لاہور ہائیکورٹ سے سزائے موت کا قیدی بری،10 سال سزا بھگتی

لاہور ہائیکورٹ سے سزائے موت کا قیدی بری،10 سال سزا بھگتی

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں قائم دورکنی بنچ نے10سال قبل انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سزائے موت پانے والے ملزم کوبری کر دیا۔ملزم بشیر بھٹی کی اپیل کے دوران لاہور ہائی کورٹ میں دو مرتبہ سماعت ہوئی ۔بشیر بھٹی کی اپیل کی پہلی بار سماعت 2009میں لاہور ہائی کورٹ کے پی سی او ججز پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کی تھی اور اسے بری کرنے کا فیصلہ سنایا تھا تاہم تحریری فیصلہ جاری ہونے سے قبل ہی سپریم کورٹ کے 31جولائی 2009کے فیصلے کی روشنی میں ڈویژن بنچ کے دونوں جج فارغ ہوگئے اور ملزم کی بریت اور رہائی کا معاملہ لٹک گیا ۔ پانچ سال بعد جنوری 2014میں کیس کی دوبارہ سماعت جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی کی سربراہی میں قائم ڈویژن بنچ کے روبرو ہوئی جس نے گزشتہ روز ملزم کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے اسے بری کردیا۔فاضل بنچ نے قرار دیا کہ وقوعے کے وقت ملزم جیل میں قید تھا اس لیے صرف اس خدشہ پر کہ اس نے قتل کی سازش کی سزا کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ملزم کو2004میں انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے سزائے موت دی گئی تھی جس کے خلاف اس نے یہ اپیل دائر کی تھی۔

قیدی بری

مزید : صفحہ آخر