خوشبو

خوشبو
خوشبو

  

خوشبو بولتی ہے اور نہ اسے چھوا جاسکتا ہے، لیکن وہ جہاں بھی ہو وہ اپنا احساس دلادیتی ہے۔ مَیں پانچویں جماعت کے طالب علم حسن شہزاد کو بتارہا تھا کہ نہ نظر آنے والی خوشبو پہلے محسوس ہوتی ہے ، پھر پھیلتی جاتی ہے اور سب کو اپنے سحر میں لے کر فضا کو تہہ در تہہ معطر کرتی چلی جاتی ہے.... حسن شہزاد میرے رشتے کے ایک بھانجے عامر شہزاد کا بڑا بیٹا ہے۔ مَیں نے اوکاڑہ کے چک 48/3R میں چند دن گزارے، جہاں بچوں کے ساتھ گپ شپ کے دوران مجھے انہیں خوشبو کا تعارف کرانا پڑا۔ اس کا چھوٹا بھائی حسین شہزاد اور اس کی کزن، یعنی عامر کے چھوٹے بھائی ناصر کی تیسری جماعت کی طالبہ بیٹی فاطمہ اور فاطمہ کا چھوٹا بھائی ابوبکر بھی وہاں موجود تھے، لیکن میں صرف حسن شہزاد کو سمجھا رہا تھا، کیونکہ باقی بچوں کو اس کی سمجھ نہیں آسکتی تھی۔ مَیں حسن شہزاد کو اصل میں خوشبو کی مثال دے کر سمجھانا چاہتا تھا کہ اچھا کردار اور اچھا اخلاق بھی خوشبو کی مانند ہے ، اسے بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی ، یہ اپنی موجودگی کا احساس خود ہی دلاتا ہے ۔ اسے مشتہر کرنا نہیں پڑتا، یہ خوشبو کی طرح خودبخود پھیلتا رہتا ہے ۔ براکردار اور برااخلاق بدبو کی طرح ہے۔ ہر کوئی اس کے پاس سے ناک پر رومال رکھ کر گزرتا ہے۔

یہ سارے بچے ماشاءاللہ بہت لائق ہیں جو چند میل کے فاصلے پر واقع اوکاڑہ شہر کے بہترین سکولوں میں پڑھتے ہیں، جہاں امتحانات میں وہ نمایاں پوزیشن لیتے ہیں۔ میرے ماموں زاد بھائی خالد جاوید کی چھوٹی بیٹی ماہ نورشاید حسن شہزاد سے ایک دوسال بڑی ہے، وہ بھی کم لائق نہیں ہے، لیکن وہ بہت شرمیلی ہے، پاس کم آتی ہے۔ میرے ماموں کے خاندان کی تیسری نسل کے نوجوان گرم خون رکھنے کے باعث کبھی کبھار دوسروں کی بجائے آپس میں ہی الجھ پڑتے ہیں، جس کا اثر بڑوں تک جاپہنچتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس خاندان میں میرا اثر رسوخ ہے اور وہ ہمیشہ میری بات مان لیتے ہیں۔ مَیں گیا تو اس مقصد کے لئے تھا کہ اس گاﺅں میں صاف پانی کی سپلائی کے بارے میں معلومات حاصل کروں اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے اپنا اثرورسوخ استعمال کروں....اس کا ذکر مَیں بعد میں کروں گا ، لیکن مجھے اس سے پہلے اس خاندان کے اندر صلح صفائی کا مسئلہ حل کرنا پڑ گیا۔

مَیں اس مرتبہ خلاف معمول اوکاڑہ شہر میں اپنے دو چھوٹے بھائیوں، محمود اور سلطان اور پھوپھی زاد بھائی میاں محمد منیر (پارلیمانی سیکرٹری ریونیو پنجاب ) کے گھر ان کی بہن اور میری کزن اور بھابھی زرینہ کے پاس ٹھہرنے کی بجائے صرف سرسری سی ملاقات کرسکا، کیونکہ میرے پاس صرف دو دن تھے جو مَیں نے گاﺅں میں وہاں کے مسائل کرنے میں صرف کردیئے۔ میرے ماموں کے اس گھرانے کے سربراہ ڈاکٹر عبدالخالق ہیں۔ باقی دو بڑوں میں ان کا سب سے چھوٹا بھائی خالد جاوید اور منجھلا بھائی اور میرا عزیز ترین دوست عبدالواحد چودھری شامل ہیں۔ اس گھرانے میں کوئی مسئلہ پیدا ہوتو مجھے اس کی شدید تکلیف ہوتی ہے۔ مجھے صلح صفائی کرانے کے لئے دودنوں میں تین نشستیں کرنا پڑیں اور پھر بالآخر میں سرخرو ہوکر واپس لوٹا۔

حسن شزاد بڑوں کے تمام مصالحتی اجلاسوں میں میرے ساتھ موجود رہا اور میری باتوں کو دلچسپی سے سنتا رہا۔ مَیں بڑوں کو اتفاق سے رہنے، صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے اور ایک دوسرے سے درگزر کرنے کا سبق پڑھارہا تھا اور یہ بچہ میری باتیں سن کر اثبات میں سرہلا رہا تھا۔ بڑوں نے میری لیکچر کا اثر لیا، لیکن مجھے یقین ہے کہ اس بچے نے بھی مجھ سے سنے ہوئے تمام اصول اپنے پلے ضرور باندھے ہوں گے۔ اس گاﺅں کے لوگوں نے ایک مسجد کی موجودگی میں ایک اور مسجد بنالی ہے، لیکن یہی پیسہ وہ صاف پانی کا نیا سسٹم تیار کرانے پر لگادیتے تو انہیں حکومت سے مدد لینے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔ پانی کی موجودہ سپلائی میں آلودگی آچکی ہے اور گاﺅں کے لوگ ٹیوب ویلوں سے پانی لاکر استعمال کرتے ہیں، جسے کچھ لوگت ترددکرکے ابال کر پیتے ہیں۔

بیس برس قبل پانی کی سپلائی کے لئے گاﺅں میں کمیونٹی کی ایک کمیٹی بنی تھی ، جس میں میرے رشتے کے بھانجے عامر شہزاد اور رشتے کے بھتیجے برہان اور کامران شامل تھے۔ پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے گاﺅں کے مرکز میں ایک ٹربائن لگائی اور تمام گھروں میں پانی کی سپلائی کے لئے پائپ لائن بچھائی۔ پانی کی سپلائی ، انتظام اور اس کی بلنگ اس کمیٹی کے سپرد تھی۔ یہ سسٹم اپنی عمر پوری کرچکا ہے۔ اب ضرورت یہ ہے کہ نئی ٹربائن اور نئے پائپ لگاکر پانی کے حصول اور تقسیم کا نیا نظام قائم کیا جائے۔ آج اتوار کو 16فروری کی رات یہ کالم لکھتے ہوئے مَیں سوچ رہا ہوں کہ یہ مسئلہ کیسے حل ہوگا ؟ میرے پاس لاہور میں صرف 17اور 18فروری کے دودن باقی ہیں، کیونکہ 19فروری کی شام میں واپس واشنگٹن جارہا ہوں۔ مَیں نے حکومت پنجاب کے پریس سیکرٹری شعیب بن عزیز سے وعدہ لے رکھا تھا کہ وہ دودن میرے لئے مخصوص رکھیں گے اور میرے ہمراہ پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے کرتا دھرتا افراد کے پاس جائیں گے ،مگر وہ وزیراعلیٰ کے ساتھ 17فروری کو چین جارہے ہیں اور جب وہ چین سے واپس آئیں گے تو مَیں واشنگٹن جاچکا ہوں گا۔

میرا سوچ کا پراسیس جاری ہے کہ کس طرح مَیں واپس جاکر اس مسئلے کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے حال کروں گا ؟مَیں ہتھیار ڈالنے اور ہارماننے والوں میں نہیں ہوں۔ اگر یہ کام نیک ہے تو اللہ ضرور اس کے حل کا سبب پیدا کرے گا۔ مجھے تھوڑی مایوسی ضرور ہوئی ہے، لیکن مجھے کچھ خوشی بھی ہے کہ مَیں نے اپنے ماموں کی تیسری نسل کے نمائندوں حسن شہزاد ، حسین شہزاد ، فاطمہ ، ابوبکر اور ماہ نور کو خوشبو کا جو پیغام دیا ہے وہ بالآخر پھیل کررہے گا۔

مزید : کالم