-عبدالقادر ملا شہید کو پھانسی کی سزا

-عبدالقادر ملا شہید کو پھانسی کی سزا
-عبدالقادر ملا شہید کو پھانسی کی سزا

  

فوجی جو جیبوں میں قرآن حکیم لے کر پھر رہے تھے انہیں ہتھیار ڈالنے تک یقین تھا کہ حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ تو انہیں تین سے چار لاکھ عورتیں کہاں مل گئیں جبکہ شہر اور گا¶ں تو خالی تھے۔ قرآن کریم جیب میں رکھ کر فوجی جوان جنگی ڈیوٹی سے ہٹ کر ریپ میں کیسے مشغول ہو گئے؟ اگر یہ سچ مان بھی لیا جائے تو بچے جننے کے لیے ہسپتال تو ناکافی ہوں گے۔ کیا کسی نے ایسا کوئی ریکارڈ پیش کیا کہ جنگ کے 9 ماہ بعد کتنے بچے پیدا ہوئے؟ ان تین لاکھ عورتوں کی آبادکاری کب اور کیسے کی گئی؟

5-بنگلہ دیش اسمبلی کے ممبر کرنل اکبر حسین کے مطابق صرف تین لاکھ لوگوں نے جنگی نقصانات کے لیے کلیم داخل کیے۔لیکن وزیر خزانہ عبدالمہیمن کے مطابق صرف 72 ہزار کلیم وصول ہوئے تھے جن میں سے 22ہزار بوگس تھے صرف 50ہزار جائز تھے، جن کے نقصان کا ازالہ کیا گیا۔ کہاں تیس لاکھ اور کہاں 50ہزار۔

6-ڈاکٹر عبدالمہیمن چوہدری کی کتابBehind the Myth of 3 Million کے مطابق حکومت بنگلہ دیش نے ریپ کی گئی خواتین کے لیے ویلفیئر سینٹر کھولے تھے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ تین سے چار لاکھ متاثرہ خواتین کے لیے کتنے سینٹر کھلے اور پھر ان کا کیا ہوا؟ ریکارڈ کے مطابق صرف 100 خواتین کی شادی کی گئی تھی۔باقی کا کیا بنا۔

7-عوامی لیگ کے ایک معتبر صحافی کی رپورٹ کے مطابق کئی لاکھ بنگالی بھارتی مہاجر کیمپوں میں مختلف وجوہات کی وجہ سے مر گئے۔ ایک بڑی تعداد سمندری طوفان میں ماری گئی۔ بین الاقوامی میڈیا میں یہ سب بھی پاکستانی فوج کے کھاتے میں ڈالے گئے۔

8-بھارتی قید کے دوران ہمارے کچھ افسران کو پتا چلا کہ بھارت میں بھارتی فوج نے بنگالی مہاجرین کے تقریباً تمام کیمپوں کو عیاشی کے اڈوں میں تبدیل کر دیا۔ نوجوان لڑکیاں سینئر افسران کو بھی سپلائی کی جاتی تھیں۔ شہر کے اہل ثروت لوگ بھی معقول معاوضہ دے کر رات کے لیے لڑکیاں لے جاتے۔ کچھ لوگوں نے گھریلو خادما¶ں کے نام پر نوجوان لڑکیوں کو داشتائیں بنا رکھا تھا ۔ ایسے متاثرہ خاندانوں کو فالتو راشن اور کچھ رقم دے کر خاموش رکھا جاتا۔ کیا ان کا کہیں کوئی حساب رکھا گیا تھا؟ یا یہ سب بھی پاکستان آرمی کے کھاتے میں ڈالی گئیں۔

9-جیسور کے مقتدر مذہبی راہنما مولانا خوندکر عبدالخیر کے بیان کے مطابق ان کا علاقہ پر امن رہا ۔ دیہات سے چند لوگ بھاگ کر بھارت گئے۔ بہت سے گا¶ں ایسے تھے جن میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں ایک بھی موت واقع نہیں ہوئی ۔ اگر پاکستانی فوج قتل و غارت گری میں مشغول تھی تو یہ علاقہ پر امن کیسے رہا؟؟

10-بنگلہ دیش ہی کے ایک مشہور صحافی مسٹر جوہری نے لکھا کہ"مجھے سمجھ نہیں آتی کہ 8ماہ کی معمولی نوعیت کی گوریلا کارروائیوں میں تیس لاکھ لوگ کیسے مارے گئے اور تین سے چار لاکھ عورتوں کی کس طرح عصمت دری کی گئی؟"

11-حمود الرحمٰن کمیشن کے مطابق اس جنگ میں 35 ہزار لوگ مارے گئے تھے جبکہ جنرل کمال متین الدین اپنی کتاب "Tragedy of Errors " میں یہ تعداد ایک لاکھ لکھتے ہیں اور ان میں سے 80 فیصد لوگ مغربی پاکستانی اور بہاری تھے۔

12-مجیب حکومت نے جنوری 1972ءمیں جنگ میں مرنے والے خاندانوں کی مالی امداد کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس مسٹر عبدالرحیم کے ماتحت ایک 12ممبرز کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی تاکہ مرنے والوں کی صحیح تفصیلات کا اندازہ لگایا جا سکے ۔ اس کمیٹی کے علاوہ مجیب نے اپنے سیاسی ورکرز کو بھی حکم دیا کہ وہ اپنے طور پر بھی تحقیقات کر کے متاثرہ خاندانوں کے کوائف اکٹھے کریں ۔ اس انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور سیاسی ورکروں کی رپورٹ کے مطابق جنگ کی کل اموات 50 ہزار سے زائد نہ تھیں، بحوالہ:

Dead reckoning Memories of 1971 war of Bangladesh behind the myth of 3 million-

13-The Daily Telegraph میں پیٹر گل کے تجزئیے کے مطابق "پاکستانی فوج 1971ءمیں ایک بغاوت فرو کرنے میں مشغول تھی نہ کہ غیر ملک سمجھ کر اس پر قبضہ کے لیے کوشاں۔ اس لیے شیخ مجیب الرحمٰن کے تخیلاتی اعداد و شمار اگر حقائق سے 50سے60 گنا زیادہ نہیں ہیں تو کم از کم 20 گنا تو ضرور مبالغہ آمیز ہیں اور پھر اس تمام قتل و غارت کا حساب کہاں ہے جو بنگالیوں(مکتی باہنی) نے کیے؟" مزید بد قسمتی یہ کہ قتل و غارت بنگلہ دیش بننے کے بعد زیادہ ہوئی۔ 16 دسمبر کو جب پاکستان آرمی نے ہتھیار ڈالے تو ہر بنگالی "وار لارڈ" بن گیا۔ مکتی باہنی اور مجیب باہنی نے لوٹ مار اور قتل و غارت اس انداز سے شروع کی جیسے کوئی دشمن ملک فتح کر لیا ہو۔ اب انہیں کوئی روکنے والا نہ تھا۔ وہ خود ہی فوج تھے ، خود ہی پولیس اور خود ہی منصف۔ جس کو چاہا پھانسی دی جسے چاہا جان سے مارا اور جسے چاہا گولیوں سے اڑا دیا۔ان لوگوں نے پاکستان پسند بنگالیوں اور بہاریوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارنا شروع کر دیا۔ ۔ جنگ آزادی کی کتب میں یہ تمام قتل و غارت بھی پاکستانی فوج کے ذمہ لکھی گئی۔ بھلا ہو بیرونی پریس کا جس نے یہ بھانڈا پھوڑا۔ آخر میں ہم اس سلسلے میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی سینئر ریسرچ سکالر محترمہ شرمیلا بوس کے تحقیقی نتائج کا تذکرہ کرتے ہیں جو ایک سینئراور غیر جانبدار دانشور ہیں۔

مشہور بھارتی صحافی شرمیلا بوس کے مطابق:

"10مارچ1972ءکو کھلنا نیوٹا¶ن کالونی پر حملہ کیا گیا جہاں تقریباً25ہزار لوگ مار دیے گئے۔ بنگلہ دیشیوں نے جو دانشوروں کے قتل کا الزام لگایا ، شرمیلا بوس کی ریسرچ کے مطابق ان میں سے بہت سے لوگ بنگلہ دیش بننے کے بعد مارے گئے۔ ان سب دانشوروں کا تعلق ان لوگوں سے تھا جو متحدہ پاکستان کے حامی تھے ۔ دراصل زیادہ تر لوٹ مار ، تباہی اور قتل و غارت ہوئی ہی 16 دسمبر کے بعد تھی جب مکتی باہنی کے غنڈوں کو روکنے والا کوئی نہ تھا۔ شرمیلا بوس کے مطابق ”بنگالیوں پر ڈھائے گئے مظالم کے ذمہ دار بھی بنگالی ہی تھے“....” بھارت نے مختلف اوقات میں لگ بھگ 80 ہزار گوریلے خفیہ طور پر مشرقی پاکستان میں داخل کیے۔ یہ لوگ پورے علاقے میں مختلف راستوں سے مکمل طور پر واقف تھے۔ ان لوگوں نے مغربی پاکستانیوں ، پاکستان پسند بنگالیوں اور خاص طور پر بہاریوں پر قیامت ڈھا دی۔ ان کی دکانیں جلادیں ، مردوں کو قطاروں میں کھڑا کر کے مار دیا۔ عورتوں کی برے طریقے سے آبروریزی کرنے کے بعد رائفل کی سنگینوں سے پیٹ چاک کیے گئے۔ شہید ہونے والے تمام لوگ مغربی پاکستانی، بہاری اور پاکستان پسند بنگالی تھے۔ اس قتل و غارت کا اندازہ اس ایک رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے جو 30 مارچ 1971ءکو ، "دی ٹائمز" ، میں مائیکل لارینٹس کے حوالے سے شائع ہوئی۔ اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ 7 ہزار پاکستانی اور پاکستان پسند بنگالی دو دنوں میں صرف ڈھاکہ میں مار دیے گئے۔ صد افسوس یہ سب قتل پاکستان آرمی کے ذمے لگا کر بین الاقوامی میڈیا میں خوب تشہیر کی گئی۔"

مزید : کالم