مقتولین کو ہتھوڑے اور سوئے مارے گئے ، بڑے بھائی نذیر کے جسم پر کوئی نشان نہیں تھا

مقتولین کو ہتھوڑے اور سوئے مارے گئے ، بڑے بھائی نذیر کے جسم پر کوئی نشان نہیں ...

لاہور(زاہد علی خا ن ،ملک خےا م رفےق،شعےب بھٹی)جو ہر ٹاﺅن مےں اےک ہی خا ندان کے قتل ہو نے والے 8افراد مےں سب سے بڑ ے بھا ئی نذےر کے جسم پر کو ئی نشان نہےں تھا جبکہ دےگر افراد کو ہتھو ڑے اور سوئے ما ر ے گئے جا ئے وقوعہ پر اےک سوئی بھی ملی ہے۔جبکہ مقتو لےن کے جسموں پر سوئے اور ہتھوڑے کے متعدد نشانات ہیں ۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ ملزموں تک پہنچ گئی ہے ۔ اور جلد ہی اس سانحہ کا سراغ لگالیا جائے گا تاہم پولیس حکام اس حوالے سے پریشان ہیں کہ سب کو بے انتہائی سے قتل کیا گیا جبکہ نذیر کے جسم پر زخم کو نشان کیوں نہیں ہے ۔ جس سے پولیس یہ بھی شبہ کرتی ہے ممکن ہے کہ کسی ایسے شخص نے ان کو قتل کیا اور بعدازں خود کشی کرلی وہ شخص کون اس بارے میں تفتیش کے بعد صورتحال سامنے آئے گی۔ گھر سے کوئی ایسی چیز چوری نہیں ہوئی جس سے یہ ظاہر ہو یہ سانحہ ڈکیتی کے دوران ہوا تاہم ایس پی سی آئی اے عمرورک کا کہنا ہے کہ بعض چیزوں سے اس شبہ کو بھی تقویت ملتی ہے کہ ڈکیتی کے دوران ان افراد کو قتل کیا گیا ۔ اس حوالے سے ایس ایس پی انوسٹی گیشن عبدالرب کا کہنا ہے کہ جلد اس واردات کا سراغ لگا لیا جائے گا اور یہ واردات کسی ایسے شخص نے کی یا کروائی جو ان کا انتہائی قریبی ہے پولیس کاکہنا ہے کہ یہ قتل کی یہ وارادات گزشتہ رات 12 بجے کے بعد ہوئی ۔ اور قاتل کافی دیر تک گھر میں موجود رہے تاہم وہ کیسے اور کس راستے سے فرار ہوئے ابھی تک کوئی رائے قائم نہیں کی جاسکی ۔ یہ بات حیران کن ہے کہ گھر والوں کا ارد گرد کے لوگوں سے زیادہ ملنا جلنا نہیں تھا تاہم کن افراد میں دروازہ کھلوایا اور وہ گھر کے اندر داخل ہوئے کیا یہ اہلخانہ کے قریبی رشتے دار تھے یا جاننے والے تھے ۔ یا انہوں نے زبردستی گھر میں داخل ہوکرتمام افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ کیونکہ گھر والے تو موجود نہیں ہے اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں اور جو لوگ اندر آئے اور وہ ان افراد کو قتل کر کے روح پوش ہوگئے ۔ گھر کے اندر پولیس نے تقریباً4گھنٹے تک کرائم سین کا جائزہ لیا۔ اور انگلیوں کے نشانات محفوظ کئے سی سی پی لاہور شفیق گجر ڈی آئی لاہوررانا عبدالجبار ایس ایس پی انوسٹی گیشن عبدالرب ایس پی سی آئی اے عبدالورک 30افسران اور متعدد اہلکار گھر کے اندر موجود رہے اور فرانزک لیبارٹری کی ٹیم تحقیقات کرتی رہی جن افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا وہ اپنے اپنے کمروں موجود تھے ایک بچہ جس نے سکول کی یونیفارم پہن رکھی تھی اس کی کتابیں بکھری پڑی ہیں جبکہ قتل ہونے والے پروفیسر زاہد کی لاش بیڈ سے گری ہوئی تھی ۔ یوں لگتا ہے اس نے مزاحمت کی تاہم وہ موت کے آگے بے بس ہوگیا۔ اس پولیس افسر کو کہنا ہے مقتولین کے پاس سفید رنگ کا پاﺅڈر بھی چرک کر گیا تھا جو انہیں یا تو بے ہوش کرنے کے لئے تھا یا واردات کا طریقہ کار تبدیل کرنے ایک انداز ہوسکتا ہے ۔جبکہ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ تمام افراد کو پہلے بے ہوش کیا گیا یہ بھی ممکن ہے کہ ان کو کھانے میں ایسی چیز دی گئی کے وہ بے ہوش ہوگئے جب وہ بالکل سد ہوگئے چھڑی ہتھوڑا اور سوے سے حملہ کرکے قتل کردیا گیا۔گھر کی تمام اشیا کے بھی نشانات لئے گئے ہیں پولیس اس بارے میں پر امید ہے جلد ہی ملزموں کو گرفتارکرلیاجائے گا۔

لاشیں

مزید : صفحہ اول