ایران اور کیوبا کا میزائل بحران

ایران اور کیوبا کا میزائل بحران

  

کسی بھی معاملے میں سخت گیر موقف اپنانے کی نسبت گفت و شنید کا راستہ اپنانا بہتر ہوتا ہے ،لیکن ایران کے سپریم لیڈرخامنہ ای نے گزشتہ ہفتے جوہری بم پر مذاکرات کرنے کی امریکہ کی کوشش کو سختی سے مسترد کر دیا۔ یہ انتہائی تباہ کن صورت حال ہے۔خامنہ ای کو یہ سمجھنا چاہئے کہ باراک اوباما دوبارہ منتخب ہو چکے ہیں، ان کے پاس نہ صرف سمجھوتہ کرنے کی گنجائش موجودہے، بلکہ وہ بنجمن نتین یاہو کی امریکہ کی طرف سے ایران پر حملہ کرنے کی کوشش کو بھی سمجھ چکے ہیں۔غالباًخامنہ ای کا خیال ہے کہ امریکہ کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے کی نسبت وہ امریکہ سے اس سے زیادہ حاصل کرنے جا رہے ہیں جو اوباما انہیں دینے کے لئے تیار ہیں۔یہ بالکل لغو خیال ہے ،فریقین کا رویہ صدر کینبڈی اور سوویت وزیر اعظم خروشچیف کے مذاکراتی حربوں کی یاد دلاتا ہے جو انہوں نے کیوبا کے میزائل بحران کے دوران اختیار کیا۔ سرد جنگ کا بنتادی نظریہ یہ ہے کہ کینیڈی نے خرو شچیف کو مجبور کیا کہ وہ سوویت جوہری راکٹ ہٹا دیں جو انہوں نے خفیہ طور پر کیوبا میں نصب کئے تھے۔

کیوبا کے میزائل بحران کے بارے میں حقائق یہ ہیں کہ کینیڈی نے کچھ ٹھوس حقائق تسلیم کئے، لیکن ان کے اردگرد موجود لوگوں نے کئی دہائیوں تک رائے عامہ کو گمراہ کئے رکھاکہ اصل میں کن نکات کو تسلیم کیا گیا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ سوویت یونین نے اپنے میزائل ہٹائے، لیکن یہ طرز عمل اس وقت اختیار کیا گیا، جب کینیڈی نے ترکی میں نصب جو پیٹر میزائل ہٹانے کا وعدہ کر لیا جو سوویت یونین کی سرحد سے زیادہ دور نہیں تھا۔ سوویت یونین کے لیڈروں نے بعض وجوہات کی بنیاد پر کینیڈی کے اعتراف کو خفیہ رکھا۔ 1988ءتک اس ڈیل کے متعلق واضح اعتراف سامنے آ گیا۔ کینیڈی کے سلامتی کے مشیر جارج کینیڈی نے اپنی کتاب (Danger and Surrival) میں اپنی کئی دہائیوں پہلے کی گئی منافقت کو تسلیم کیا اور کہا کہ اس قسم کی خفیہ ڈیل کی اپنی قیمت ہوتی ہے۔ ہم نے اپنے ساتھیوں، اہل وطن، اپنے جانشینوں اور اتحادیوں کو گمراہ کیا کہ انا طولی ڈوبرین کوکہ ہمارے پاس مستحکم موقف اپنانے کے لئے کافی کچھ موجود تھا۔

اس گمراہ کن موقف کے لئے یہ استدلال مہیا کیا گیا کہ اصل صورت حال نیٹو اتحادیوں کو پریشان اور مضطرب کر دیتی ،جن کے سامنے اس سودے بازی کو اس طرح پیش کیا جا رہا تھا ،گویا ترکی کو فروخت کیا جا رہا تھا۔ امریکی صدر کے بھائی اور معتمد رابرٹ کینیڈی واشنگٹن میں سوویت سفیر کو بتایا کہ اس ڈیل کو خفیہ رکھنے کی وجہ در اصل یہ خوف تھا۔

لیکن سوویت یونین کیوں اس صورت حال پر خاموش رہا؟ شائد اس لئے کہ اس کی وجہ سے ماسکو کی پوزیشن کمزور نظر آتی۔ اب ہمیں یہ پتہ چلا ہے کہ خروشچیف پہلے ہی اس صبح پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ جبکہ دن کے پچھلے پہر انہیں کینیڈی کی طرف سے جو پیٹر میزائل ہٹانے کے فیصلے کا علم ہوا انہوں نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ سوویت یونین کو جنگ کی دلدل کا سامنا ہے اور جوہری تباہ کاری کا شدید خدشہ ہے، جس کا نتیجہ اورانسانی نسل کے تباہ ہونے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

1989ءمیں امریکیوں اور سوویت یونین کے مفکروں نے اس بحران پر ایک مباحثہ ترتیب دیا۔ کینیڈی کے تقریرنویس اور معتمد کا استدلال تھا کہ رابرٹ کینیڈی کی کتاب ”13دن“ اس بحران کی یقینی رودادتھی۔ ڈوبرین نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ کتاب میں ”جو پیٹر میزائلوں “ کا قصہ بیان نہیں کیا گیا۔ ایک دوسرے دانشور کا خیال تھا کہ ڈوبرین کا موقف درست تھا، لیکن اصل حقیقت یہ تھی کہ کتاب کی اشاعت کے وقت تک ڈیل خفیہ تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ سمجھوتہ کرنا نہ تو امریکیوں اور نہ ہی روسیوں کے لئے آسان ہوتا ہے۔ اس خیالی قصے نے جس کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں تھا ،بحران میں ہٹ دھرمی اور انتہا پسندی کو تقویت دی ورنہ صرف عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی طریقے سے مذاکرات کرنے کی پالیسی پر اثر انداز ہوتی، بلکہ دوسرے ممالک مثلاً جاپان اور چین، اور آج ایران اور امریکہ کو بھی دوبارہ متاثرکیا ہے۔ جان ایف کینیڈی کے جانشین جانسن نے ویت نام کی جنگ کے دوران محکمہ خارجہ پر واضح کر دیا کہ اسے شمالی ویت نام کے ساتھ ممکنہ سمجھوتوں پر ہر مطالعہ اور غور و خوض کرنے کی اجازت نہیں ہے ،صرف سرد جنگ کے جنگجو رچرڈ نکسن ایک نام سے امریکہ کے انخلاءپر تیار ہوئے۔ آج اعلانیہ طور پر تجویز دینا سیاسی خودکشی کے مترادف ہے کہ ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دے دی جائے جو حقیقت میں 9 فیصد تک کی غیر اہم شرح ہے، جس سے کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ اسی طرح طالبان کے ساتھ سمجھوتہ جو دراصل سیاسی طاقت میں مختلف افراد کے درمیان شراکت داری ہے، اس کی بھی کوئی منطق بنتی ہے۔ دوسرے فریق کو پہلے کارروائی کرنے کی پالیسی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایران کے معاملے میں امریکہ کی دیرینہ ہٹ دھرمی نے اب ایران کو بھی پہلی پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے جو کسی سمت بھی نہیں لے کر جائے گی۔

   (ترجمہ: شاہین مصطفی)   ٭

مزید :

کالم -