تجزیہ، چودھری خادم حسین حکومت نے تحمل کا ثبوت دیا، پھر سے مشاورت شروع!

تجزیہ، چودھری خادم حسین حکومت نے تحمل کا ثبوت دیا، پھر سے مشاورت شروع!

پاک فوج کی طرف سے کالعدم تحریک طالبان کے اس الزام کی سختی سے تردید کر دی گئی ہے۔ تحریک کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے الزام لگایا تھا کہ ان کے زیر حراست کارکنوں کو قتل کی جا رہا ہے۔ فوج کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بالکل بے بنیاد الزام ہے، جس کا مقصد کالعدم تحریک طالبان کی پُرتشدد کارروائیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔ پاک فوج میں مہمند ایجنسی میں23ایف سی کے اسیر ارکان کو شہید کرنے کے عمل پر سخت غصہ پایا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے ہی حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے طالبان مذاکراتی کمیٹی سے ہونے والی ملاقات بھی منسوخ کی۔ وزیراعظم نے دورہ کراچی ملتوی کیا اور گزشتہ روز اس حوالے سے اراکین کمیٹی اور وزیر داخلہ سے طویل مشاورت بھی کی۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی طرف سے یہ بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اس بہیمانہ عمل کی پُرزور مذمت کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

ان سطور میں پہلے ہی واضح کیا گیا تھا کہ مولانا سمیع الحق اور ان کے نظریاتی ساتھی معہ کالعدم تحریک طالبان وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور حکومت کی مفاہمانہ روش کو اپنی فتح اور حکومت کی کمزوری سے تعبیر کر رہے ہیں، حالانکہ میاں محمد نواز شریف نے نیک نیتی کے ساتھ نہ صرف کل جماعتی کانفرنس میں اپنے نقطہ نظر کی تائید حاصل کی، بلکہ عسکری قیادت کے ساتھ بھی لائحہ عمل طے کیا اور امن کو ایک اور موقع دینے کے لئے بات چیت اور مذاکرات کی راہ اپنائی، ساتھ ہی خود پہل کی اور اپنی طرف سے کمیٹی کا بھی اعلان کر دیا۔ تاہم کالعدم تحریک طالبان کی طرف سے جو کمیٹی نامزد کی گئی وہ خود ان میں سے نہیں تھی، اس کے باوجود بات آگے بڑھائی گئی، لیکن جواب مثبت نہیں آیا اور اب ایک بڑا کام دکھا دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں کالعدم تحریک طالبان کی طرف سے نامزد کی گئی کمیٹی کے سربراہ تو اپنی جگہ ان کے ترجمان مولانا یوسف شاہ ہی کا انداز فاتحانہ ہو گیا جبکہ مولانا سمیع الحق نے بھی اپنی پرانی روش اختیار کر لی جو ماضی میں کرتے رہے اور دینی حلقوں سے بھی کٹ گئے تھے۔

کالعدم تحریک طالبان کے طرز عمل کی وجہ سے مذاکرات میں تعطل آ گیا، اس کے باوجود حکومت کی طرف سے برداشت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور فوری طور پر ناپسندیدگی اور مذمت کرنے کے باوجود عملی طور پر کوئی اقدام نہیں کیا گیا اور آپریشن کا فیصلہ بھی نہیں کیا، حالانکہ ان پراندرونی طور پر بہت زیادہ دباﺅ بڑھ گیا۔ اب تو عمران خان کو بھی مذمت کرنا پڑی ہے، لیکن سید منور حسن بہت ثابت قدم ہیں، اپنے موقف سے نہیں ہٹے۔ انہوں نے صرف افسوس ہی کا اظہارکیا اور ساتھ ہی سازش تھیوری پر زور دیا ہے۔ ادھر مولانا سمیع الحق اور مولانا یوسف کی مشترکہ پریس کانفرنس نے جلتی پر تیل کا کام کیا، ان کے دھمکی آمیز لہجے کو پوری قوم نے بھی ناپسند کیا کہ اگر مذاکرات نہ ہوئے اور آپریشن کیا گیا تو بہت خونریزی ہو گی اور پورے ملک میں آگ بھڑکے گی۔

ان حالات میں دو باتیں واضح ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ خود شدت پسند حضرات میں وہی قبائلی رنجشیں پائی جاتی ہیں اور ان کے اندر بھی اتفاق نہیں ہے، جبکہ اب قوم کے اندر مذاکرات کے ذریعے امن کی جو خواہش پیدا کی گئی تھی وہ مایوسی میں بدل گئی ہے اور مجموعی طور پر بہت ٹھنڈے مزاج کے لوگ بھی شہیدوں کی شہادت کا بدلہ لینے کی بات کرنے لگے ہیں۔ ان حالات میں آئندہ کیا ہونے والا ہے اس کی پیشگوئی تو نہیں کی جا سکتی، لیکن ایک بات بہت واضح ہے کہ حکومت کو پھر سے مشاورت کا عمل اپنانا اور قوم کو ذہنی طور پر تیارکرنا ہو گا کہ کسی بھی سخت اقدام کے جواب میں دہشت گردی ہو گی جو صرف اور صرف مجموعی قومی تعاون اور اتفاق رائے سے ختم کی جا سکے گی۔

مزید : صفحہ اول