زیراعظم کے انقلابی اقدام اور مسائل کے پہاڑ

زیراعظم کے انقلابی اقدام اور مسائل کے پہاڑ
زیراعظم کے انقلابی اقدام اور مسائل کے پہاڑ

  

منزل پر پہنچنے کے لئے وقت تو درکار ہوتا ہے، پھر جب راستے پُرخار ہوں تو اور بھی مرحلے کٹھن ہو جاتے ہیں، ایسے میں حوصلہ اور صبر بہت ضروری ہے۔ہمارے ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے ، اس کی وجہ سے ہماری اقتصادی حالت بہت بگڑ چکی ہے،یہی وجہ ہے کہ ملک میں مہنگائی اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ 15سال سے ملک میں ترقی کی رفتاررُکی ہوئی ہے، ایسے حالات میں حکومت کے لئے ایسے چیلنج سامنے ہیں جن کو قبول کرنے کے لئے بڑے دل گردے کا کام ہے۔

میاں نوازشریف نے ایسے ہی سنگین حالات میں ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہے اور نیک نیتی سے اور اللہ پر بھروسہ کرکے حالات کا مقابلہ بھی کررہے ہیں اور حالات کو سنوار بھی رہے ہیں، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برسوں کا کام دنوں میں نہیں ہوتا۔میاں نوازشریف نے جب بطور وزیراعظم حلف اٹھایا، ملک میں دہشت گردی عروج پر تھی، مہنگائی کا جن بوتل سے نکل چکا تھا اور ہرطرف لوڈشیڈنگ نے اندھیر مچا رکھی تھی، ایسے میں معاشی طور پر ملک نازک دور سے گزر رہا تھا اور تو اور غیر ملکی طاقتوں کے ایسے مطالبے تھے، جنہیں پورا کرنا بھی ایک الگ سے چیلنج تھا، جیسا کہ ورلڈ بینک کے الگ سے مطالبے اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے الگ سے مطالبے، لیکن خدا ساتھ دے تو ہر کام ہوجاتا ہے، لیکن اس کے لئے وقت خاص اہمیت رکھتا ہے۔

میاں نوازشریف نے دل چھوڑنے کی بجائے ملک کو اقتصادی طورپر مضبوط کرنے کی پالیسی پر کام شروع کیا، اس سلسلے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دعوت دی گئی کہ وہ پاکستان میں انویسٹمنٹ کریں۔ جیسا کہ حال ہی میں عرب سربراہ، شہزادے اور وزیر پاکستان کے دورے پر آئے، اسی طرح ترکی اور جرمن انویسٹرز بھی یہاں کاروبار میں دلچسپی لے رہے ہیں۔خاص طور پر خلیجی ریاستوں کے شیخ رحیم یارخان میں گندم کی پیداوارکے لئے اراضی کے قطعات خرید رہے ہیں، اس سے علاقے کے لوگوں کو روزگار ملے گا اور خوشحالی آئے گی، ہمارے حکمران بھی تو غیر ممالک میں زمینیں، فلیٹ اور محل خریدتے ہیں، ایسا دنیا میں ہوتا رہتا ہے۔اس میں تشویش کی کوئی بات نہیں، ن لیگ کی حکومت جو اقدامات کررہی ہے وہ ملک و قوم کی ترقی کے لئے کررہی ہے۔یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ ملک میں غیر ملکی انویسٹر آ رہا ہے، ورنہ حال یہ تھا کہ غیر ملکی انویسٹر ملک سے بھاگ رہا تھا، کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی مضبوط معیشت ہے۔ معیشت مضبوط ہوگی تو ملک میں خوشحالی آئے گی، ڈویلپمنٹ ہوگی، ترقی کی راہیں کھلیں گی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا۔

موجودہ حکومت نے تھرپارکر میں کول پاور پراجیکٹ کا افتتاح کرکے اپنے سنہرے کارناموں میں ایک اور کارنامے کا اضافہ کرلیا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایٹم بم کا تجربہ کیا تھا اور دنیا بھر میں حیرت کی لہر دوڑا دی تھی۔تھرکول پاور پراجیکٹ بہت اہمیت کا حامل ہے، تھرپارکر میں دنیا کا ساتواں کوئلے کا بڑا ذخیرہ ہے، اگر ہم اس سے سالانہ ایک لاکھ میگاواٹ بجلی حاصل کرتے ہیں تویہ ذخائر 2سو سال تک کام میں آ سکتے ہیں، اس پروجیکٹ سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی اور ہم ترقی یافتہ قوموں میں شامل ہو جائیں گے، اسی طرح پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان میں بھی توانائی کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے، کہیں گیس اور کہیں پانی یا دیگر ذرائع سے بجلی حاصل کی جائے گی، فائدہ کس کا ہوگا۔عوام کا اور عوام کا فائدہ ہوگا تو ملک خوشحال ہوگا۔

دوسری طرف دہشت گردی نے ترقی کا پہیہ روکا ہوا تھا، اس سلسلے میں بھی میاں نوازشریف نے بڑی جرات سے کام لیا ہے اور طالبان کو مذاکرات کی ٹیبل پر لے آئے ہیں، اس وقت ساری دنیا کی نظریں ان مذاکرات پر لگی ہوئی ہیں، ملک میں امن قائم کرنے کے لئے مذاکرات کا کامیاب ہونا بہت ضروری ہے۔آئے روز کے بم دھماکوں نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، ہر کوئی پریشان ہے اور ہر طرف ایک بے سکونی اور ویرانی ہے، میاں نوازشریف نے بڑے سینئر اور بڑے جہاں دیدہ افراد کو مذاکراتی ٹیم میں شامل کیا ہے جو بڑی احتیاط کے ساتھ طالبان کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں، احتیاط اس حوالے سے کہ ملک و قوم کی عزت پر بھی کوئی حرف نہ آئے اور مذاکرات کامیاب بھی ہو جائیں۔

رہی بات لوگوں کی تو وہ کسی حال میں بھی خوش نہیں ہوتے۔ایک خاص لابی ہوتی ہے جو اچھے کاموں کی بھی تعریف نہیں کرتی اور دن میں تارے اور رات میں سورج دیکھتی ہے، ایسے لوگ منفی سوچ کے حامل ہوتے ہیں اور دوسروں پر تنقید کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں، حد تو یہ ہے کہ انہیں ترقیاتی کام بھی نظر نہیں آتے اور نہ ہی ملکی سالمیت کے دیرپا منصوبے ہی نظر آتے ہیں، موجودہ حکومت جہاں ترقیاتی پراجیکٹس پر کام کررہی ہے وہاں اسے سابقہ حکومت کے منصوبوں کو بھی جاری رکھنا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ ان کے ترقیاتی منصوبوں پر پانی ڈال دیا جائے، اس طرح حکومت کی یہ دوہری ذمہ داری ہے کہ نئے ترقیاتی منصوبے بنائے اور سابقہ حکومت کے ترقیاتی منصوبوںپر بھی نظر رکھے اور ہمارا نعرہ یہ ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان! انشاءاللہ ضرور بنے گا پاکستان بلوچستان تو ہمارا ہے، ہماری زیادہ تر نظر اس پر ہونی چاہیے، وزیراعظم کو چاہیے کہ بلوچستان کو پُرامن بنائےں، اس میںکوئی شک نہیں کہ ہماری حکومت اور فوج کی توجہ بلوچستان پر ہے، مگر حکومتیں جو ہمیں توڑنے کی کوشش کررہی ہیں، وہ بلوچستان میں شرپسندی پھیلا رہی ہیں، بلوچستان کی سونے جیسے پتھریلی مٹی کو پُرامن بنانا وزیراعظم کے جو قدم بلوچستان کی طرف اٹھے ہیں وہ امن دینے کے لئے اور دوستی کے لئے اٹھے ہیں۔خدا کرے کہ پاکستان کے اس حصے میں بھی حکومت کامیاب ہو، شرپسند جو بیرونی حکومتوں کے کہنے پر کام کررہے ہیں، ان کا خاتمہ ضروری ہے، تاکہ حکومت کے بڑھتے ہوئے قدم کامیابی کی طرف لوٹ آئیں اور اپنے ملک کے اس حصے کو امن کی طرف لے آئیں، جہاں نوازشریف ترقیاتی کاموں میں محنت کررہے ہیں، اسی لگن سے یہ بلوچستان اور کے پی کے میں بھی امن اور خوشحالی لانے کے لئے اپنی ہمت اور طاقت کا مظاہرہ کریں، تاکہ بیرونی شرپسند طاقتیں یہاں سے پسپا ہو کر ہمیشہ کے لئے رخصت ہو جائیں۔

مزید : کالم