی قرار دیاہے۔ وفاقی حکومت نے فراڈ منصوبے لگائے جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ اگر وفاقی حکومت 74شوگر ملوں کی پیداہونے والی پھوگ سے بجلی پیداکرتی تو 2500میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی۔ وفاقی حکومت نے اپنی کرپشن اور نااہلی کے باعث ملک کو اندھیروں میں دھکیل رکھاہے۔ اربوں روپے ڈیزل کے امپورٹ بل پر خرچ کئے جارہے ہیں۔ پنجاب حکومت نے اپنے وسائل سے توانائی کے حصول کے لئے مختلف منصوبے شروع کئے ہیں جبکہ "اجالا پروگرام"کے تحت ہونہارطلبا وطالبات کو مفت سولر لیمپس فراہم کئے جارہے ہیں۔پنجاب حکومت اندھیروں کو اجالوں میں بدل رہی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے اجالوں کو اندھیروں میں بدلاہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں دوبارہ عوام کی خدمت کا موقع دیاتوملک کے کونے کونے میں اجالا کریں گے اور بجٹ میں انرجی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فنڈ قائم کیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ نوجوان ٹیکنالوجی اور ریسرچ پر خصوصی توجہ دیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ انجینئرنگ یونیورسٹی کالاشاہ کاکو کیمپس میں سنٹر فار انرجی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے لئے پنجاب حکومت نے 30کروڑ روپے فراہم کئے ہیں اور یہ سنٹر پاکستان اور صوبہ پنجاب کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزیراعلیٰ نے قابل عمل انرجی کا ماڈل بنانے والی ٹیم کیلئے 2 کروڑ روپے انعام کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ جو ماہرین یا طلباوطالبات قابل عمل انرجی کا ماڈل تیار کریں گے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور انہیں نقد انعام بھی دیاجائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ سنٹر ایک ابتدا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس سنٹر میں کام کرنے والے ماہرین و طلباوطالبات توانائی کے بحران کے حل کے حوالے سے ٹھوس اور قابل عمل ماڈل سامنے لائیں گے۔ہمیں بحیثیت قوم توانائی کی بچت بھی کرنی چاہئیے اور متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول کے لئے اقدامات بھی اٹھانے چاہئیے تاکہ مہنگی بجلی سے جان چھڑائی جاسکے۔

 تقریب سے سیکرٹری انرجی جہاں زیب خاں نے بھی خطاب کیا ،جبکہ تقریب میںمعاون خصوصی زعیم حسین قادری‘ کیمپس کوارڈی نیٹرپروفیسر ڈاکٹر محمد ظفر نون ‘ سینئر ڈین پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار شاکر‘ پروفیسر ڈاکٹر فیاض حسین شاہ‘ پروفیسر ڈاکٹر فضیلٹ طاہرہ ‘ پروفیسر ڈاکٹرزبیراحمد خان‘ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد چوہدری‘ پروفیسر ڈاکٹر وقار احمد‘ پروفیسر ڈاکٹر ندیم فیروز‘ پروفیسر ڈاکٹر شاہد رفیق‘ ڈپٹی سیکرٹری انرجی خالد امتیاز رانجھا‘ چیف انجینئر افتخار رندھاوا‘ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران‘ ¶ائس چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خلیق الرحمن‘ وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایجوکیشن پروفیسر ڈاکٹر فیض الحسن ‘ وائس چانسلر یوای ٹی ٹیکسلا پروفیسر ڈاکٹر عباس چوہدری‘ وائس چانسلر یونیورسٹی آف لاہور پروفیسر ڈاکٹر سلیم شجاع‘ وائس چانسلر ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد ‘ ٹیچنگ اسٹاف ایسوسی ایشن یو ای ٹی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد شعیب‘ ڈائریکٹر سٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر غلام عباس انجم ‘ رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر محمد عاشق کھرل ‘ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی میاں جاوید لطیف، رانا تنویر حسین،رانا افضال، خرم گلفام، چوہدری غلام نبی، پیر اشرف رسول، رانا تنویر ناصر،عرفان ڈوگر،وسیم قادر، آر پی او شیخوپورہ، ڈی سی او شیخوپورہ‘ سمیت فیکلٹی ممبرز‘ پروفیسرز اور طلبا وطالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔  ٭

مزید :

کالم -