ایران کی طرف سے پاکستانی سرحد عبور کرنے کی دھمکی

ایران کی طرف سے پاکستانی سرحد عبور کرنے کی دھمکی

ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر پاکستان نے اس کے مغوی سرحدی محافظوں کی بازیابی کے لئے کوئی کارروائی نہ کی تو ایرانی فورسز پاکستان کے اندر داخل ہو کر فوجی کارروائی کر سکتی ہیں، ایرانی وزیرداخلہ عادل رضا رحمانی نے کہا ہے کہ ایران نے پاکستان کو اپنی سرحد پر سیکیورٹی بڑھانے کی درخواست کی ہے، اگر پاکستان سیکیورٹی فراہم نہ کر سکا تو ایرانی فورسز سرحد عبور کرکے پاکستان میں داخل ہو جائیں گی،سیکیورٹی کے معاملے پر پاکستانی موقف کا انتظار نہیں کریں گے اور یہ غور کرنے پر مجبور ہوں گے کہ اپنے تحفظ کے لئے مداخلت کا حق استعمال کریں اور نیا سیکیورٹی نظام تیار کریں۔وزیر داخلہ نے کہا پاکستان کو معاملہ سنجیدگی سے لینے کے لئے کہا تھا مگر پاکستان نے کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔پاکستان سے وزارتِ خارجہ کی سطح پر تین میٹنگیں ہو چکی ہیں لیکن تاحال مغویوں اور اغوا کاروں کا سراغ نہیں مل سکا۔انہوں نے کہا پاکستان اور افغانستان میں عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔

کچھ عرصہ قبل جنداللہ گروپ کے عسکریت پسندوں نے ایرانی سیکیورٹی فورسز کے اہل کاروں کواغوا کرکے قتل کردیا تھا،جس کے جواب میں ایران نے جنداللہ گروپ کے کچھ عسکریت پسند گرفتار کر لئے تھے اور انہیں موت کی سزائیں سنانے کے بعد پھانسی دے دی تھی، پاکستان میں جو عسکریت پسند مختلف علاقوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان کے اندر دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، ان میں سے بہت سے غیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔افغانستان میں بھی غیر ملکی گروہ سرگرم ہیں۔ایران کی سرحد کے ساتھ جنداللہ گروپ کی سرگرمیوں کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان بدمزگی کی فضا پیداہونا کوئی اچھی بات نہیں۔ایران اور پاکستان نہ صرف ہمسائے ہیں، بلکہ امت مسلمہ کا اہم حصہ ہیں دونوں ملک اسلامی اخوت کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں، اس لئے یہ بہت اہم بات ہے کہ دونوں ملکوں میں کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو، جو گروہ اس سرحد پر سرگرم ہیں، وہ ان تمام حقائق کے باوجود ایرانی سرحدی محافظوں کے خلاف کارروائیاں اسی لئے کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں میں تعلقات خراب کرکے خود فائدہ اٹھا سکیں۔

پاکستان کے ساتھ ایران نے گیس کی فروخت کا معاہدہ کیا تھا اور گیس کی فراہمی کے مرکز سے پاکستانی سرحد تک اپنے علاقے میں گیس پائپ لائن بھی بچھا دی تھی، پاکستان نے اپنے علاقے میں نواب شاہ تک گیس پائپ لائن سالِ رواں کے آخر تک مکمل کرنی ہے لیکن اس پراجیکٹ پر کام بروقت شروع نہیں ہو سکا۔کہا جاتا ہے کہ امریکہ اس پراجیکٹ سے خوش نہیں ہے اور اگر پاکستان نے اس منصوبے کو آگے بڑھایا تو اسے اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن عجیب اتفاق ہے کہ ایران اور امریکہ نے ایٹمی مسئلے پر اپنے باہمی اختلافات کافی حد تک کم کرلئے ہیں۔جواب میں امریکہ نے ایران کے خلاف پابندیاں نرم کردی ہیں اور اپنے بینکوں میں منجمد ایرانی اکاﺅنٹس بھی بحال کر دیئے ہیں۔امریکہ سے ایرانی جزیرے کیش تک فضائی سروس بھی شروع ہونے والی ہے جو عالمی سیاحوں کی دلچسپی کا اہم مقام ہے۔دونوں ملکوں میں تجارتی تعلقات بڑھانے پر بھی بات چیت جاری ہے ان حالات میں یہ بات بڑی عجیب لگے گی کہ امریکہ پاکستان کو تو پابندیوں کی دھمکی دے اور خود ایران کے ساتھ ایسے تجارتی تعلقات قائم کرے جن سے دونوں ملک فائدہ اٹھائیں۔

ایران اور پاکستان میں گیس پائپ لائن معاہدہ پیپلزپارٹی کے دور کے آخری ایام میں ہوا تھا، اس معاہدے کی بعض شرائط کے تحت اگر پاکستان اس پائپ لائن کو بروقت مکمل نہیں کرتا تو اسے روزانہ کی بنیاد پر بھاری جرمانہ ادا نہ کرنا ہوگا۔جہاں تک امریکی پابندیوں کے خوف و خدشے کا مسئلہ ہے۔یہ کوئی اب پیدا نہیں ہوا جب یہ معاہدہ ہوا تھا ایران پر امریکی پابندیاں عائد تھیںاور اس وقت بھی یہ خدشہ بہرحال موجود تھا کہ اگر دونوں ملکوں میں گیس کی خریداری کا معاہدہ ہوا تو امریکہ ناراض ہوگا اور پاکستان کو پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔یہ خدشہ بھی بڑا واضح تھا کہ دنیا بھر کے بینک اس منصوبے پر سرمایہ کاری سے گریز کریں گے۔پاکستان کی طرف سے یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ سرمایہ کار بینک اس منصوبے پر سرمایہ کاری کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ایسے میں خدشہ ہے کہ مجوزہ پائپ لائن نہ صرف مکمل نہیں ہوگی، بلکہ پاکستان جرمانے کی زد میں بھی آسکتا ہے۔ایک اور بات یہ ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے باہمی تعلقات خوشگوار نہیں ہیں۔سعودی عرب کی بھی یہ خواہش ہے کہ پاکستان ایران سے گیس نہ خریدے اور پائپ لائن منصوبے سے الگ ہو جائے، ایسا کرنے کی صورت میں سعودی عرب نے پاکستان کو کچھ ترغیبات بھی دے رکھی ہیں۔

یہ صورت حال پاکستان کے لئے بہت ہی گھمبیر ہے۔اگر اس کے ایران کے ساتھ تعلقات کسی محاذ پر آگے بڑھتے ہیں تو سعودی عرب ناراض ہوتا ہے اور اگر سعودی عرب کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافہ ہوتا ہے تو ایرانی جبین شکن آلود ہو جاتی ہے۔یہ پاکستان کے لئے بہت ہی مشکل صورتِ حال ہے۔ایران کی جانب سے پاکستانی سرحد میں داخل ہونے کی دھمکی بھی ایسے وقت پر آئی ہے جب سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز پاکستان کے دورے پر تھے اور دونوں ملکوں میں تعاون بڑھانے پر بات چےت ہو رہی تھی، ایسے میں ایران نے جو سخت گیر موقف اپنایا یہ ایک دوست کی طرف سے اچھے روئیے کا اظہارنہ تھا، ممکن ہے ایران کو پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بڑھانے سے خوشی نہ ہوئی ہو اور اس کو خبردار کرنا ضروری سمجھاکہ سرحد پر ایران بھی بیٹھا ہے۔پاکستان اپنے قیام کے وقت سے لے کر آج تک بھارت کے ساتھ اپنی مشرقی سرحد کی حفاظت کے لئے دفاع پر بھاری اخراجات پرمجبور رہاہے۔اب گزشتہ ایک عشرے سے زائد عرصے سے افغانستان کے ساتھ سرحد بھی طالبان کی سرگرمیوں کی وجہ سے غیر محفوظ ہوگئی ہے۔وہ گروہ جو پاکستان سے ایران کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں، وہ بھی افغان حالات کی پیداوار ہیں،جنہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کی ہیں، خود افغانستان میں بہت سے ملکوں کے مفادات آپس میں ٹکراتے ہیں، ان کی وجہ سے خراب حالات کا ملبہ بھی پاکستان پر گرتا رہا ہے اور اب تک گر رہا ہے۔اگر ایران ان حالات میں پاکستانی سرحد عبور کرنے کی بات کرے گا تو اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات خرابی کی طرف ہی جائیں گے اور پاکستان کی تمام سرحدیں غیر محفوظ ہو جائیں گی۔ حکومتِ پاکستان کو ایران کے خدشات دور کرنے چاہئیں اور جو عناصر سرحد پر سرگرم ہیں ان کا قلع قمع کرنا چاہیے۔ایران کو تاریخی دیرینہ بھائی چارے کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ایران کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جو گروہ سرحد پر سرگرم ہیں وہ پاکستان کے دوست نہیںدشمن ہیں۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز کا احتجاج ....مطالبہ جائز ہے!

لاہور گزشتہ دو روز تک ٹریفک کے مسائل سے دوچار رہا۔ شاہراہ قائد اعظم پر آمدو رفت معطل ہونے کی وجہ سے ذیلی سڑکوں پر بوجھ پڑا تو ان پر ٹریفک جام بھی ہوئی اور گاڑیوں والے کئی کئی گھنٹے تک پھنسے رہے کئی مقامات پر تو ایمبولینس کو بھی رکنا پڑا۔ٹریفک کی یہ مشکلات اس مظاہرے اور دھرنے کی وجہ سے تھیں جو پنجاب بھر سے آنے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز کی طرف سے کیا گیا۔ پیر کو ان خواتین نے ناصر باغ سے فیصل چوک تک ریلی نکالی اور پھر یہاں دھرنا دے دیا۔ یہ دھرنا دوسرے روز بھی جاری رہا اور شہریوں کو پھر سے ان مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مطابق ان کی ملازمتیں عارضی ہیں۔ حکومت نے مستقل کرنے کے لئے یقین دہانی کرائی تھی لیکن یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا الٹا ان کو کئی ماہ سے تنخواہ بھی نہیں ملی جس کی وجہ سے وہ ڈیوٹی کرتے ہوئے بھی بے روزگار ہیں اور ان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان خواتین نے مزید کہا کہ حکومت نے اس حوالے سے قانون سازی کا کہا یہ بھی نہیں ہوئی۔انتظامیہ نے خواتین سے بات کر کے دھرنا ختم کرانے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔ چند خواتین بے ہوش بھی ہوئی تھیں۔جہاں تک لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مطالبات کا تعلق ہے تو یہ جائز ہیں۔ حکومت کی طرف سے ان کو مستقل کرنے کا وعدہ کیا گیا تو راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کا فرض بھی اسی کو نبھانا چاہئے۔ یہ امر بھی تعجب کا باعث ہے کہ دھرنا اسمبلی ہال کے سامنے ہو، اسمبلی کا اجلاس بھی جاری ہو، لاہور کی ٹریفک بھی بری طرح متاثر ہو چکی ہو اور کوئی ذمہ دار وزیر آ کر یہ دھرنا ختم نہ کرائے۔ وزیرقانون رانا ثناءاللہ کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ مشیر صحت کے ساتھ خود آتے اور اس سے قبل وزیر اعلیٰ سے منظوری حاصل کر لیتے تاکہ جو کہا جاتا اس پر عمل بھی ہوتا، حکومت کو ان خواتین کے مسائل کو فوراً حل کرنا چاہئے۔

لاہور میں ڈاکے، ناکام تھانوں کیخلاف کارروائی کیوں نہیں؟

لاہور کے چیف کیپٹل پولیس آفیسر نے چارج سنبھالتے وقت شہریوں کو تحفظ کا یقین دلایا اور یہ بھی اعلان کیا تھا کہ جس علاقے میں جرائم پر قابو نہ پایا گیا اس علاقے کے پولیس افسروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ اس پر آج تک عمل نہیں ہوا۔ شہر میں ڈاکوں اور ڈکیتی کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جبکہ راہزنی عام ہے۔ شہری خود کو غیر محفوظ متصور کر رہے ہیں، اب تو ڈیفنس جیسے پوش علاقے اور وحدت روڈ کی نواحی آبادیاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ابھی پیر کی شب مصطفےٰ ٹاﺅن کے عباس بلاک میں ڈاکہ زنی ہوئی پانچ مسلح ڈاکو ایک ریٹائرڈ استاد کے گھر میں گھس کر ان کو لوٹ کر آسانی سے فرار ہوگئے۔ مصطفےٰ ٹاﺅن میں یہ پہلی واردات نہیں یہاں تواتر سے ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتیں ہو رہی ہیں آج تک کسی ایک واردات کا بھی سراغ نہیں ملا۔ بتایا گیا ہے کہ جب سے تھانے کے موجودہ انچارج نے چارج سنبھالا یہ سلسلہ جاری ہے اور مصطفےٰ ٹاﺅن پولیس ناکامی سے دوچار ہے۔ اعلیٰ حکام کی طرف سے ابھی تک کوئی محکمانہ کارروائی نہیں ہوئی، متاثرین اور رہائشی سراپا احتجاج ہیں۔

مزید : اداریہ