شرح خواندگی میں اضافہ کے بغیر ملکی ترقی ممکن نہیں‘ اظہر محمود

شرح خواندگی میں اضافہ کے بغیر ملکی ترقی ممکن نہیں‘ اظہر محمود

لاہور (خبرنگار) غیر سرکاری سماجی تنظیم ”سیو دی ڈیزورنگ چلڈرن“ صوبائی دارالحکومت لاہور کے مختلف مقامات پر قائم 17 سے زائد نجی تعلیمی اداروں میں تقریباً 150 یتیم‘ نادار اور بے سہارا زیر تعلیم طلبہ کے تعلیمی اخراجات پر 2 سے اڑھائی لاکھ روپے ماہانہ خرچ کر رہی ہے۔ یہ بات سماجی تنظیم سیو دی ڈیزورنگ چلڈرن کے ڈائریکٹر اظہر محمود اور جنرل سیکرٹری میڈم ساجدہ منظور نے نجی تعلیمی اداروں کے سربراہوں کے ایک اجلاس میں بتائی۔ اس موقع پر بریفنگ کے دوران اظہر محمود نے کہا کہ شرح خواندگی میں اضافہ کے بغیر ملکی ترقی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے صاحب ثروت اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ شرخ خواندگی میں اضافہ کے سلسلہ میں اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے حکومت کا ہاتھ بٹائیں۔

 اور بے سہارا یتیم و نادار طلبہ کے تعلیمی اخراجات کو اپنے ذمہ لیں تاکہ معاشرہ کے ان پسماندہ بچوں کو بھی ملکی ترقی کے قومی دھارے میں شامل کیا جاسکے۔

 انہوں نے نجی تعلیمی اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ مالی امداد کے مستحق طلبہ کی تعلیم و تربیت میں ہر طرح کی معاونت اور مدد کریں۔ اظہر محمود نے اجلاس کو بتایا کہ ان کی تنظیم پنجاب یونیورسٹی کے فارغ التحصیل پر قائم ہے۔ جس کے صدر پروفیسر محمد ثقلین جبکہ میڈم ساجدہ منظور اسکی جنرل سیکرٹری ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں کے سربراہوں کے اجلاس سے پنجاب ماڈل (ویلفیئر) ہائی سکول کوثر کالونی کیو بلاک کی پرنسپل میڈم شاہینہ نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے اجلاس میں نادار بچوں کی تعلیم و تربیت کے بارے مختلف تجاویز بھی پیش کیں تاکہ ان طلبہ کی تعلیمی استعداد کار کو بہتر بنا کر ملک کی شرح خواندگی میں اضافہ کو ممکن بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال لاکھوں بچے مالی سکت اور وسائل نہ رکھنے کی بناءپر سکول جانے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چائلڈ لیبر میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اور جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے۔ میڈم شاہینہ نے کہا کہ شرح خواندگی میں اضافہ کے بغیر زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی ناممکن ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4