سیشن کورٹ اور ایوان عدل میں وکلاءکی تعدادبڑھنے سے چیمبرز اور برآمدے کم پڑ گئے

سیشن کورٹ اور ایوان عدل میں وکلاءکی تعدادبڑھنے سے چیمبرز اور برآمدے کم پڑ گئے

لاہور(نامہ نگار) سیشن کورٹ اور ایوان عدل میں وکلاءکی تعدادبڑھنے سے چیمبرز اور برآمدے کم پڑ گئے جس کے باعث وکلاءکھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہوگئے۔لاہور بار کے صدر چودھری اشتیاق احمد نے پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل سے مزید لائسنس جاری نہ کرنے کی استدعا کردی ہے۔صوبائی دارالحکومت میں اس وقت پرانے اور نئے آنے والے وکلاءکی تعداد تقریبا 18ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جس کی وجہ سے وکلاءبرادری کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔اس حوالے سے لاہور بار کے صدر چودھری اشتیاق احمد نے نمائندہ"پاکستان"سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے صرف پنجاب یونیورسٹی میں لاءپڑھایا جاتا تھا لیکن اب مختلف پرائیویٹ کالجوں میں بھی یہ پڑھایا جارہا ہے جس کی وجہ سے وکلاءکی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل سے اپیل ہے کہ مزید لائسنس جاری نہ کئے جائیں کیونکہ پہلے ہی وکلاءکو چیمبرزنہ ہونے کی وجہ سے جگہ نہ ملنے کے باعث انتہائی دشواری کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4