بلاول بھٹو زرداری اور دوسرا راستہ

بلاول بھٹو زرداری اور دوسرا راستہ
بلاول بھٹو زرداری اور دوسرا راستہ

  

سیاست کے منظر نامے پر بلاول بھٹو زرداری کی آواز سب سے الگ سنائی دے رہی ہے۔ ایک نوجوان سیاسی رہنما کی حیثیت سے انہیں ویسے تو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا چاہئے مگر لگتا ہے کہ انہیں بہت سی باتوںکا ادراک ہی نہیں اور وہ ایک پُر جوش نوجوان کی عادت کے عین مطابق ایک بلند آہنگ کے ساتھ ان قوتوں کو للکار رہے ہیں، جو پاکستان پر دہشت گردی کے ذریعے اپنا سکہ جمانا چاہتی ہیں۔ ایک ایسے دور میں کہ جب طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور جنگ بندی کی توقعات بھی ظاہر کی جا رہی ہیں، بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تنقید کی توپوں کا منہ کھول دیا ہے۔ ان کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ مذاکرات کے سخت مخالف ہیں، حالانکہ خود ان کی پارٹی پارلیمنٹ میں مذاکرات کی حمایت کر چکی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اپنے والد کی بجائے اپنی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے نقش قدم پر چل رہے ہیں جنہوں نے اسی طرح دہشت گردی کی مخالفت اور دہشت گردوں کے ایجنڈے کو مسترد کیا تھا اور خود اس کی بھینٹ چڑھ گئی تھیں۔ آج کل کہا یہ جاتا ہے کہ حکمران بھی دہشت گردی کے خلاف کھل کر بیان دینے سے کتراتے ہیں، کیونکہ وہ خود نشانے پر ہیں، ایسے میں بلاول بھٹو زرداری کا بھرے جلسوں میں دہشت گردوں کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کرنا ان کے حوصلے اور ہمت کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس وقت ملک میں دو قسم کی آراءچل رہی ہیں.... ایک رائے تو یہ ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے نکل سکتا ہے، طاقت کے استعمال سے پہلے دہشت گردی ختم ہوئی ہے اور نہ اب ہو گی۔ اس رائے کے حامیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ خود پارلیمنٹ بھی اس رائے کی حمایت کر چکی ہے۔ ملک کی مذہبی جماعتوں نے بھی لاہور میں اپنی ایک حالیہ کانفرنس کے ذریعے مذاکرات کی حمایت کی ہے اور فوری طور پر دونوں فریقوں سے حملے بند کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی بحیثیت جماعت مذاکرات کی حامی ہے، مگر اس کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اس رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہو گا،کیونکہ حکومت کمزوری کا مظاہرہ کر کے پاکستان کی بنیادیں ہلا رہی ہے، یوں ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو بلاول بھٹو زرداری سیاسی سطح پر مذاکرات کی مخالفت کرنے والوں میں سب سے آگے ہیں۔ اگرچہ ایم کیو ایم، اے این پی اور بعض دیگر قوتیںبھی مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دیتی ہیں، لیکن ان کے رہنما بلاول بھٹو زرداری کی طرح جلسوں میں شدت پسندوں کو تنقید کا نشانہ نہیں بناتے۔

 بعض لوگ اسے بلاول بھٹو زرداری کے مشیروں کی کارستانی قرار دیتے ہوئے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کو بچہ سمجھ کر مس گائیڈ کیا جا رہا ہے.... مگر مَیں اس بات کو نہیں مانتا، کیونکہ بلاول بھٹو زرداری کو آصف علی زرداری کی سرپرستی اور رہنمائی حاصل ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ وہ یہ سب کچھ اپنے والد کی مشاورت کے بغیر کر رہے ہوں، ہاں یہ ضرور ہے کہ اس راستے کو اپنا کر بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ایک علیحدہ پہچان ضرور کرا لی ہے۔ وہ آصف علی زرداری کی پالیسی کے عین مخالف چل رہے ہیں، اس سے یہ گمان پیدا ہو رہا ہے کہ شاید وہ آصف علی زرداری کو بھی اپنے سیاسی کیریئر میں حائل نہیں ہونے دے رہے، حالانکہ میرے خیال میں یہ خودآصف علی زرداری کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کو ایک علیحدہ اور جداگانہ مزاج رکھنے والے لیڈر کی حیثیت سے پروجیکٹ کریں....یہاں یہ بات بھی نوٹ کی جانی چاہئے کہ بلاول بھٹو زرداری کی یہ انفرادی رائے انہیں مستقبل میں ایک بہت بڑا سیاسی مقام دے سکتی ہے۔

 مثلاً اگر طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں اور نوبت آپریشن تک آجاتی ہے تو اس کا فائدہ بلاول بھٹو زرداری اس طرح اٹھائیں گے کہ وہ تو پہلے ہی کہتے تھے کہ یہ مذاکرات صرف وقت کا ضیاع ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے موقف کو تقویت ان دہشت گردی کے واقعات سے بھی ملی ہے، جو مذاکرات شروع ہونے کے بعد بھی جاری ہیں اور جن میں درجنوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ یہ بلاول بھٹو زرداری کے بیانات کا دباﺅ ہی ہے کہ جس کی وجہ سے حکومتی کمیٹی طالبان سے یہ مطالبہ کرنے پر مجبور ہوئی کہ وہ مذاکرات کی کامیابی کے لئے حملے بند کر دیں ،وگرنہ مذاکرات کا جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا، طالبان نے پشاور میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری تو قبول نہیں کی تھی، مگر جب کراچی میں پولیس بس پر حملہ کر کے ایک درجن سے زائد پولیس اہلکاروں کو شہید کیا گیا اور طالبان نے اس کی ذمہ داری بھی قبول کر لی تو حکومت پر دباﺅ بڑھ گیا۔ اس دوران بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گردوں کو للکارنا شروع کیا اور ان کی آواز کو غور سے سنا گیا۔

اس میں کوئی شک نہیںکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا ایک بہترین راستہ ہے، کیونکہ طاقت کے استعمال سے شورش کو دبایا تو جا سکتا ہے ،ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ذی شعور پاکستانی اور ہر قابل ذکر جماعت نے اس آپشن کو استعمال کرنے پر حکومت کی حمایت کی ہے ،مگر یہ بات بھی ایک تلخ حقیقت کے طور پر سامنے آتی ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کا آخر امکان کیا ہے ؟یہاں تو کچھ بھی ایسا نہیں کہ جسے دونوں فریق قبول کر سکیں اگر دونوں طرف اتنی لچک ہوجو دونوں طرف کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے لئے ضروری ہے تو پھر کامیابی میں کوئی شک نہیں رہ جاتا، مگر سب جانتے ہیں کہ دونوں فریقوں کے مطالبات میں کس قدر بڑی اور نہ پاٹنے والی خلیج حائل ہے طالبان وزیرستان میں اپنی عملداری چاہتے ہیں، اس لئے انہوں نے وہاں سے فوج کی واپسی کا مطالبہ بھی کررکھا ہے۔ اب ظاہر ہے اسے پاکستان کیسے تسلیم کر سکتاہے، اس مطالبے کو تسلیم کرنے کا مطلب ہے کہ ہم اس حق سے دستبردار ہو گئے ہیں ایسے کئی مطالبات سامنے آچکے ہیں، جن پر فریقین کا متفق ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔

 جہاں دونوں فریقوں کو جنگ بندی کے لئے اللہ کے واسطے دینا پڑیں، وہاں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دلیل سے ایک دوسرے کو قائل کرنے کی گنجائش کم ہی ہے، پھر اس نکتے کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ ریاست کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے والوں کو اگر اسی طرح ہر مطالبے کی منظوری ملتی رہی تو بہت سے دیگر گروپ بھی اپنی کارروائیاں تیز کر سکتے ہیں بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان ریپبلکن آرمی (بی آر اے) نے ریل گاڑیوں کو نشانہ بنانے کا جو تازہ سلسلہ شروع کیا ہے اور جس طرح وہ سندھ اور پنجاب کی حدود تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، وہ اس بات کا اشارہ ہے کہ کل کلاں ان سے بھی حکومت کو مذاکرات کرنے پڑیں گے اور اگر وہ بھی یہ مطالبہ کر دیتے ہیں کہ ان کے علاقوں سے فوج اور ایف سی نکل جائے تو ہم کیا کریں گے؟....صورت حال بہت الجھی ہوئی ہے اور کوئی معجزہ ہی ہمیں اس سے نکال سکتا ہے لگتا ہے بلاول بھٹو زرداری کو چونکہ معجزوں پر یقین نہیں، اس لئے انہوں نے اپنی راہ باقی لوگوں سے جدا کر رکھی ہے، اب یہ آنے والا وقت بتائے گا کہ انہوں نے جس راستے کا انتخاب کیا وہ ان کا سیاسی نظریہ تھا یا وہ واقعی یہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کو بچانے کے لئے اس دوسرے راستے کا انتخاب ضروری ہے۔

مزید : کالم